ٹرمپ کی بدولت نئے اور مضبوط ایران کا عروج اوربدلتی ہوئی حکمت عملی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر کی جانے والی فضائی مہم اور حملوں نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسی نئی حقیقت کو جنم دے دیا ہے جس کا اندازہ شاید امریکی منصوبہ سازوں کو پہلے نہیں تھا۔ واشنگٹن میں طویل عرصے سے یہ سوچ پائیدار رہی ہے کہ فوجی دباؤ اور معاشی پابندیوں کے ذریعے ایرانی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے یا وہاں عوامی بغاوت کے ذریعے نظام کو بدلا جا سکتا ہے، لیکن حالیہ جنگ نے اس کے بالکل برعکس نتائج پیدا کیے ہیں۔ جنگ کی آگ نے تہران کے حکمران طبقے کو کمزور کرنے کے بجائے اندرونی طور پر زیادہ مضبوط، ہوشیار اور عملی پسند بنا دیا ہے، جس سے نبردآزما ہونا اب امریکی خارجہ پالیسی کے لیے ایک مشکل ترین چیلنج بن چکا ہے۔
اس وقت ایران میں اقتدار کی باگ ڈور ایک ایسی نئی نسل کے ہاتھ میں آ چکی ہے جس کی فکری تربیت سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے سائے میں نہیں، بلکہ سنہ 1980 کی دہائی میں ہونے والی طویل ترین پاک ایران یا عراق ایران جنگ کے خندقوں میں ہوئی ہے۔ یہ نئی قیادت پرانی نسل کے برعکس نظریاتی جنون کے بجائے خالص وطن پرستی اور قومی سلامتی کو اولیت دیتی ہے۔ ان کا نظریہ دنیا کے بارے میں انتہائی سخت اور حقیقت پسندانہ ہے۔ ان رہنماؤں کے نزدیک تہران کی بقا کا واحد راستہ عسکری خود انحصاری اور علاقائی طاقت کا توازن اپنے حق میں رکھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ایران کے سیاسی فیصلوں میں اسلامی انقلابی نظریات کے بجائے خالص ایرانی قوم پرستی کا رنگ نمایاں تر نظر آتا ہے۔
امریکی حملوں کا سب سے بڑا اور غیر متوقع نتیجہ ایرانی معاشرے میں پیدا ہونے والی اندرونی یکجہتی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ جنگ سے پہلے جو عوام حکومت کی سخت گیر پالیسیوں، معاشی بدحالی اور خواتین کے حقوق پر پابندیوں کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر رہے تھے، انہوں نے بیرونی جارحیت کے سامنے اپنے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ اب ایرانی سماج ریاست کے خلاف نہیں بلکہ ریاست کے شانہ بشانہ کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ بجلی گھروں کی حفاظت کے لیے انسانی زنجیریں بنانا اور سڑکوں پر دفاعِ وطن کے لیے نکلنا اب روز کا معمول بن چکا ہے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ نے بھی اپنی حکمتِ عملی بدل لی ہے اور اب وہاں مذہبی کٹر پن کے بجائے ثقافتی شناخت پر زور دیا جا رہا ہے۔ ملک میں وفاداری کا معیار اب یہ نہیں رہا کہ کوئی کتنا مذہبی ہے، بلکہ اب یہ دیکھا جاتا ہے کہ کوئی کتنا بڑا محبِ وطن ہے۔ وہ شہری جو ماضی میں حکومت کے سخت ناقد رہے ہیں، وہ بھی اب ملکی دفاع کے لیے کھڑے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ عوامی غصہ اور معاشی شکایات ختم نہیں ہوئیں، لیکن جنگ کے خوف نے انہیں وقتی طور پر پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
اس نظریاتی تبدیلی نے ایران کی تزویراتی سوچ کو بھی یکسر بدل دیا ہے۔ اب تہران کا مقصد دنیا بھر میں انقلاب برآمد کرنا نہیں، بلکہ خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا اور اپنی بقا کو یقینی بنانا ہے۔ وہ اپنے اتحادیوں اور حلیفوں کو اب زیادہ دانشمندی اور ضرورت کے تحت استعمال کر رہا ہے۔ تہران کا موجودہ سخت موقف کسی اندرونی خلفشار یا نظریاتی ہٹ دھرمی کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس پختہ یقین کا مظہر ہے کہ امریکہ مذاکرات کی میز پر وہ سب کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے جو وہ میدانِ جنگ میں حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ایرانی قیادت اب یہ سمجھتی ہے کہ واشنگٹن کسی منصفانہ معاہدے میں دلچسپی نہیں رکھتا، بلکہ وہ صرف ایران کو مکمل طور پر مغلوب دیکھنا چاہتا ہے۔
اس تمام صورتحال کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ایران نے اب امریکہ کے ساتھ ایک طویل اور کبھی نہ ختم ہونے والی سرد جنگ کے امکان کو تسلیم کر لیا ہے اور وہ اس کے ساتھ جینے کا عادی ہو چکا ہے۔ تہران اب واشنگٹن کے ساتھ اپنے تنازعات کو حل کرنے کی کوشش ہی نہیں کر رہا، بلکہ وہ عالمی نظام میں اپنے لیے ایک آزاد اور خودمختار قطب کے طور پر جگہ بنانا چاہتا ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ موجودہ جنگ اسے ایک کثیر القطبی دنیا میں ایک اہم عالمی طاقت کے طور پر ابھرنے میں مدد دے رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کے لیے اب ایک ایسے ایران سے معاہدہ کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے جو نہ تو دباؤ میں آنے کو تیار ہے اور نہ ہی کسی عارضی رعایت کے بدلے اپنی دفاعی صلاحیتوں پر سمجھوتہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تہران کی یہ نئی شکل اب امریکی بالادستی کے لیے ایک مستقل اور گہرا چیلنج بن چکی ہے۔
٭٭٭













