ممتاز شاعر اور ادبی دانشور ارشد ملک صاحب نے بہت ہی نادر و نایاب تحفہ بدستِ خود مرحمت فرمایا۔ اْن کی کتاب جس کا عنوان” حاضر اللہ سائیں” ہے حج کے بارے میں ایک دلچسپ، ایمان افروز اور فکر انگیز تصنیف ہے۔ یہ کتاب احکاماتِ حج، معلومات ارکانِ حج یا شرائطِ حج کے بارے میں کوئی مذہبی یا فقہی کتاب نہیں ہے۔ یہ تو ایک عاشقِ خدا و رسولۖ کا وہ عرفانی و روحانی سفر ہے جو عشق کی منازل کو قوّتِ عشق سے طے کرتا ہے۔ گویا بقولِ علامہ اقبال!
عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصّہ تمام
اِس زمین و آسماں کوبے کراں سمجھا تھا میں
عربی لفظ الحج کے لغوی معنی قصد کرنایا کسی مقّدس و معظّم مقام کی زیارت کو کہتے ہیں۔ اسلامی شریعت کی اصطلاح میں ایِامِ حج میں خانہ کعبہ کی زیارت، طواف اور ارکانِ حج کی ادائیگی کو حج کہتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں سورة حج میں اور جامع ترمذی کی حدیث کے مطابق صاحبِ استطاعت پر حج فرض ہے۔ حج کا بنیادی مقصد اللہ کی توحید کا اقرار، اْس کی ربوبیّت و کبریائی پر ایمان ، تقویٰ کا حصول، مسلمین کے مابین اخوّت و اتّحاد، مساواتِ انسانی، درسِ امن و اماں، مناجاتِ استغفار، غیراللہ کی اطاعت کا انکار، ہر فسطائی اور طاغوتی قوّت سے بیزاری کا اظہار ہے۔ جب دورانِ حج ایک مسلمان یہ ورد کرتا ہے۔
” لبیک اللھم لبیک۔ لا شریک لک لبیک” یعنی حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں۔ یہ اعلان شرک کی نفی اور توحید کا اقرار ہے اور ہر ظالم و فاجر و آمر و فاسق کے خلاف اعلانِ جہاد ہے۔
یہاں یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ مقاماتِ حج بذاتِ خود مقصدِ حج کو بیان کرتے ہیں۔ حج صرف گناہوں سے معافی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ابدی و سرمدی پیغام ہے۔ منیٰ سے مراد جائے ایمان ہے۔ عرفات مقامِ معرفت اور مشعر مقامِ شعور ہے۔ گویا ایمان، معرفت اور شعور دستیاب ہو جائیں تو مقصدِ حج وگرنہ فقط طوافِ کعبہ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ارشد ملک کے اس سفرِ حج کے بیان میں ایمان ، معرفت اور شعور کی فراوانی اور اسرارِ نہانی کی جھلکیاں جا بجا نظر آتی ہیں۔ حج کی شدید آرزو نے اْن کی روح کے اندر ایک عرفانی و روحانی جذبہ ایسا بیدار کیا کہ اْنہیں حج کی بشارتیں ہوئیں جن کا تذکرہ اْنہوں نے اپنے استادِ محترم ڈاکٹر تصدّق حسین صاحب کے خواب اور اپنے چند خوابوں کے حوالہ سے کیا ہے۔ رسولِ اکرم صلعم کی حدیثِ مبارکہ ہے کہ آپ کے بعد سلسلہ وحی منقطع ہو گیا ہے اور اب مبشرات ہوں گی۔ آپ نے سچے خوابوں کو بشارت سے تعبیر کیا۔ ارشد ملک نے جن خوابوں کا ذکر کیا ہے وہ بشارت کے زْمرے میں آتے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں کہ یہ کتاب لکھی اور کئی بار اس میں کاٹ چھانٹ کی۔ دل مطمئن نہیں تھا۔ پھر یوں ہوا کہ والدہ ماجدہ کو کتاب کے اقتباسات سنایا کرتا وہ جس کی تائید کرتیں اْسے شاملِ کتاب کرتا۔ گویا اس کتاب کو والدہ کی دعا اور تائید حاصل ہے جس سے ثواب دوگنا ہو گیا۔
حج پر لکھی گئی اکثر کتابوں میں مناسکِ حج کی ادائیگی اور چند ذاتی و روحانی واقعات درج ہوتے ہیں جن میں ادبی چاشنی، لذّتِ عرفانی اور ادراکِ مقصدِ حج نہیں ہوتے۔ ارشد ملک کی یہ کتاب ایک مجذوب کے کیف، ایک شاعر کی الہامی کیفیّت اور ایک دانشور کے شعار و شعور کی درخشندہ و تابندہ مثال ہے جو ایک طرف وجدانی اور دوسری طرف ادراکی تمثیل ہے۔ کتاب میں بہت سے دلچسپ اور کیف انگیز واقعات ہیں جو مصنّف کی خداوندِ قدوس سے بے پناہ عقیدت و محبّت کے غمّاز ہیں۔ آپ نے کئی کتابوں کے حوالے بھی دیئے ہیں جو آپ کے وسیع مطالعہ کا ثبوت ہیں۔
اِس کتاب کا مطالعہ قاری کے ایمان اور ادراک کے لیے مہمیز کا کام دیتا ہے۔ میری نظر میں بعدِ مدّت ایسی دلچسپ، ایمان افروز اور فکر انگیز کتاب منصہ شہود پر آئی ہے۔ بقولِ سعدی شیرازی
این سعادت بزورِ بازو نیست
تا نبخشد خدائے بخشندہ
مولانا روْمی تو مقصدِ حج پر عرفانی اور انسانی منزل کے حصول پر یہاں تک کہہ گئے
دل بدست آور کہ حجِ اکبر است
از ہزاراں کعبہ یک دل بہتر است











