مفت کلام پاک پڑھانا!!!

0
6
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

محترم قارئین کرام آپ کی خدمت میں سید کاظم رضا نقوی کا سلام پہنچے۔ دنیا میں جہاں برائی اور بدی انتہا کو ہے، ایسے ہی میں کونے کھدروں میں کچھ نیک لوگ ایسے کام کر رہے ہیں جن کی وجہ سے شاید عذاب سے امان ہے، وگرنہ دنیا میں بڑھتا ظلم الامان الحفیظ۔ ڈاکٹر حسن ناصر چیمہ صاحب نے ایک بزرگ کا تذکرہ فرمایا اور ان کی تصویریں و ویڈیوز وائرل کیں تو دل متاثر ہوا۔ اب آپ پڑھیے اور داد دیجیے۔
ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں۔ آج ایک ایسے انسان سے ملاقات ہوئی جس نے دل کو اندر تک چھو لیا۔ شاید زندگی بھر یہ ملاقات یاد رہے۔ حافظ اسلم صاحب، عمر 65 سال، گوجرانوالہ سے میرے کلینک تشریف لائے۔ دو سال قبل زوجہ محترمہ کا انتقال ہو گیا۔ زندگی کے کچھ ایسے دکھ بھی سنائے جو ان کے، میرے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان امانت ہیں اور ان کا ذکر کرنا مناسب نہیں۔ میں نے پوچھا کہ حافظ صاحب آپ کیا کرتے ہیں۔ فرمانے لگے کہ بڑی عمر کے لوگوں کو قرآن مجید حفظ کرواتا ہوں، جو قرآن بھول چکے ہوں انہیں دوبارہ یاد کرواتا ہوں اور جن کی تلاوت یا تلفظ میں غلطیاں ہوں ان کی اصلاح کرتا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ حافظ صاحب قرآن مجید پڑھانے کا ہدیہ کتنا لیتے ہیں۔ مسکرا کر بولے کہ ڈاکٹر صاحب ایک روپیہ بھی نہیں، ہدیہ بھی قبول نہیں کرتا، یہ سب اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہوں۔ میں نے حیرت سے پوچھا کہ پھر گزر بسر کیسے ہوتی ہے۔ کہنے لگے کہ میرے بیٹے ٹائلیں لگانے کی مزدوری کرتے ہیں اور تقریباً 2500 روپے دیہاڑی کماتے ہیں، کبھی کچھ دے دیتے ہیں اور کبھی نہیں۔ دے دیں تو الحمدللہ اور نہ دیں تو بھی الحمدللہ۔ ان کی اپنی فیملیز ہیں اور اپنی مجبوریاں ہیں، اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی طرح گزارہ کروا دیتا ہے۔
یا اللہ کیسا صبر، کیسا توکل اور کیسی قناعت ہے۔ پھر کہنے لگے کہ ڈاکٹر صاحب اہلیہ کے جانے کے بعد بہت اکیلا ہو گیا ہوں، کچھ صدموں نے نیند چھین لی ہے اور قبض اور پیٹ کے مسائل بھی بڑھ گئے ہیں، آپ کچھ علاج بتا دیں، ساری عمر دعائیں دوں گا۔ میں نے کہا کہ حافظ صاحب آپ سے فیس نہیں لوں گا۔ انہوں نے فوراً انکار کر دیا اور کہنے لگے کہ نہیں ڈاکٹر صاحب فیس ضرور دوں گا۔ میں نے عرض کیا کہ حافظ صاحب آپ اللہ کی رضا کے لیے لوگوں کو قرآن پڑھانے کا ہدیہ نہیں لیتے تو مجھے بھی اپنے حصے کی کوئی نیکی کمانے دیں اور مجھے بھی اللہ کے ایک خادم کی خدمت کا موقع دیں۔ مگر وہ کسی صورت ماننے کو تیار نہ تھے۔ دوائیاں بھی نہیں لینا چاہتے تھے اور کہنے لگے کہ کوئی دیسی نسخہ بتا دیں۔ میں نے ان کی کیفیت کے مطابق قبض اور نیند کے مسائل کے لیے رہنمائی کی۔ آخر میں انہیں گلے لگایا، عقیدت سے ان کے ہاتھ چومے اور دو چھوٹے سے تحفے پیش کیے جو انہوں نے بڑی مشکل سے قبول کیے۔
رخصت ہوتے ہوئے حافظ صاحب نے ایک ایسی بات کہی جس نے مجھے جذباتی کر دیا۔ کہنے لگے کہ ڈاکٹر صاحب میں حافظ قرآن ہوں اور اللہ تعالیٰ نے چاہا تو قرآن کی برکت سے شفاعت نصیب ہوگی، میں آپ کو یاد رکھوں گا اور یہ میرا وعدہ ہے۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ لوگ اکثر مجھ سے کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب ہم آپ کے فین ہیں، لیکن آج میں پورے دل سے کہ رہا ہوں کہ میں حافظ اسلم صاحب کا فین ہوں۔ ایک شخص جس کے پاس دنیاوی وسائل محدود ہیں مگر دل کی دولت بے حساب ہے، جو خود ضرورت مند ہے مگر قرآن مجید کی خدمت کا ہدیہ تک قبول نہیں کرتا، جو اپنی تنہائی، تکلیف اور تنگ دستی کے باوجود ہر حال میں الحمدللہ کہتا ہے۔ یا اللہ تو نے اس دنیا میں کیسے کیسے خوبصورت انسان اور کیسے کیسے انمول نگینے رکھے ہیں۔ حافظ اسلم صاحب شاید آپ مجھے ہمیشہ یاد رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت، سکون، عافیت اور بابرکت زندگی عطا فرمائے، آپ کی قرآن مجید کے لیے خدمات قبول فرمائے اور آپ کی اولاد کے رزق میں برکت عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔
قارئین دل چھو لینے والی کہانی کے بعد میری دعا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ڈاکٹر چیمہ اور حافظ اسلم صاحب جیسے لوگ پیدا ہوں اور اللہ پاک ان کی چھاؤں ہماری نسلوں پر ڈالے، یہی دعا ہے آمین۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here