طلاق محترم قارئین کرام آپکی خدمت میں سید کاظم رضا نقوی کا سلام پہنچے آپ سوچ رہے ہونگے ایک ایسا موضوع جو کسی کو بھی پسند نہیں بشمول باری تعالیٰ کے کہ اللہ پاک کو بھی طلاق ناپسند ہے یہی وجہ ہے مجھ جیسے طالبعلموں کا خیال ہے طلاق جائز نہیں ہے جو فعل رب کریم کو پسند نہ ہو وہ پھر کیسے جائز ہوا؟ خیر میں کوئی عالم دین یا مفتی نہیں ہوں جو بہتر لگا بیان کردیا آپکا میری رائے سے اتفاق کرنا ضروری نہیں البتہ کچھ ایسے مسائل ضرور ہونگے یا مجبوریاں جنکی بنیاد پر شرعی طور پر یہ اختیار دیا گیا کہ طلاق ہو ہم سب اس متنازعہ موضوع پر سوچتے ہیں سنتے ہیں آجکل معاشرے میں بڑھتی طلاق کی شرح جسے دیکھ کر ہر صاحب شعور پریشان ہے بہت سی شریف خواتین جنکا استحصال کیا جاتا ہے انکے مسائل پر کوء سوچتا نہیں آج یہی وجہ اس موضوع کو چنا سوچا اس پر لکھا جائے اور لوگوں کی آرا کو زینت مضمون بنایا جائے تو قارئین مجھے معاف فرمائیے گا اگر کہیں کوتاہی ہوجائے تو لکھنا ایک بڑی ذمہ داری ہے اور اسکا مجھے احساس ہے جو ہر اہل قلم کو نہیں ہوتا طلاق لینے والی عورت کا اصل درد جو کوئی نہیں دیکھتا پاکستان میں میں نے اپنی آنکھوں سے یہ حقیقت دیکھی ہے کہ جب عورت عدالت سے خلع لیتی ہے تو اس وقت وہ خود کو بہت مضبوط سمجھتی ہے اور اسے لگتا ہے کہ اس کے پاس بے شمار راستے اور بے تحاشا آپشن ہیں۔ وہ اس لمحے خود کو ہوا میں اڑتی محسوس کرتی ہے لیکن وقت بڑھتا ہے تو یہی عورت شدید ذہنی دبا، ڈپریشن اور تنہائی کا شکار ہو جاتی ہے۔ گھر کے بیچوں بیچ، ماں باپ اور بہن بھائیوں کے درمیان رہ کر بھی اسے اندر سے ایک ایسی آگ جلاتی ہے جسے کوئی دوسرا محسوس نہیں کر سکتا۔ اس کے دل میں ایک ایسے مرد کی شدید کمی ہوتی ہے جو محض دوست یا وقتی سہارا نہ ہو بلکہ وہ مکمل گھربسانے والا ہسبینڈ مٹیریل ہو۔ اسی خوف کے باعث وہ وہ تمام باتیں اور کمزوریاں بھی دوسرے مرد میں قبول کر لیتی ہے جو اس نے پہلے شوہر میں برداشت نہیں کی تھیں، کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ عمر گزر رہی ہے، اور فیملی بنانا ضروری ہے۔ جس عورت کا کوئی بچہ نہیں ہوتا وہ اندر ہی اندر تڑپتے ہوئے جیتے جی مر جاتی ہے، چاہے اس کا کیریئر کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو۔ اور جس عورت کا بچہ ہوتا ہے وہ وقتی طور پر بچے میں دل لگا لیتی ہے مگر اس کے باوجود وہ دل ہی دل میں ایک ایسے مرد کی تلاش میں رہتی ہے جو اس کے بچے کے لیے بہن بھائی بنا کر گھر کو مکمل کرے۔ خلع لینے والی بہت سی عورتیں پاکستان سے باہر جانے کی خواہش رکھتی ہیں، یہ سوچ کر کہ شاید وہاں جا کر زندگی بہتر ہو جائے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس نکلتی ہے۔ جس کئرکیر پر انہیں یہاں گھمنڈ ہوتا ہے وہ بیرونِ ملک کسی معیار پر پورا نہیں اترتا ہے، اور وہاں انہیں معمولی نوکریاں کرنا پڑتی ہیں۔ تنہائی وہاں پاکستان سے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اور جو پاکستان میں رہ جاتی ہیں وہ باہر جانے کی کوششوں میں وقت اور جوانی گنوا دیتی ہیں اور ذہنی تھکن اور پریشانی میں بالوں کی سفیدی تک بڑھ جاتی ہے۔ ملازمت کی جگہوں پر ان کے کولیگز کے تبصرے کہ “اس کی شادی ٹوٹ گئی تھی” ان کے دل کو اور زخمی کر دیتے ہیں۔ جب وہ اپنے کولیگز کے خوشگوار گھروں، بچوں اور شوہروں کے ساتھ زندگی دیکھتی ہیں تو اندر ایک اور درد جنم لیتا ہے۔ یہاں تک کہ سالوں گزر جانے کے بعد بھی کئی عورتیں خلع لینے کے فیصلے کو یاد کر کے اندر سے ٹوٹتی رہتی ہیں۔ جیسے ایک عورت نے مجھے بتایا کہ خلع اس نے خود لی تھی، مگر اس کے بعد اس کے شوہر نے مجبورا دوسری شادی کر لی، اور وہ خود بعد میں ایک بڑی عمر کے مرد سے شادی پر مجبور ہو گئی۔ چار پانچ سال گزر جانے کے باوجود اس کے دل میں وہی درد، وہی خلش اور وہی پچھتاوا باقی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آج کی عورت شریعت کو بھی اپنی پسند کے مطابق موڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ چیٹ جی پی ٹی اور سوشل میڈیا سے وہ دلائل تلاش کرتی ہے جو اس کے جذبات کے مطابق ہوں، مگر حقیقت یہ ہے کہ معاشرہ خلع لینے والی عورت کو کبھی آسانی سے قبول نہیں کرتا۔ اگر وہ اپنا پہلا گھر سمجھداری، صبر اور اللہ کے حکم کے مطابق بچا لیتی تو آج اسے یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ خلع اور طلاق والی عورت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ خلع کے کیسوں میں اکثر عورتوں کا ایک ہی طرح کا اسکرپٹ سننے میں آتا ہے کیونکہ وکیل جو کچھ لکھ دیتا ہے، عورتیں وہی زبانی یاد کر لیتی ہیں تاکہ کیس مضبوط ہو سکے۔ کئی باتیں حقیقت پر نہیں بلکہ کیس جتوانے پر مبنی ہوتی ہیں، اور یہ بعد میں زندگی میں زخم بن کر رہ جاتی ہیں۔ کاش عورتیں اللہ کے احکامات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں، کیونکہ نکاح کا گواہ اللہ ہوتا ہے۔ میاں بیوی میں جس کا بھی قصور ہو، اللہ کا قانون اس کا انصاف خود کرتا ہے۔ جس عورت نے مشکل میں شوہر کا ساتھ دیا اللہ نے ہمیشہ اس کے نصیب میں بہتری رکھی، اور جس نے شوہر کو جھوٹے الزامات، عدالتوں اور خلع کے بے بنیاد دعووں میں دھکیلا اس کے حصے میں اکثر تنہائی، ڈپریشن اور پچھتاوا ہی آتا ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ خود ہوتا ہے، اور گھروں کو برباد کرنے والوں سے اللہ کی نصرت ہٹ جاتی ہے۔ نکاح ایک عبادت ہے، امانت ہے، آزمائش بھی ہے اور سکون بھی مگر یہ تبھی قائم رہتا ہے جب دونوں اللہ کے حکم کو پہلو میں رکھ کر فیصلے کریں، نہ کہ جذبات اور وقتی غصے میں۔ جو عورت یا مرد اپنا گھر اللہ کے خوف اور صبر کے ساتھ بچاتا ہے، اللہ اس کے نصیب میں بہتر راستہ کھولتا ہے۔ اور جو اپنے فیصلے خواہشات اور گمانوں پر چھوڑ دے وہ آخرکار اسی گمان کا شکار ہو جاتا ہے۔ اللہ ہم سب کو گھروں کو جوڑنے، سمجھ داری کے ساتھ چلنے اور اپنے فیصلوں میں اللہ کی رضا کو اولین رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ میری دعا ہے ہر بہن اور بیٹی کا گھر آباد رہے اور وہ کبھی بھی اس لفظ طلاق کو اپنے کانوں سے نہ سنے اسکا شوھر ہر حال میں اسکے ساتھ رہے اور عزت کے ساتھ رکھے انسان روکھی سوکھی کھاکر غربت میں گزارہ کرلے لیکن یہ داغ کسی بھی شریف خاندان عورت و مرد کے دامن پر کبھی نہ لگے آمین !
٭٭٭
















