کیا دین کو ایک مکمل نظام زندگی کہنا غلط ہے کیا حقیقت میں دین صرف انسان کے تزکیہ نفس اور اخلاقی اصلاح کا ذریعہ ہے جبکہ معاشرتی سیاسی اور معاشی سسٹمز انسان خود اپنے علم عقل تاریخ جغرافیہ اور تہذیب کے مطابق بناتے اور بدلتے رہتے ہیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر معاشرے کے اخلاق درست ہو جائیں تو انسانوں کا بنایا ہوا ہر سسٹم کامیاب ہو سکتا ہے اور اگر اخلاق خراب ہوں تو کوئی بھی سسٹم کامیاب نہیں ہو سکتا یہ وہی پرانا سیکولر چورن ہے جسے آج نئے ریپر میں بیچنے کی کوشش کی جا رہی ہے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دین کا کام صرف انسانوں کا تزکیہ نفس ہے کوئی مکمل نظام یا ضابطہ حیات دینا نہیں سسٹم تو انسان اپنی عقل تاریخ اور جغرافیے کے مطابق خود بناتے ہیں یہ بات بظاہر بڑی دانشورانہ لگتی ہے لیکن حقیقت میں یہ صرف ایک مرعوب ذہن کی بازگشت ہے یہی وہ فکر ہے جس نے صدیوں سے اسلام کو چرچ کی طرح مسجد تک محدود کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس مغالطے کو ذرا عقل تاریخ اور قرآن تینوں کی روشنی میں دیکھتے ہیں کائنات کا ہر ذرہ سسٹم کے تحت ہے سب سے پہلے ایک بنیادی سوال سسٹم کہتے کسے ہیں سسٹم کا مطلب ہے قوانین اصولوں اور طریقہ کار کا ایسا مربوط ڈھانچہ جس کے ذریعے کوئی چیز منظم طور پر چلتی ہے اب کائنات کو دیکھ لیجیے سورج اور چاند کی گردش زمین کا مدار موسموں کا بدلنا بارش کا پورا واٹر سائیکل ایٹم کے اندر الیکٹران کی حرکت کہکشاؤں کی گردش یہ سب کیا ہے یہ سب کائناتی سسٹم ہے قرآن انسان کو بار بار اسی نظم کی طرف متوجہ کرتا ہے یعنی خدا ہمیں کائنات کا نظام دکھا کر نظام کی اہمیت سکھا رہا ہے اب سوال یہ ہے جو خدا ایٹم سے کہکشاں تک ہر چیز کے لیے نظام بنا رہا ہے تو کیا وہ انسان جو کائنات کی سب سے اہم مخلوق ہے اسے بغیر کسی سسٹم بغیر نظام کے چھوڑ دے گا یعنی وہ خدا جو ہر چیز مربوط سسٹم سے چلا رہا ہے دین اسلام کو بغیر کسی سسٹم کے چھوڑ دے گا یہ بات عقل قبول نہیں کر سکتی انسانی زندگی خود سسٹمز سے چلتی ہے دنیا کی کوئی چیز سسٹم کے بغیر نہیں چلتی ایک چھوٹی سی مثال دیکھیں۔
اگر دکان میں حساب کتاب کا نظام نہ ہو سپلائی کا نظام نہ ہو قیمتوں کا اصول نہ ہو تو دکان ایک ہفتے بھی نہیں چل سکتی فیکٹری فیکٹری کیسے چلتی ہے پروڈکشن سسٹم کوالٹی کنٹرول مینجمنٹ سسٹم سپلائی چین یہ سب سسٹم ہے ہسپتال میں مریضوں کا ریکارڈ سسٹم ڈاکٹرز کا ڈیوٹی سسٹم ایمرجنسی سسٹم یونیورسٹی امتحان سسٹم داخلہ سسٹم گریڈنگ سسٹم ریاست قانون عدالت پولیس معیشت یہ سب سسٹم ہیں اب سوال یہ ہے جب ایک چھوٹی سی دکان بھی سسٹم کے بغیر نہیں چل سکتی تو انسانی تہذیب بغیر سسٹم کے کیسے چلے گی اور اگر انسانی زندگی کو سسٹم چاہیے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ خدا کا دین کوئی سسٹم نہ دے بس تزکیہ کرو یہ ادھورا تصور ہے اسلام صرف تزکیہ نہیں سکھاتا ہے سوال یہ ہے تزکیہ کا مطلب کیا ہے دل میں خدا کا خوف اخلاقی پاکیزگی نفس کی اصلاح لیکن یہ کوئی خانقاہی ورزش نہیں تزکیہ کا مقصد یہ ہے کہ انسان عدل پر مبنی معاشرہ قائم کر سکے اگر ایک شخص بہت متقی