منافقانہ سیاست اور ہمارے !!!

0
3
شبیر گُل

گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کو برتری حاصل رہی جبکہ مسلم لیگ ن بظاہر اس کے آمنے سامنے کھڑی نظر آئی۔ بلاول بھٹو اور مسلم لیگ ن کی قیادت ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری کرتے رہے، تاہم پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو گلگت میں ویسا آزادانہ ماحول حاصل نہیں تھا جیسا دیگر دو جماعتوں کو میسر تھا۔ بلاول بھٹو نے اپنی تقاریر میں مسلم لیگ کو آڑے ہاتھوں لیا اور مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کو نشانہ بنایا، جبکہ یہ دونوں جماعتیں وفاق میں اقتدار کے مزے بھی لوٹ رہی ہیں اور ایک دوسرے کو ہدف تنقید بھی بنا رہی ہیں۔ تحریک انصاف کو ماضی میں مقتدر حلقوں کی طرف سے یہی سہولت حاصل تھی جو اب مسلم لیگ ن کو حاصل ہے، کیونکہ جو بھی جماعتیں مقتدرہ کی پسندیدہ کتاب میں شامل ہوں، وہ دوسری جماعتوں کو تختہ مشق بنا دیتی ہیں۔ 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف مقتدرہ کی معاون بنی ہوئی تھی مگر اقتدار سے علیحدگی کے بعد اس کے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے کارکنان ریاست مخالف بیانیے پر چل پڑے ہیں۔ سماجی رابطوں کے ذرائع اور قیادت کے بیانات سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے تحریک انصاف کالعدم تنظیموں اور دہشت گرد گروہوں کی نظریاتی حامی ہو، کیونکہ اس جماعت کے اندر کئی قسم کی ذہنیات پائی جاتی ہیں اور پارٹی قیادت ایک دوسرے سے شاکی رہتی ہے۔
پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ ن، تحریک انصاف ہو یا ایم کیو ایم، اقتدار سے باہر ان کا بیانیہ ملک دشمنی کی حد تک چلا جاتا ہے لیکن جیسے ہی یہ اقتدار میں آتے ہیں، انہیں حب الوطنی یاد آ جاتی ہے۔ یہ تینوں بڑی جماعتیں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ایجنڈے پر کام کرتی ہیں اور انہیں اقتدار کے حصول کے لیے ایم کیو ایم، مولانا فضل الرحمن اور اے این پی کندھے فراہم کرتی ہیں، اور یہی مددگار جماعتیں ہر دور میں اقتدار کے مزے لوٹتی ہیں۔ قوم کو ان مفاد پرستوں کی منافقت اور گٹھ جوڑ کو سمجھنا چاہیے، کیونکہ عوام کی اکثریت جذباتیت کا شکار ہو کر ملکی مفاد کے لیے نہیں سوچتی۔ عوام ان تینوں بڑی پارٹیوں کے ادوار حکومت دیکھ چکے ہیں جہاں زراعت، تعلیم اور صحت پر سب کی پالیسی یکساں رہی ہے، اور مہنگائی اور بے روزگاری سے ان کا کوئی سروکار نہیں۔ ان حکمرانوں کو چھوٹی صنعتوں اور کپاس کی صنعت کی بحالی سے بھی کوئی غرض نہیں ہے۔
اب بجٹ کی آمد ہے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جبکہ بجٹ کی منظوری کے بعد قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا جائے گا کیونکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ بجٹ میں مزید ٹیکس لگانے پر بضد ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اسٹیشنری پر دی جانے والی 10 فیصد سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے بعد حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ فنانس بل 2026 میں یہ رعایت واپس لے لے۔ اگر یہ فیصلہ منظور ہو جاتا ہے تو یکم جولائی سے اسٹیشنری کے سامان پر سیلز ٹیکس 18 فیصد تک بڑھ سکتا ہے، جس کا براہ راست اثر کاپیوں، رجسٹروں، قلم، پنسل اور دیگر تعلیمی اشیائ پر پڑے گا اور والدین کے ماہانہ تعلیمی اخراجات میں واضح اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔
