اچھی بات دل موہ لیتی ہے !!!

0
4

ایک قدیم اور مشہور کہاوت ہے کہ زبان شیریں ملک گیری یعنی میٹھی بول چال سے پورا شہر یا دنیا فتح کی جا سکتی ہے کیونکہ انسان اپنی زبان کے پیچھے چھپا ہوتا ہے اور اس کے الفاظ ہی اس کے اخلاق، تربیت اور اندرونی فکر کی عکاسی کرتے ہیں۔ جب بھی بولیں میٹھا اور جانچ کر بولیں کیونکہ یہی زبان ہے جو انسان کو عزت کے اعلا مقام اور تخت پر بھی بٹھاتی ہے اور یہی زبان غلط استعمال کی صورت میں انسان کو رسوائی اور تختے پر بھی پہنچا دیتی ہے۔روایت ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے ملک میں یہ اعلان کر رکھا تھا کہ جو شخص بھی کوئی اچھی، حکمت پر مبنی اور دانشمندانہ بات کہے گا اس کو انعام کے طور پر چار سو دینار دئیے جائیں گے۔ ایک دن بادشاہ اپنی سلطنت کی رعایا کی دیکھ بھال اور حالات کا جائزہ لینے کے لیے شہر کی گشت پر نکلا۔ دورانِ سفر اس نے دیکھا کہ ایک نوے سال کی بوڑھی عورت انتہائی محنت اور لگن کے ساتھ زیتون کے چھوٹے چھوٹے پودے لگا رہی ہے۔ بادشاہ نے تعجب سے عورت کی طرف دیکھا اور کہا کہ تم عمر کے اس حصے میں ہو جہاں زندگی کے چند سال باقی نظر آتے ہیں اور تم پانچ دس سال میں وفات پا جاؤ گی جبکہ یہ زیتون کے درخت کم از کم بیس سال بعد پھل دینا شروع کریں گے تو اتنی عمر میں اتنی سخت مشقت اور محنت کرنے کا کیا فائدہ؟
بوڑھی عورت نے حکمت اور دانا رویے کے ساتھ جواب دیا کہ ہم نے اپنی زندگی میں جو پھل کھائے وہ ہمارے آبا و اجداد اور بڑوں نے لگائے تھے اور اب ہم یہ پودے اس لیے لگا رہے ہیں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اور اولاد اس کا پھل کھا سکیں۔ بادشاہ کو اس بوڑھی عورت کی یہ دور اندیشی اور حکمت پر مبنی بات بہت پسند آئی اور اس نے فوراً اپنے اہلکاروں کو حکم دیا کہ اس عورت کو انعام کے طور پر چار سو دینار دئیے جائیں۔
جب بوڑھی عورت کے ہاتھ میں چار سو دینار کی تھیلی تھمائی گئی تو وہ مسکرانے لگی۔ بادشاہ نے تعجب سے پوچھا کہ تم کیوں مسکرا رہی ہو؟ بوڑھی عورت نے نہایت شائستگی سے جواب دیا کہ حضور عالی زیتون کے ان درختوں نے تو بیس سال بعد پھل دینا تھا جبکہ مجھے میری محنت کا پھل ابھی اور اسی وقت مل گیا ہے۔ بادشاہ کو اس کی یہ بات بھی بے حد پسند آئی اور اس نے متاثر ہو کر دوبارہ حکم جاری کیا کہ اس کو مزید چار سو دینار دئیے جائیں۔
جب اس عورت کو مزید چار سو دینار دئیے گئے تو وہ ایک بار پھر مسکرانے لگی۔ بادشاہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا کہ اب مسکرانے کی کیا وجہ ہے؟ بوڑھی عورت نے جواب دیا کہ زیتون کا درخت پورے سال میں صرف ایک بار پھل دیتا ہے جبکہ میرے اس درخت نے ایک ہی دن میں دو بار پھل دے دئیے ہیں۔ بادشاہ نے اس غیر معمولی دانشمندی اور پرحکمت جواب کو سن کر پھر حکم دیا کہ اس کو مزید چار سو دینار دئیے جائیں اور یہ حکم دیتے ہی بادشاہ تیزی سے وہاں سے روانہ ہو گیا۔ سفر کے دوران ساتھ موجود وزیر نے پوچھا کہ حضور آپ اتنی جلدی سے وہاں سے کیوں نکل آئے؟ بادشاہ نے مسکرا کر جواب دیا کہ اگر میں مزید کچھ دیر اس عورت کے پاس رہتا تو میرا سارا خزانہ خالی ہو جاتا مگر اس دانا عورت کی حکمت بھری باتیں اور شائستہ جوابات ختم نہ ہوتے۔ یہ حقیقت ہے کہ اچھی بات دل موہ لیتی ہے اور نرم رویہ سخت سے سخت دشمن کو بھی گہرا دوست بنا دیتا ہے۔ حکمت بھرا جملہ بادشاہوں کو بھی عام انسانوں کے قریب لے آتا ہے اور معاشرے میں امن و محبت کا پیغام پھیلاتا ہے۔ اچھی بات دنیا میں دوستوں کی تعداد بڑھاتی ہے، دشمنیوں کو کم کرتی ہے اور آخرت میں ثواب کی کثرت کا سبب بنتی ہے۔ انسان دنیاوی مال و دولت اور روپے پیسے سے دنیا کا ہر سامان خرید سکتا ہے مگر انسانوں کے دلوں کی حقیقی خریداری اور فتح صرف اچھی بات اور شیریں زبان سے ہی ممکن ہے۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بڑے بڑے معرکے اور تلخ تر تنازعات محض ایک شیریں اور حکمت بھرے جملے سے ختم ہو گئے، جبکہ چھوٹی چھوٹی رنجشیں اور پرامن تعلقات غلط الفاظ اور بدزبانی کی وجہ سے مستقل دشمنیوں میں تبدیل ہو گئے۔ انسان کے بولے گئے الفاظ تیر کی مانند ہوتے ہیں جو ایک بار زبان سے نکل جائیں تو واپس نہیں آتے۔ اس لیے عقلمند اور دانشمند لوگ ہمیشہ بات کرنے سے پہلے سوچتے ہیں اور اپنے الفاظ کا انتخاب تول کر کرتے ہیں۔ گفتگو میں نرمی اور مٹھاس برقرار رکھنا ایک ایسا فن ہے جو انسان کو ہر دلعزیز بناتا ہے۔ پرخلوص اور مثبت گفتگو کے ذریعے انسان نہ صرف دنیا میں لوگوں کے دل جیتتا ہے بلکہ اپنے اردگرد کے ماحول کو خوشگوار اور پرامن بنانے میں بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
میرا انداز جدا ہے عطر فروشوں سے
میں لفظوں سے خوشبو جاری کرتا ہوں

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here