وقت کے وسیع صحرا میں بعض مہینے محض ایام و تواریخ کا سلسلہ نہیں ہوتے بلکہ اپنے اندر ایمان، قربانی، صبر اور استقامت کی روشن شمعیں سمیٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ محرم الحرام بھی انہی بابرکت مہینوں میں سے ایک ہے جس سے ہجری سال کا آغاز ہوتا ہے۔ گویا نیا سال ہمیں دنیاوی شور و شغب کے بجائے فکر، احتسابِ نفس اور عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ اسلامی تقویم کا یہ ہجری سال حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مکہ سے مدینہ ہجرت کی یادگار ہے، جس کا آغاز یکم محرم سے ہوتا ہے۔ یہ مہینہ ان چار مقدس اور حرمت والے مہینوں میں شامل ہے جن کا خصوصی ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔اس مہینے کی سب سے نمایاں اور تاریخی نسبت واقعہ کربلا سے ہے، جو تاریخِ اسلام کا وہ عظیم باب ہے جس نے حق و باطل کے درمیان فرق کو ہمیشہ کیلئے واضح کر دیا۔ نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے وفادار رفقا نے ظلم و جبر کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے حق و صداقت کی خاطر لازوال قربانیاں پیش کیں۔ کربلا کا پیغام محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ رہتی دنیا تک کے لیے ایک زندہ درس ہے، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا، چاہے راہِ حق میں کتنی ہی بڑی آزمائشیں کیوں نہ درپیش ہوں۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی استقامت، صبر، شجاعت اور توکل ہر دور کے انسان کے لیے مشعلِ راہ ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ صدائے حق آج بھی کربلا کی مٹی سے بلند ہو کر انسانیت کو بیدار کر رہی ہے۔
آج کے جدید اور پْرآشوب دور میں بھی محرم الحرام کا یہ پیغام غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گھریلو زندگی ہو، سماجی روابط ہوں یا پیشہ ورانہ ذمہ داریاں، سچائی، دیانت، برداشت اور انصاف ہی وہ بنیادی اقدار ہیں جو انسان کو حقیقی سربلندی عطا کرتی ہیں۔ اگر ہم کربلا کے انفاق اور اسباق کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو معاشرے میں محبت، رواداری، اخوت اور عدل و انصاف کو حقیقی معنوں میں فروغ دیا جا سکتا ہے۔
یہ ہجری سالِ نو ہمیں شعور دیتا ہے کہ حق کا راستہ آسان نہیں ہوتا، لیکن یہی وہ واحد راستہ ہے جو انسان کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر کر دیتا ہے۔ محرم الحرام کا پورا مہینہ صبر، قربانی، استقامت اور حق گوئی کا استعارہ ہے۔ اگر ہم ان روشن تعلیمات کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں جگہ دے دیں تو نہ صرف ہماری شخصیت نکھر سکتی ہے بلکہ ایک بہتر، منصفانہ اور پْرامن معاشرہ بھی وجود میں آ سکتا ہے۔ محرم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہجری سال کا آغاز محض ایک تقویمی تبدیلی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک روحانی نئی شروعات ہے، جس میں ہمیں اپنی زندگیوں کو سنوارنے، اپنے مقصدِ حیات کو واضح کرنے اور ہمیشہ صدائے حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا درس ملتا ہے۔ یہ مہینہ ہر اس مسلمان کے لیے بیداری کا پیغام ہے جو حق کے راستے پر چلنے کا پختہ عہد کرے۔
سال نْو محرم ہم کو، یہی درس دے گا
حق پر رہو تو ،وقت بھی جھکا نہ پائے گا
کربلا صرف ایک واقعہ نہیں،یہ روشنی ہے
دل میں اتر جائے تو زندگی بدل جاتی ہے