قارئین خود اندازہ کریں کہ حکمران نہ تو عوام سے اور نہ ہی مملکت خداداد سے مخلص ہیں۔ مہنگائی کا عالم یہ ہے کہ ایک لاکھ روپے تنخواہ والے شخص کا ماہانہ خرچ اس کی آمدنی سے تجاوز کر چکا ہے۔ تین بچوں اور میاں بیوی پر مشتمل پانچ افراد کے کنبے کا ماہانہ راشن تیس ہزار، دودھ اور دہی پانچ ہزار، بجلی کا بل بیس ہزار، گیس اور ایل پی جی چار ہزار، ٹیلی فون تین ہزار، پانی کا بل دو ہزار، بچوں کی اسکول فیس دس ہزار، موٹر سائیکل کا خرچ پندرہ ہزار، کتابیں اور وردی پانچ ہزار، بچوں کا جیب خرچ پانچ ہزار اور گھر کا کرایہ دس ہزار روپے بنتا ہے۔ ان حالات میں جن افراد کی تنخواہیں بیس یا تیس ہزار روپے ہیں ان کا کیا حال ہوگا، لوگ مہنگائی کی چکی میں بری طرح پس چکے ہیں اور جب عوام کے اخراجات پورے نہیں ہوں گے تو معاشرے میں مایوسی اور جرم بڑھے گا، جس سے نوجوان نسل کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔
ہمارے رہنما محلات میں بیٹھ کر عوام کو سادگی کے بھاشن دیتے ہیں لیکن ڈاکا عوامی حقوق پر ڈالتے ہیں۔ ان کرپٹ عناصر کے پاس لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کا کوئی مستقبل کا منصوبہ ہے اور نہ ہی نوجوان نسل کے لیے کوئی پالیسی ہے، جبکہ امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں اس اشرافیہ کے بچوں کے لیے پرتعیش رہائش گاہیں اور کاروبار قائم ہیں۔ جرنیلوں اور ججوں کا حال ان سیاست دانوں سے بھی بڑھ کر ہے جن کے یورپ اور امریکہ میں بڑے بڑے پلازے اور کاروبار ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک عام پولیس افسر کے تین چار بچے یورپ یا امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہوں، اس کا فارم ہاؤس ہو، پٹرول پمپ ہو اور دس سے بیس کروڑ روپے کا بنگلہ ہو، کیونکہ ان کی سرکاری تنخواہ سے ایسے ٹھاٹھ باٹھ نامکن ہیں اور یہ سب صرف بدعنوانی کا نتیجہ ہے۔ جب بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگ بدعنوانی کریں گے تو معاشرے میں جرائم بڑھیں گے اور بدامنی پیدا ہوگی۔ ہم ان کرپٹ لوگوں کے ساتھ تصویریں بنوا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے کوئی بڑا معرکہ مار لیا ہے، جو ہماری ذہنی پسماندگی کا ثبوت ہے۔
کیا یہ پاکستان صرف نواز شریف یا آصف زرداری کا ہے جنہوں نے ملک کو لوٹ کر عوام کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جیل بنا دیا ہے، یا یہ ملک جنرل عاصم منیر کا ہے، ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ ملک چوبیس کروڑ عوام کا ہے اور جتنا حق اسے برباد کرنے والے لٹیروں کا ہے، اس سے کہیں زیادہ حق اس کے چوبیس کروڑ عوام کا ہے۔ ملکی مفاد میں اس وقت ایک ہی جماعت ہے جو نظریہ پاکستان اور ملک و ملت سے وفادار ہے اور اس کا ماضی اور حال سب کے سامنے ہے۔ عوامی فلاح کا کام ہو یا تعلیم و صحت کے شعبے، جماعت اسلامی کا کردار و عمل ہمیشہ ملک کے مفاد میں ہوتا ہے اور وہ بغیر کسی عہدے اور وزارت کے عوام کی خدمت کرتے ہیں۔ تین سال کے مختصر عرصے میں بیس لاکھ بچوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مفت تعلیم دی جا رہی ہے اور بنو قابل منصوبے نے نوجوانوں کے لیے روزگار کے بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں۔ جو کام حکومتوں کے کرنے کے ہیں وہ جماعت اسلامی الخدمت کے پلیٹ فارم سے کر رہی ہے اور اسے اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی کس پارٹی، مذہب یا مسلک سے منسلک ہے۔ جماعت اسلامی تعلیم کے میدان میں قوم کی ہمیشہ سے خدمت کر رہی ہے لیکن ہمارا ووٹ اور حمایت ہمیشہ لٹیروں، عوام دشمنوں اور مفاد پرستوں کے حصے میں آتی ہے۔
بحیثیت قوم چونکہ ہمارے اندر منافقت کوٹ کوٹ کر بھری ہے، اسی وجہ سے ہم ان منافق اور ابن الوقت لیڈروں کے پیچھے بھاگتے ہیں، انہیں ووٹ بھی دیتے ہیں اور بعد میں گالیاں بھی دیتے ہیں۔ ملک کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جس میں بدعنوانی نہ ہو اور کوئی ایسا ادارہ نہیں جہاں لوٹ مار نہ ہو، نیز کوئی ایسی پارٹی نہیں جو شخصیت پرستی اور کرپشن میں ملوث نہ ہو، مگر ہم جانتے بوجھتے ہوئے انہی کو سپورٹ کرتے ہیں۔ ہم یہ جانتے اور مانتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے لوگ ایماندار، محب وطن اور نظریاتی ہیں اور پاکستان کے طول و عرض میں ان کے مفت اسکول، ہسپتال، ڈسپنسریاں اور فلاحی ادارے کام کر رہے ہیں۔ وہ آزمائش کی ہر گھڑی میں قوم اور امت مسلمہ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، اور کشمیر ہو یا فلسطین، دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے پوری دیانتداری کے ساتھ آواز اٹھاتے ہیں۔
بے لوث لوگوں پر مشتمل جماعت اسلامی نہ فرقہ بندی پر یقین رکھتی ہے اور نہ ہی مسلکی اور گروہی سیاست پر، اس لیے جماعت اسلامی کو ووٹ نہ دے کر عوام اپنے ساتھ خود ظلم کرتے ہیں۔ ملک کی بہت بڑی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جنہیں نہ تعلیم میسر ہے، نہ صحت اور نہ روزگار۔ اس اثناء میں جماعت اسلامی نے ہزاروں نوجوانوں کے ساتھ مل کر کراچی کے ساحل کی صفائی کا بیڑا اٹھایا ہے اور الخدمت نے پورے شہر کو صاف کرنے کا عزم کیا ہے۔ الخدمت پاکستان کے طول وعرض میں بنو قابل کے نام سے لاکھوں نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے منسلک کر چکی ہے اور اس مفت تعلیم و تربیت سے نوجوانوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ جماعت اسلامی کا ہی کمال ہے کہ وہ ہزاروں اسکول، ہسپتال اور ڈسپنسریوں کے منصوبے چلا رہی ہے جس سے ہر مذہب، پس منظر اور زبان کے لوگ مفت فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ اب ان عناصر سے جان چھڑائی جائے جنہوں نے ملک کو اس نہج پر پہنچایا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حالات خراب ہیں اور کشمیر میں صورتحال دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ حکمرانوں کی عدم دلچسپی سے کشمیری سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ آزاد کشمیر میں فوجی ہسپتال پر حملہ اور رینجرز کے جوانوں کا اغوا لمحہ فکریہ ہے، اگرچہ ان جوانوں کو بازیاب تو کروا لیا گیا ہے لیکن حکومتی رٹ پر کئی سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here