عمران خان کو اللہ سبحان و تعالیٰ کی طرف سے جو عزت عطا ہوئی ہے، وہ محض اقتدار یا منصب تک محدود نہیں بلکہ دلوں پر حکمرانی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے، یہ وہ مقام ہے جو صرف اللہ اپنے خاص بندوں کو عطا کرتا ہے۔ عمران خان کی زندگی اور سیاست پر نظر ڈالیں تو واضح ہوتا ہے کہ وہ شخصیات کو نہیں، اقدار کو نمایاں کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کئی ایسے نام جو کل تک عام لوگوں کے لیے اجنبی تھے، عمران خان کی نسبت سے پہچان بن گئے ،سہیل آفریدی کی مثال بھی کچھ ایسی ہی ہے بہت سے لوگ انہیں پہلے نہیں جانتے تھے مگر جیسے ہی عمران خان نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا، لوگوں نے انہیں غیر معمولی محبت اور توجہ دینا شروع کر دی دراصل یہ محبت کسی ایک فرد کے لیے نہیں بلکہ اس سوچ کے لیے ہوتی ہے جو اللہ کے پسندیدہ بندوں سے جڑی ہو۔ عوام یہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص کسی نیک نیت، حق گو اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے رہنما کا انتخاب ہو اس کے اندر بھی کوئی نہ کوئی خیر ضرور ہوگی عمران خان کی سب سے نمایاں صفت یہ ہے کہ وہ اللہ کے رسولل صلی اللہ علیہ وسلم کا نام جس جرت، وقار ، محبت اور عقیدت سے لیتے ہیں ،وہ دلوں کو چھو جاتا ہے، اقوامِ متحدہ جیسے عالمی فورم پر جب وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے دلوں میں بستے ہیں اور ان کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی بھی ہمارے دل کو تکلیف دیتی ہے، تو یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں رہتا بلکہ ایک اُمت کے جذبات کی ترجمانی بن جاتا ہے اور سچ یہ ہے کہ دل کی تکلیف سب سے بڑی تکلیف ہوتی ہے کیونکہ دل ہی ایمان کا گھر ہوتا ہے آج یہی وجہ ہے کہ عمران خان سے وابستہ افراد کو لوگ محض سیاسی کارکن نہیں سمجھتے بلکہ ایک نظریے کے علمبردار کے طور پر دیکھتے ہیں۔ سہیل آفریدی آج کل سٹریٹ پاور کے سلسلے میں پنجاب، بالخصوص لاہور کے دورے پر ہیں، جہاں نوجوانوں، کارکنوں اور عام لوگوں میں ایک خاص جوش و جذبہ دیکھا جا رہا ہے یہ جوش کسی عہدے یا طاقت کے لیے نہیں بلکہ اس یقین کے لیے ہے کہ حق کی آواز دبائی نہیں جا سکتی یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ عزت نہ میڈیا دیتا ہے، نہ منصب اور نہ ہی دولت، عزت صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور جب وہ کسی کو عزت دیتا ہے تو اس کے نام سے جڑے لوگ بھی لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں عمران خان کی اصل کامیابی بھی یہی ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خودداری کی یاد دلاتے ہیں، اور یہی یاد دہانی انہیں باقی سب سے ممتاز بناتی ہے ۔ تازہ غزل کے تین شعر!
جس کو اپنے گھر سے عزت ملتی ہے
اس کو دنیا بھر سے عزت ملتی ہے
کاسہ پکڑے حاکم کو بتلا یہ
عزت پر ہی مر کر عزت ملتی ہے
عامر عزت رب کی ذات ہی دیتی ہے
سب کو اس کے در سے عزت ملتی ہے
٭٭٭














