جدید دور میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ سوشل میڈیا نے کسی بھی ملک کے مین سٹریم میڈیا کو مات دے دی ہے۔ پلک جھبکتے ہی پوری دنیا میں خبر پھیل جاتی ہے دنیا کے تمام اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا سوشل میڈیا کے ذریعے ہی کام چلا رہے ہیں صحافت جیسے مقدس پیشے کو جس قدر تقدس پاکستان میں پامال کیا گیا ہے دنیا میں کسی بھی ملک میں ایسا نہیں ہے جس طرح یزید ملعون نے اُس دور میں ہر چیز پر ناجائز قبضہ کیا تاریخ کو مسخ کردیا۔ آج پاکستان میں بھی یزیدی دور کی روایات جاری ہیں میڈیا پر پابندی ہے عمران خان کا نام بھی نہیں آسکتا ججز کے گھروں پر کیمروں کی خبر نہیں آسکتی 9 مئی ڈرامہ کی ویڈیو نہیں دکھائی جاسکتی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی کوئی خبر نہیں چل سکتی۔ صرف موجودہ جعلی حکومت فارم 47 کی جھوٹی خبروں کی اجازت ہے۔ لیکن پاکستان کے حکمران بالکل بے خبر ہیں کہ عوام اتنی باشعور ہوچکی ہے سوشل میڈیا کے ذریعے پل پل کی خبروں سے باخبر ہیں چند ٹائوٹ جو موجودہ پاکستان حکمرانوں کے اشاروں پر ناچ رہے ان کی بھی تاریخ بن رہی ہے ۔جس طرح جھوٹی خبروں کو سچا بتاتے ہیں اور سچی خبروں کو چھپاتے ہیں میڈیا تو آئینہ ہے اگر درست سمت میں صحافت کی جائے تو جس طرح پاکستان میں کئی صحافی سچ لکھنے کی پاداش میں ظلم ستم کا شکار ہوئے وہ اپنے موقف پر قائم ہیں اور تھے جیسے ارشد شریف نے کہا کہ ہم میڈیا آئینہ دکھاتا ہے اگر اپنا چہرہ بُرا نظر آئے تو آئینہ نہیں توڑتے اپنی شکل کو علاج کے ذریعے درست کریں۔ گزشتہ دنوں واشنگٹن میں KORT کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ کے زیراہتمام فنڈریزنگ تقریب میں متنازعہ کار کی آکشن کو متنازعہ چھوڑ دیا گیا۔اس تقریب کی خبر شائع کی تو KORT کے نومولود عہدیدار اس خبر کو دیکھ کر آپے سے باہر ہوگئے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں گالی گلوچ پر اتر آئے مثال اس لئے دی ہے پاکستان اور کشمیری کمیونٹی میں ایسی ایسی شخصیات موجود ہیں جو اپنے آپ کو چھوٹے چھوٹے مافیا سمجھتے ہیں ان کو نہ تو سچ سننے کی عادت ہے اور نہ سنجیدگی سے معاملات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں سیدھی سی بات تھی جس متنازعہ کار کی خبر آئی KORT انتظامیہ کو اس کی حقیقت اور تفصیلات بتا دیتے تو معاملہ آگے نہ چلتا لیکن سیاسی تنظیمی اخلاقی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے اپنے منفی رویے سے معاملا مزید بگاڑ دیا ہماری پاکستانی صحافی کمیونٹی میں یوں تو کئی ٹائوٹ موجود ہیں ۔لیکن ایک رپورٹر جو انگریزی روزنامے کے لئے رپورٹنگ کرتے ہیں وہ اپنے علاوہ کسی کو صحافی تسلیم نہیں کرتے اور کٹ پیسٹ کے نام سے مشہور ہیں صحافت کا درس دینے والے یہ رپورٹر کمیونٹی کی کسی تقریب کی رپورٹنگ نہیں کرتے فرماتے ہیں میرا اخبار بہت بڑا ہے لیکن ہر جگہ یہ ہوتے ہیں کوئی بلائے یانا بلائے اور کبھی بھی کسی تقریب میں وقت پر نہیں پہنچتے۔ اور اکثر اپنے ساتھ بن بلائے مہمان کو بھی رکھتے ہیں ان کی گزشتہ تین ماہ کی رپورٹنگ اٹھا کر دیکھیں خوشامد اور ٹائوٹ گیری کے علاوہ کچھ نظر نہیں آئے گا یہ موصوف پیپلزپارٹی کے جیالے ہیں ۔موجودہ حالات میں پاکستان کی ناکام حکومت کی جگہ بلاول بھٹو کے وزیراعظم بننے کی خبریں آرہی ہیں تو پاکستان امریکہ تعلقات پر اپنی رائے پیش کرتے ہیں کہ موجودہ دور میں امریکہ پاکستان تعلقات ٹاپ پر ہیں موصوف نے جن لوگوں کے حوالے دیئے ان میں دو خواتین جو پیپلزپارٹی سے تعلق رکھتی ہیں اور ایک امریکن دانشور ہے۔اس کا بیان کٹ پیسٹ کرکے ٹھوک دیا ہے یہ رپورٹر عمران خان سے خاص بغض رکھتے ہیں اس نے کبھی بھی پریس کانفرنس میں تعمیری تنقیدی سوال نہیں پوچھا کبھی کبھی پاکستان میں پانچ ہزار تین سو ارب کی کرپشن کی امریکی رپورٹ پر بات نہیں کی کبھی امریکی کانگریس میں پاکستان کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی قرار داد کی خبر پر بات نہیں کرتے۔ کبھی یورپی ممالک کی پاکستان میں 8 فروری کی دھاندلیوں کی رپورٹ پر بات نہیں کی۔کبھی یو این او کی پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر بات نہیں کی یہ تمام عرض کرنے کا مدعا یہ ہے کہ جب تک ہم سچ نہیں بولیں گے سچ نہیں لکھیں گے یہ چھوٹے چھوٹے مافیاز اسی طرح بدتمیزی مظاہرہ کرتے رہے گے اور کمیونٹی کو بے وقوف بناتے رہیں گے۔ صحافت کے شعبے سے وابستہ لوگ اس بات کا خیال رکھیں کہ حق اور باطل کی پہچان کی ضرورت ہے۔خیال رکھیں کہ اس وقت اپنے ذاتی مقاصد اور نمود نمائش سے ہٹ کر سچ بولنے اور سچ لکھنے پر توجہ دے۔اس طرح سچ لکھنے سے بہتری اور کامیاب ممکن ہے۔ نہ صرف اس دنیا میں کامیابی ہوگی آخرت میں بھی بہتری کے مواقع بن سکتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭














