ایران کو سخت فوجی کارروائی کا انتباہ

0
6

نیویارک (پاکستان نیوز)ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری شدید کشیدگی کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس وقت انتہائی سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکہ ایران کے خلاف سخت فوجی اقدام کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ اور ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ان مذاکرات کے لیے زیادہ وقت نہیں دیا جائے گا اور معاملات کا فیصلہ جلد ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ سفارتی حل کی گنجائش موجود ہے اور وہ اس سلسلے میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ سیٹلائٹ تصاویر سے متعلق بھی بات چیت کریں گے۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ان کا مکمل تسلط برقرار ہے اور وہ فی الحال امریکہ کے ساتھ باضابطہ امن مذاکرات کی بحالی کے خواہاں نہیں ہیں۔ یہ صورت حال 13 راتوں تک جاری رہنے والی شدید امریکی ہوائی مہم کے التوا کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس عسکری مہم کے دوران ایران نے بھی خطے میں موجود امریکی فوجی مراکز پر جوابی حملے کیے تھے، لیکن امریکہ کی جانب سے بمباری روکے جانے کے بعد تہران نے بھی اپنی کارروائیاں معطل کرنے کی توثیق کر دی ہے۔ حملوں کے رکنے سے عالمی اقتصادی منڈی میں مثبت اثرات دیکھے گئے اور برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے 8 فیصد سے زائد گر کر 89 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ تاہم خطے کی موجودہ صورت حال تاحال غیر یقینی کی حامل ہے، کیونکہ اردن میں دو ڈرون طیاروں کی تباہی اور شمالی عراق میں اپوزیشن کے اڈے پر حملوں سے اس عارضی جنگ بندی کے قائم رہنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here