نیوجرسی اور نیویارک میں ادبی تقاریب! !!

0
3
کامل احمر

جون کا مہینہ شروع ہوتے ہی ادبی فضاؤں میں رونق آ جاتی ہے اور اس دفعہ کچھ ایسا ہوا کہ نیوجرسی اور نیویارک میں دو بڑے فنکشن ہوئے۔ نیوجرسی میں یہاں کی مشہور خاتون طاہرہ حسین کو ان کی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیا اور ایک ماہ پہلے ان کے جاننے والوں اور ان سے جڑے ادبی اور ثقافتی حضرات کو مدعو کیا کیونکہ طاہرہ حسین علیگڑھ سے تعلق رکھتی ہیں اور علیگڑھ المنائی کی حیثیت سے یہاں مشاعروں کی نگرانی بھی کر چکی ہیں۔ تو ان کی پذیرائی کے لیے علیگڑھ المنائی کے کرتا دھرتا ڈاکٹر عبداللہ صاحب بھی آئے تھے، جو ایک نہایت ہی خوش گفتار شخصیت ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہنا پڑے گا کہ طاہرہ حسین کی موجودگی اور ان کی محنت کا نتیجہ رہا کہ علیگڑھ المنائی کے مشاعروں کے لیے ٹکٹ ملنا مشکل ہوتا تھا اور جب سے وہ ریٹائر ہوئی ہیں اور ان کی ناسازیِ طبیعت کی وجہ سے لگتا ہی نہیں ہے کہ اب ایسا کچھ ہوگا۔ مشاعرے ہماری ثقافت کی پہچان رہے ہیں۔ ہندوستان میں تو مشاعروں کی وجہ سے اردو کو فروغ ملا ہے اور یہ بات بھی کہتے چلیں کہ شکیل بدایونی اور اس کے بعد مجروح سلطان پوری جو مشاعری کی جان تھے نے جگر مراد آبادی کے کہنے سے ہی فلموں کے گانے لکھنا شروع کیے تھے اور لوگوں نے ان گانوں کو گنگنانا شروع کر دیا تھا فلم شاہجہاں میں گانوں کی شاعری کا اندازہ ہو سکتا ہے۔
بات یہاں طاہرہ حسین کی کارکردگی کی ہو رہی ہے۔ ہم کچھ سال ان کے ساتھ جڑے رہے تھے نیویارک میں حلقہ اربابِ ذوق کے تلے، وہ جیسا پاکستان میں تھیں وہاں بھی انہوں نے علیگڑھ کی شان بڑھائی اور ادبی اور ثقافتی پہچان بنی رہیں۔ اخبار خواتین کی ایڈیٹر رہیں اور یہاں آ کر انہوں نے اپنی پہچان بنائی ادبی اور ثقافتی حلقوں میں ان کی آمد گویا پروگرام کو چار چاند لگا دیتی تھی۔ جہاں وہ ہوتیں لوگ ان کے اردگرد بیٹھ کر باتیں کرتے اور سنتے تھے۔ ایک بار انہوں نے فلمی لکھاری اور شاعر جاوید اختر کو بلایا تھا جو ہم پاکستانیوں میں ناپسندیدہ تھے۔ ہم نے جب طاہرہ باجی سے کہا کہ اس کو نہ بلائیں تو اچھا ہونا یہ شخص پاکستان کے خلاف بولتا ہے، ان کا جواب بہت مناسب تھا کہ علیگڑھ المنائی کا مشاعرہ ہے اور جاوید اختر کا تعلق بھی علیگڑھ یونیورسٹی سے رہا ہے، ہمارا کہنا تھا “تو پھر ان میں اورعبداللہ صاحب میں اتنا فرق کیوں ہے”۔ وہ مسکرا دیں ہم سمجھ گئے کہ کچھ لوگ اچھے ماحول سے بھی کچھ نہیں سیکھتے مطلب جاوید اختر سے ان کا تعلق تو ہے صاحبِ زندگی کا لیکن وہ سلیم کے ساتھ رہ کر بھی کچھ نہیں سیکھے وہ خود کو سب سے اول بنانے کے لیے پاکستان اور مذہب کی دوری کا پرچار کرتے ہیں اور ہندوستانی انہیں پسند کرتے ہیں۔ آج ہم بھی طاہرہ حسین کو دلی طور پر ان کی برسوں کی کارکردگی کو خراج دیں گے۔ کہ ان ایسے لوگوں کی وجہ سے اردو ہندوستان اور پاکستان میں پھل پھول رہی ہے کہتا چلوں کہ پاکستان میں پنجابی پھل پھول رہی ہے ٣١ کروڑ فوجی اور شہری ہیں۔ بتاتے چلیں کہ ہم وعدے کے مطابق ذاتی طور پر نہ پہنچ سکے ہم اب کار نہیں چلا سکتے رات میں اور لے جانے والا کوئی نہ تھا کہ ہم نیوجرسی پہنچ سکتے جس کے لیے ہم ان سے شرمندہ ہیں اور ان کی صاحبزادی سے RR سے کہیں گے کہ ہم نہ آ سکے مگر لکھنا تو بنتا ہے طاہرہ باجی کو سلام۔
دوسرا بڑا ادبی فنکشن لانگ آئی لینڈ نیویارک کی ناسا کاؤنٹی میں تھا۔ مشہور شاعر اور لکھاری جمیل عثمان کی کتاب “نصف صدی کے قصّے” جو جولائی 2025 میں آئی تھی اور ہم نے اس کے تعلق سے کالم بھی لکھا تھا کی تقریبِ رونمائی تھی یہ تقریب کسی نہ کسی وجہ سے اس سے پہلے دو بار منسوخ ہو چکی تھی اس کا اہتمام “کاروانِ فکر و فن” کی طرف سے مقامی ریسٹوران میں تھا مامون ایمن کی صدارت تھی اور کناڈا سے آئے تقریباتی مہمانِ خصوصی تھے جنہوں نے جمیل عثمان کی بچوں کے لیے لکھی مختصر کتاب پر تھا، انہوں نے جو کہا خوب کہا لیکن محفل میں کوئی بچہ نہ تھا اور جب ان کے والدین سے لوٹی ہوئی انگلش بولیں تو بھلا وہ اردو پڑھنا تو کجا بولیں گے کہاں سے ایک طفیل ہے۔ جمیل عثمان ہماری نظر میں ایک اچھے افسانہ نگار ہیں اور انہیں اس طور پر محترم عتیق صدیقی نے تفصیل سے خراج پیش کیا وہ تیاری کر کے آئے تھے اور نصف صدی کے قصّے کو نئی زندگی دی۔ تقریباً ہر افسانے پر تفصیل سے رائے دی اور سراہا صرف عتیق صدیقی کی موجودگی ہی محفل کی جان تھی ان کے لیے جو افسانے پڑھنے میں دلچسپی لیتے ہیں۔ کتاب میں شامل “ہرب ٹپ” عفّرہ”انہونی”، “خالص دودھ” اور “شاہی ٹکڑے” جو جمیل عثمان نے تقریب میں سنایا۔ خالدہ ظہور نے مختصر انداز میں ذکر کیا۔ بتاتے چلیں کہ اصل میں افسانہ سنانے سے زیادہ پڑھنے کی تحریر ہے۔ لیکن افسوس اب نہ تو پاکستان میں اور نہ ہی ہندوستان میں “مشاعر” اور چہار سو کاغذی شکل میں نہیں آ رہا سوشل میڈیا ذریعہ بن چکا ہے کہ اردو کو زندہ رکھا جائے جو ہمارے ساتھ تحریری طور پر سسکیاں بھر رہی ہے پھر بھی کہیں گے ایسی تقاریب ہم اور دوسروں کے لیے معلوماتِ ادب اور ثقافت کی جان ہیں جو جاری رہنا چاہئیں۔ ہم نہ صرف فکر و فن کو سراہتے ہیں بلکہ نیویارک اور نیوجرسی میں حلقہ اربابِ ذوق کی کاوشوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں کہ اردو کی خدمت کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here