مارچ 1971ء کا مہینہ اس لحاظ سے تاریخی مانا جاتا ہے کہ متحدہ پاکستان کی انتہائی طاقتور مقتدرہ نے صرف ایک اعلان کے ذریعے ہی اپنے ملک کے ایک بڑے حصے، سابق مشرقی پاکستان پر ”قبضہ” کر لیا تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے اِس ماہِ رواں، اکتوبر 2026ء میں ہماری اْسی مقتدرہ نے موجودہ پاکستان کے شمال مغربی صوبے، خیبر پختونخواہ پر قبضے کا فرمان جاری کر کے، اْس کے وسائل کو اپنی ”محفوظ” تحویل میں لے لیا ہے، جس کے نتیجے میں پیدا ہونیوالی صورتحال نے ایک بار پھر پرانے زخموں کو تازہ کر دیا ہے اور اسی تناظر میں تاریخی حقائق کا جائزہ لینا ناگزیر ہو گیا ہے۔ جس طرح آجکل اشرافیہ ہمارے پختون بھائیوں کو ”جنگلی” اور ”جاہل” سمجھتی اور کہتی ہے، بالکل اسی طرح مشرقی پاکستان کے ہمارے بنگالی بھائیوں کو ریاستِ پاکستان پر ایک بڑا بوجھ سمجھا جاتا تھا۔ ہمارا بکاؤ میڈیا، آج کی طرح ان دنوں بھی مقتدرہ کا بھونپو بن کر وہی راگ الاپتا تھا جس کیلئے اسے سرکاری اشتہار ملتے تھے۔ ایک منتخب حکومت کے خاتمے کے فوراً بعد، اسلام آباد میں مقیم امریکی ناظم الامور کا دورہ پشاور بڑا ہی معنی خیز لگتا ہے۔ اس پس منظر میں احمد فراز کے یہ اشعار ان پیشہ ور قاتلوں کیلئے کہے گئے تھے جو حالات کی اس سنگین خرابی کی عکاسی کرتے ہیں:
سینہ چاکان مشرق بھی اپنے ہی تھے
جن کا خوں منہ پہ ملنے کو تم آئے تھے
مامتاؤں کی تقدیس کو لوٹنے
یا بغاوت کچلنے کو تم آئے تھے
ان کی تقدیر تم کیا بدلتے مگر
ان کی نسلیں بدلنے کو تم آئے تھے
اْس کا انجام جو کچھ ہوا سْو ہوا
شب گئی خواب ہائے پریشاں گئے
پاکستان کی بیورو کریسی کے ایک ”تاریخی” رکن قدرت اللہ شہاب نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب، شہاب نامہ میں لکھا ہے کہ سابق مشرقی پاکستان میں مقتدرہ کے رویوں کی وجہ سے وہ اتنے مایوس ہوئے کہ استعفیٰ دے کر ہالینڈ جا بسے۔ مارچ 1971ء کے شدید سیاسی بحران کے دوران، اتمامِ حجت کیلئے وہ ایک مرتبہ پھر ڈھاکہ آئے اور جنرل یحیٰ خان سے گورنر ہاؤس میں ایک میٹنگ کے دوران پوچھا کہ “مشرقی پاکستان کے حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں، آپ کا کیا پلان ہے؟” تو یحییٰ خان نے نہایت فخر اور غرور سے جواب دیا کہ: ”تم فکر مت کرو، بنگالیوں کی اتنی جرات نہیں کہ وہ ہمارے سامنے کھڑے ہو سکیں۔ میں نے سب بندوبست کر رکھا ہے۔”
