فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
محترم قارئین! زکوٰة بھی اسلام کے ارکان میں سے ایک عظیم الشان رکن ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ عمل بہت محبوب ہے۔ جب کوئی بندہ مومن اپنے مومن بھائی کی مدد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد کے لئے فرشتے مقرر فرما دیتا ہے اور سات سو گنا سے زیادہ عطا فرماتا ہے اور گناہوں کی مغفرت اور درجات کی بلندی علیحدہ ملتی ہے۔ ایمان والوں کی کامیابیوں کی نشانیوں میں سے ایک زکوٰة کی ادائیگی بھی ہے۔ فرحان خداوند قدوس ہے: ترجمعہ:کامیاب ہیں وہ ایمان والے( جو زکواة ادا کرتے ہیں،سورہ مئومنوں پارہ نمبر18) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورۖ نے فرمایا: جو شخص اپنے مال و دولت کا حق ادا نہیں کرتا قیامت کے دن اس کے پہلو اور پیٹھ جہنم کے سخت گرم پتھروں سے داغی جائیگی اور اس کا جسم وسیع کردیا جائے گا اور جب کبھی اس کی حرارت میں کمی آئے گی تو اس کو بڑھا دیا جائے گا اور اس دن کے لئے طویل کر دیا جائے گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی یہاں تک کہ بندوں کے اعمال کا فیصلہ ہوگا ”ظاہری بات ہے کہ جب زکوٰة کی ادائیگی اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور وسیع جزا عطا فرماتا ہے تو پھر عدم ادائیگی پر ناراضگی اور سزا بھی ہونی ہے ایسے وقت سے ڈرنا چاہئے کہ جب کوئی پرسان حال نہ بنے۔زکواة کی ادائیگی نہ کرنے والوں کے متعلق فرمان ربانی ہے: ترجمعہ:”اور جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے انہیں درد ناک عذاب کی خوشخبری دے دو، جس دن ان کے مال کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اور اس سے ان کے پہلوئوں، پیشانیوں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ ہے جو کچھ تم نے جمع کیا تھا اب اپنے جمع کردہ مال کا مزہ چکھو ”(پارہ نمبر1سورہ توبہ) حضور نبی کریمۖ کا فرمان عالی شان ہے کہ قیامت کے دن فقراء اغنیاء کے لئے باعث ہلاکت ہوں گے جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کریں: اے اللہ: انہوں نے ہمارے حقوق غصب کرکے ہم پر ظلم کیا تھا۔ رب فرمائے گا: مجھے اپنی عزت وجلال قسم! آج میں تمہیں( اے غریبو) اپنے جوار رحمت میں جگہ دو گا اور انہیں (امیروں کو) اپنی رحمت سے دور کر دوں گا۔ پھر آپۖ نے یہ آیت پڑھی ترجمعہ: اور وہ لوگ جن کے مال میں ایک محلوم حق ہے اس کے لئے جو مانگے اور جو مانگ بھی نہ سکے تو محروم رہے (سورہ معارج پارہ نمبر٢٩) حضور نبی کریمۖ کا فرمان عبرت نشان ہے:ترجمعہ: معراج کی رات میرا گزر ایسی قوم پر ہوا جنہوں نے آگے پیچھے چیتھڑے لگائے ہوئے تھے اور جہنم کا تھوہڑایلو اور بدبودار گھاس جانوروں کی طرح کھا رہے تھے میں نے پوچھا: جبریل یہ کون ہیں؟ جبریل علیہ السّلام نے عرض کی: حضور یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مال کا صدقہ( زکوٰة) نہیں دیتے تھے ان لوگوں نے خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ تابعین رضی اللہ عنھم کی ایک جماعت حضرت ابی سنان رضی اللہ عنہ کی زیارت کے لئے آئی۔ جب ان لوگوں کو وہاں بیٹھے کچھ دیر ہوگئی تو حضرت ابی سنان رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارا ایک ہمسایہ فوت ہوگیا ہے چلو تعزیت کے لئے اس کے بھائی کے پاس چلیں محمد بن یوسف الغریابی کہتے ہیں: ہم آپ کے ساتھ روانہ ہوگئے اور اس کے بھائی کے پاس پہنچے تو دیکھا وہ بہت آہ وبکا کر رہا تھا ہم نے اسے کافی تسلیاں دیں، صبر کی تلقین کی مگر اس کی گریہ زاری برابر جاری رہی ہم نے کہا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہر شخص کو آخر مر جانا ہے؟ وہ کہنے لگا: یہ صحیح ہے مگر میں اپنے بھائی کے عذاب پر روتا ہوں، ہم نے پوچھا: کیا اللہ تعالیٰ نے غیب سے تمہیں تمہارے بھائی کے عذاب کی خبر دی ہے؟ کہنے لگا انہیں بلکہ ہوایوں کہ جب سب لوگ میرے بھائی کو دفن کرکے چل دیئے تو میں وہاں بیٹھا رہا میں نے اس کی قبر سے آواز سنی وہ کہہ رہا تھا آہ! وہ مجھے تنہا چھوڑ گئے اور میں عذاب میں مبتلا ہوں۔ میری نمازیں اور روزے کہاں گئے؟ مجھ سے برداشت نہ ہوسکا میں نے اس کی قبر کھودنا شروع کردی تاکہ دیکھوں کہ میرا بھائی کس حال میں ہے؟ جونہی قبر کھلی! میں آگے بڑھا اور اس طوق کو اتارنا چاہا جس کو ہاتھ لگاتے ہی میرا یہ ہاتھ انگلیوں سمیت جل گیا ہم نے دیکھا واقعی اس کا ہاتھ بالکل سیاہ ہوچکا تھا۔ اس نے اس سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے کہا: میں نے اس کی قبر پر مٹی ڈالی اور واپس لوٹ آیا اب اگر میں نہ روئوں تو کون روئے گا؟ ہم نے پوچھا: تیرے بھائی کا کوئی کام ایسا بھی تھا جس کے باعث اسے یہ سزا ملی؟ اس نے کہا کہ وہ اپنے مال کی زکوٰة نہیں دیتا تھا ہم بے ساختہ پکار اٹھے کہ یہ فرمان الٰہی کی واضح تصدیق ہے: ترجعہ: اور وہ جویخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برابر ہے وہ عنقریب جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا۔(پارہ نمبر4 سورہ آل عمران) تیرے بھائی کو قیامت سے پہلے ہی عذاب دے دیا گیا۔ ہم نے یہ کہا اور حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہیں سارا ماجرا سنایا۔ انہوں نے فرمایا:کافر تو دائمی عذاب میں مبتلا ہوں مگر تمہیں عبرت بتانے کے لئے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی یہ حالتیں دکھاتا ہے بس اللہ تعالیٰ سب اہل اسلام پر اپنے فضل وکرم فرمائے اور عمل کی توفیق عطا فرمائے(آمین)۔
٭٭٭٭٭٭












