ایران کا ایٹمی دھماکہ ناگزیر، اسرائیل کو کھلا پیغام اور ٹرمپ کے بدلتے تیور!!!

0
4

مشرقِ وسطیٰ کی بساط پر جاری پسِ پردہ سرگرمیاں اور عالمی طاقتوں کے خفیہ مشنز اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکے ہیں جہاں روایتی سفارت کاری کے بندھن ٹوٹتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ عالمی سیاست کے افق پر ایران کے جوہری عزائم اور ممکنہ طور پر ایٹم بم کی تیاری کے منصوبے نے نہ صرف خطے بلکہ امریکہ، پاکستان اور چین کے مابین قائم باہمی تعلقات کی حرکیات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور بین الاقوامی برادری میں تشویش کی ایک نئی لہر دوڑ چکی ہے، جنگ کے امکانات تو کم ہوتے نظر آ رہے ہیں لیکن پائیدار امن کا خواب بھی ہنوز ادھورا ہے۔ حال ہی میں تہران اور اسلام آباد کے مابین ہونے والے ایک انتہائی حساس اور تزویراتی رابطے نے واشنگٹن کے فیصلہ ساز ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس رابطے کی سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ یہ گفتگو کسی محفوظ یا خفیہ نظام کے بجائے ایک کھلی اور عام فون لائن پر کی گئی۔ یہ کوئی تکنیکی غلطی یا غفلت نہیں تھی بلکہ ایرانی قیادت کی طرف سے دانستہ طور پر اختیار کی گئی ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی تھی تاکہ دنیا بھر کی جاسوسی ایجنسیاں اور سیٹلائٹ نگرانی کے نیٹ ورک اس گفتگو کو بغیر کسی رکاوٹ کے براہِ راست سن اور ریکارڈ کر سکیں۔ اس کھلے پیغام کا اصل مقصد ایک ایسی تنبیہ کو بغیر کسی تاخیر کے واشنگٹن تک پہنچانا تھا جو شاید روایتی سفارتی ذرائع سے وہ اثر اور خوف پیدا نہ کرتی جو اس براہِ راست نگرانی کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔
ایرانی صدر نے پاکستانی وزیرِ اعظم کے سامنے جو سہ رخی تزویراتی الٹی میٹم رکھا، وہ دراصل امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے لیے ایک براہِ راست انتباہ تھا۔ اس پیغام کا پہلا نکتہ یہ تھا کہ اب تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ماضی کی طرح عام جوہری مذاکرات کا سلسلہ مستقل طور پر بند سمجھا جائے اور جب تک خطے میں جاری تمام جنگیں، بیرونی مداخلتیں اور فوجی مہم جوئیاں ختم نہیں ہوتیں، وہ کسی صورت بات چیت کی میز پر نہیں بیٹھے گا۔ دوسرا نکتہ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کے کسی بھی نئے، تبدیل شدہ یا ہلکے ورڑن کی مکمل منسوخی سے متعلق تھا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اب وہ کسی ایسے ادھورے، یکطرفہ یا کمزور معاہدے کا حصہ بننے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے جو ان کے معاشی اور تزویراتی مفادات کا تحفظ نہ کر سکے۔ تیسرا اور سب سے زیادہ چونکا دینے والا نکتہ یہ تھا کہ اگر ایران کے خلاف مسلسل فوجی دھمکیاں، معاشی پابندیاں اور اشتعال انگیزیاں جاری رہیں تو وہ کسی بھی عالمی دباؤ کی پرواہ کیے بغیر اپنی ہی سرزمین پر ایک جوہری دھماکہ کر کے دنیا کو اپنی حقیقی اور حتمی صلاحیت کا مظاہرہ کر دے گا۔ تاہم، ایرانی کادت نے اس بات پر خصوصی زور دیا ہے کہ یہ ممکنہ دھماکہ کسی ملک کے خلاف جنگی کارروائی یا حملے کے طور پر نہیں ہوگا، بلکہ ایک غیر اعلانیہ، خود مختار اور ناقابلِ واپسی مظاہرہ ہوگا جس کا واحد مقصد خطے میں کسی بھی بڑے فوجی تصادم کو روکنا اور اپنی دفاعی برتری ثابت کرنا ہے۔ تزویراتی زبان میں اسے اشتعال انگیزی پر کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت کہا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ تہران اپنے دشمنوں کو یہ باور کروا دینا چاہتا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی تصادم کی سطح، رفتار اور سمت کا تعین کرنے کی مکمل قوت رکھتا ہے۔
پاکستانی قیادت نے اس گفتگو کی سنگینی اور اس کے ممکنہ علاقائی و عالمی اثرات کو فوراً محسوس کیا اور ہنگامی بنیادوں پر اپنے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کو نیویارک سے واشنگٹن روانہ کیا تاکہ امریکی حکام کو اس نازک صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔ چونکہ یہ معاملہ فون پر بات کرنے یا باقاعدہ سفارتی مراسلوں کی شکل میں بھیجنے کے لحاظ سے بہت حساس تھا، اس لیے یہ ملاقات بند کمرے میں آامنے سامنے کی گئی، جہاں امریکی ہم منصب کے سامنے تمام حقائق رکھے گئے۔ اس معلومات کی تزویراتی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے فوری طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک تفصیلی بریفنگ دی، جس کا اثر اتنا گہرا اور غیر متوقع تھا کہ امریکی صدر کے عوامی بیانات اور سفارتی لہجے میں اچانک ایک حیران کن تبدیلی دیکھنے کو ملی۔ وہ صدر جو چند دن پہلے تک ایران کے وجود کو مٹانے اور اسے سخت ترین فوجی نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دے رہے تھے، اچانک انتہائی نرم، مصالحتی اور سفارتی زبان استعمال کرنے لگے۔ انہوں نے اپنے حالیہ بیانات میں یہاں تک کہہ دیا کہ وہ ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات کرنے کو اپنے لیے ایک اعزاز سمجھیں گے اور انہوں نے ایرانی قیادت کی عزتِ نفس، عالمی ساکھ اور خطے میں ان کے احترام کا کھلے عام اعتراف بھی کیا، جس نے دنیا بھر کے سیاسی تجزیہ کاروں اور ماہرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔
ایران کے پاس جوہری ہتھیاروں کی موجودگی یا ان کی فوری تیاری کی صلاحیت کے حوالے سے یہ بحث محض مفروضوں تک محدود نہیں، بلکہ بین الاقوامی رپورٹیں اور معتبر ادارے بھی اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے حال ہی میں ایک تفصیلی اور تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق موجودہ علاقائی جنگوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد اب یہ امکان ماضی کے کسی بھی دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کر لے۔ اسی طرح مغربی دفاعی حکام کے قریبی ذرائع اور عالمی جرائد نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ تہران کے پاس اب وہ تمام تکنیکی معلومات، خام مال اور سائنسی صلاحیت موجود ہے جس کی مدد سے وہ چند دنوں یا زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں کے اندر ایک فعال اور قابلِ استعمال ایٹم بم تیار کرنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ساٹھ فیصد تک افزودہ یورینیم کا ایک ایسا بڑا اور محفوظ ذخیرہ اکٹھا کر رکھا ہے جسے وہ اپنی سیاسی بقا، ملک کی سلامتی اور خود مختاری کے دفاع کے لیے ایک مضبوط مہرے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور وہ اس ذخیرے کا ایک گرام بھی کسی عالمی دباؤ یا نئے معاہدے کے تحت ملک سے باہر بھیجنے پر کسی صورت تیار نہیں ہیں، کیونکہ ماضی کے تلخ تجربات کے بعد اب وہ محض وعدوں اور معاہدوں پر اعتماد نہیں کر سکتے۔
اس پیچیدہ صورتحال میں یہ سوال بھی دنیا کے دفاعی اداروں کے لیے ایک معمہ بنا ہوا ہے کہ کیا ایران نے یہ جوہری صلاحیت مکمل طور پر مقامی سطح پر حاصل کی ہے یا اسے کسی بیرونی طاقت کی خفیہ مدد حاصل رہی ہے؟ عالمی دفاعی ماہرین کے مطابق اس سلسلے میں روس، شمالی کوریا اور پاکستان کا نام تواتر کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر روس کے حوالے سے یہ رپورٹس گردش کر رہی ہیں کہ حالیہ جنگ کے دوران تہران کی طرف سے ماسکو کو فراہم کی جانے والی بڑے پیمانے پر فوجی مدد کے بدلے میں، ماسکو نے اسے جوہری وار ہیڈز کو چھوٹا کرنے کی انتہائی حساس مائیکرو ٹیکنالوجی فراہم کی ہے، جو بیلسٹک میزائلوں پر جوہری ہتھیار نصب کرنے کے لیے بنیادی اور سب سے اہم شرط سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ شمالی کوریا کے ساتھ دیرینہ اور خفیہ تعلقات، میزائل ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور ماضی میں ہونے والے انتہائی خفیہ دورے بھی اس بات کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں کہ پردے کے پیچھے ایک گہرا اور طویل تکنیکی تعاون موجود رہا ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here