شہاب صاحب نے انہیں خبردار کرنے کی کوشش کی کہ عوامی جذبات اب قابو سے باہر ہو چکے ہیں اور اس کا واحد حل سیاسی مذاکرات اور پرامن انتقالِ اقتدار ہے، نہ کہ کوئی فوجی ایکشن۔ لیکن یحییٰ خان کسی بھی مخلصانہ مشورے کو سننے کے لیے تیار نہیں تھے اور وہ فوجی طاقت کے بل بوتے پر اس تحریک کو کچلنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ خیبر پختونخواہ کے موجودہ سیاسی حالات، سقوطِ ڈھاکہ کی ہولناک تاریخ دہراتے ہوئے دکھائی رہے ہیں، اور انڈین مظالم کے پرانے نقوش اب نئے خطوں پر منکشف ہو رہے ہیں۔ دکھی دل کے ساتھ اپنے دوست شاعر، راجیش ریڈی کے یہ اشعار پیش کر رہا ہوں:
مرے دل کے کسی کونے میں اک معصوم سا بچہ
بڑوں کی دیکھ کر دنیا، بڑا ہونے سے ڈرتا ہے
نہ بس میں زندگی اس کے نہ قابو موت پر اس کا
مگر انسان پھر بھی کب خدا ہونے سے ڈرتا ہے
نسلی تعصب اور تفاخر کے حوالے سے میں کچھ زیادہ ہی حساس واقع ہوا ہوں۔ سندھ کے دور افتادہ دیہات میں بچپن گزارتے ہوئے مقامی سندھیوں کا ”پنجابی” فوج کے خلاف نفرت انگیز رویہ اور کراچی میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کرتے ہوئے ”متحدہ” کے بھیانک کردار کا تو مجھے براہِ راست تجربہ رہا ہے۔ اسی طرح امریکہ آکر گوروں کے کالوں کے ساتھ سلوک کا بھی براہِ راست مشاہدہ کیا۔ ایک غیر سرکاری رفاہی تنظیم کی سربراہی کرتے ہوئے سوات کے ملٹری آپریشن کے دوران، متاثرین کے کیمپوں میں کچھ وقت گزارا تو پختونوں کی بڑی تعداد کو بھی پاکستانی مقتدرہ اور امریکی سامراج کے خلاف بے پناہ نفرت کرتے ہوئے دیکھا۔ ان تجربات کی روشنی میں، سابق مشرقی پاکستان کے حالات، مجھے خیبر پختونخواہ پر بھی منطبق ہوتے نظر آرہے ہیں۔ 1971ء کا بھارت والا کردار، اب افغانستان ادا کرتے ہوئے نظر آرہا ہے۔ میرے خیال میں تعصب کی اس آگ کو بجھانے کا عین یہی وقت ہے۔ کچھ عرصے بعد حالات قابو سے باہر ہونے کے شدید خدشات موجود ہیں، جن کی روک تھام کے لیے فوری سیاسی اور مدبرانہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ احمد فراز کے کچھ مزید اشعار حاضر ہیں کیونکہ میرے لئے اس اندوہناک موضوع پر مزید لکھنا ممکن نظر نہیں آرہا:
جنکے جبڑوں کو اپنوں کا خوں لگ گیا
ظلم کی سب حدیں پاٹنے آئیں گے
مرگِ بنگال کے بعد مہران میں
شہریوں کے گلے کاٹنے آئیں گے
اب پشاور سے لاہور و مہران تک
تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو
کس شہنشاہ عالی کا فرمان ہے
کس کی خاطر ہے یہ کشت و خوں غازیو
کس کی ایما پر ہے اتنی غارتگری
کس کے آگے ہو تم سر نگوں غازیو
تم نے دیکھے ہیں جمہور کے قافلے
ان کے ہاتھوں میں پرچم بغاوت کے ہیں
پپڑیوں پر جمی پپڑیاں خون کی
کہہ رہی ہیں کہ یہ منظر قیامت کے ہیں
کل تمھارے لئے پیار سینوں میں تھا
اب جو شعلے اٹھے ہیں وہ نفرت کے ہیں
پیشہ ور قاتلو! تم سپاہی نہیں
پیشہ ور قاتلو! تم سپاہی نہیں










