مذاکرات یا مذاق !!!

0
4
رمضان رانا
رمضان رانا

دو سابقہ اور حاضر عالمی طاقتوں کے درمیان جنگ بندی کے بعد ایسی بے یقینی کا سماں نظر آرہا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو پا رہا کہ اس جنگ بندی کے بعد ہونیوالے مذاکرات کے کیا نتائج برآمد ہوں گے؟ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی تب تک مستقل بنیادوں پر نہیں ہوسکتی جب تک اسرائیل اس پر تیار نہ ہو جائے، جو اصل میں اس جنگ کا بنیادی محرک بنا ہوا ہے۔ اسرائیل کا یہ جارحانہ رویہ قدیم سلطنتِ کنعان کے نظریہ توسیع پسندی پر مبنی ہے جسے گریٹر اسرائیل کا نام دیا گیا ہے اور اس منصوبے کے تحت اسرائیل کیلئے قدیم سلطنتِ کنعان کے علاقوں فلسطین، لبنان، شام، اردن، مصر، سعودی عرب اور عراق پر قبضہ کرنا مقصود ہے تاکہ بنی اسرائیل کی قدیم سلطنت کا خواب پورا ہو سکے۔ اسی وجہ سے امریکہ اور ایران چاہے کتنے ہی مذاکرات کرلیں وہ اس وقت تک ناکام ثابت ہوں گے جب تک اسرائیل اس کا حصہ نہیں بنتا۔
ماضی میں بھی امریکہ کی ثالثی اور صدر کلنٹن کی سربراہی میں ہونیوالے اوسلو معاہدے کا یہی حشر ہوچکا ہے جس کے دوران صدر کلنٹن کی صدارت مواخذے میں محض ایک ووٹ سے بچی تھی جبکہ اسرائیل کے وزیراعظم اسحاق رابن کو قتل کر دیا گیا تھا۔ آج ایک بار پھر صدر ٹرمپ اسی قسم کے حالات کا سامنا کر رہے ہیں جہاں ایک طرف امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کی خواہاں ہے تو دوسری طرف اسرائیل نے لبنان کے بعض علاقوں پر حملہ کرکے ان پر قبضہ کرلیا ہے، جو جاری مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ چونکہ اسرائیل کی پشت پناہی کرنے والی بین الاقوامی سیاسی، معاشی اور مالیاتی طاقتیں صیہونی نظریات کی حامل ہیں جن کے ہاتھوں میں یورپ اور امریکہ کے تمام وسائل ہیں اور جن کے اشارے پر پورا مغرب چلتا ہے، لہذا جب تک وہ طاقتیں آمادہ نہیں ہوں گی تب تک یہ مذاکرات صرف مذاق رات ہی ثابت ہوں گے۔ حالانکہ صدر ٹرمپ ایک انتہائی طاقتور صدر نظر آتے ہیں جنہوں نے پہلی مرتبہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پاگل پن کا مظاہرہ کر رہا ہے جو لبنان پر حملہ کرکے امریکہ اور ایران کے مذاکرات کو ناکام بنانے پر تلا ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ماضی میں صیہونی طاقتوں کی حکم عدولی پر صدر رچرڈ نکسن، صدر جمی کارٹر، صدر جان ایف کینڈی اور صدر کلنٹن کو کن حالات سے گزرنا پڑا تھا، لیکن صدر ٹرمپ کا کوئی بھی ایپسٹائن جنسی اسکینڈل کچھ بگاڑ نہیں پایا اور نہ ہی ان پر ہونے والے دو قاتلانہ حملے انہیں ڈرا پائے ہیں۔ مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ مستقبل میں کیا رخ اختیار کیا جاتا ہے اور کیا یہ کوششیں بھی اوسلو معاہدے کی طرح ناکامی کا شکار ہوتی ہیں یا ایران اور امریکہ کے مذاکرات کے کوئی مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں امریکی حکومت اور کانگریس دونوں بے بس نظر آتی ہیں جو جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد کرانے میں قاصر ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا معاشی بدحالی کا شکار ہو رہی ہے۔ آج تیل کی سپلائی میں کمی کی وجہ سے اس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں کیونکہ ایران اور امریکہ کی اس کشیدگی نے توانائی کا شدید بحران پیدا کر دیا ہے جس کو فی الحال روکنا مشکل ہوچکا ہے۔ بہرحال اس وقت مذاکرات یا مذاق رات کا سماں ہے جس پر پوری دنیا کی نگاہیں جمی ہوئی ہیں کہ کب اور کس وقت یہ اعلان ہو کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی پائیدار امن معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے بعد تیل کی ترسیل دوبارہ جاری ہو سکے جو فی الحال رکی ہوئی ہے۔ اس تجارتی راستے پر ایران کا مکمل کنٹرول ہے جس نے اب مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق اپنی بقا کی جنگ میں دوسروں کو بھی لپیٹ میں لینے کا تہیہ کر رکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج بحیرہ فارس سے بحری جہازوں کا گزرنا انتہائی خطرناک ہوچکا ہے۔ عالمی امن اور معیشت کے لیے بہتر یہی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان یہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں تاکہ پوری دنیا توانائی کے اس سنگین بحران سے بچ سکے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاتعداد تجارتی کاروبار بند ہو رہے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here