ہو تہجد گزار ہو لیکن وہ جا کر سودی بینک میں کام کرے یا جاہلی قوانین کے تحت عدالت میں فیصلے کرے تو اس تزکیے کا فائدہ کیا ہوا تزکیہ نظام یا سسٹم کی بنیاد ہے متبادل نہیں خلافت کا تصور سب کچھ واضح کر دیتا ہے قرآن کہتا ہے انسان زمین پر خلیفہ ہے خلیفہ کا مطلب کیا ہے خلیفہ کا مطلب ہے اصل مالک کے قانون کے مطابق دنیا کا انتظام چلانے والا نمائندہ اگر انسان اپنی مرضی سے سسٹم بنا رہا ہے تو وہ خلیفہ نہیں رہا وہ خود الٰہ بن بیٹھا ہے قرآن میں پورا سماجی اور معاشی نظام موجود ہے اگر دین صرف تزکیہ ہوتا تو قرآن میں یہ سب کیوں ہوتا وراثت کے ریاضیاتی قوانین زکوٰة کا معاشی نظام سود کی حرمت نکاح و طلاق کے قوانین تجارت کے اصول قتل کے لیے قصاص چوری کی سزا یتیموں کے حقوق ریاستی معاہدات کے اصول جہاد کے اصول معاہدوں کے اصول فارن پالیسی کے اصول یہ سب کیا ہے یہ سب ریاستی اور سماجی سسٹم یا نظام کے قوانین ہیں۔
اسلام اصول دیتا ہے طریقہ انسان طے کرتا ہے یہاں ایک اہم بات سمجھنی چاہیے اسلام ہر چھوٹی چیز کی تفصیل نہیں دیتا اسلام دیتا ہے بنیادی اصول مثلا معیشت میں سود حرام دولت چند ہاتھوں میں جمع نہ ہو سیاست میں حاکمیت اللہ کی نظام میں شورائیت معاشرت میں عدل اور حیا خاندان کا تحفظ اب ان اصولوں کو جدید دور میں کیسے نافذ کرنا ہے یہاں انسان کو اجتہاد کی آزادی دی گئی ہے مثلا اسلامی بینکنگ کا ماڈل پارلیمنٹ کا انتخابی نظام سائبر کرائم کے قوانین یہ سب انسان بنا سکتا ہے لیکن بنیاد وہی الٰہی اصول پر ہوں گے انسانی عقل کے سسٹمز کی تاریخ یہ ہے کہ جب انسان نے خود سسٹم بنانے کی کوشش کی تو کیپٹلزم آیا جس نے دولت چند ہاتھوں میں جمع کر دی کمیونزم آیا جس نے انسان کی آزادی ختم کر دی فاشزم آیا جس نے انسان کو ریاست کا غلام بنا دیا یہ سب اس لیے ہوا کیونکہ انسانی عقل محدود ہے اللہ کا علم تاریخ سے آزاد جغرافیے سے آزاد تعصب سے آزاد اسی لیے اس کا دیا ہوا نظام محفوظ اور متوازن ہے اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام سسٹم ہے یا نہیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ کچھ لوگ اسلام کو صرف مسجد عبادات روحانیت تک محدود کرنا چاہتے ہیں اور باقی سیاست معیشت قانون ریاست اور تمام اجتماعی معاملات کو امریکہ و اسرائیل کے حوالے کرنا چاہتے ہیں یعنی سیکولر و لبرل فلسفے کے حوالے کرنا چاہتے ہیں یہی سیکولرازم ہے جب مسلمان دنیا میں آئے تو ان کا پیغام کیا تھا صحابی ربعی بن عامر نے رستم کے دربار میں کہا تھا اللہ نے ہمیں بھیجا ہے تاکہ ہم انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں لے آئیں یہی اسلام کا اصل مشن تھا اسلام کوئی روحانی تھراپی یا خانقاہی مذہب نہیں اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو تزکیہ دیتا ہے جس سے وہ مرد مومن بنتا ہے ظالم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا ہو جاتا ہے اور پھر اسی انسان کے ذریعے عدل پر مبنی نظام قائم ہوتا ہے جو لوگ اسلام کو صرف عبادات تک محدود کرنا چاہتے ہیں ان کا مسئلہ دراصل ذہنی غلامی ہے اور جب تک یہ غلامی باقی ہے اسلام کا مکمل تصور سمجھ میں نہیں آ سکتا۔











