قارئین کرام! جس وقت ہمارا یہ کالم آپ کے زیر مطالعہ آئے گا سال 2026ء کا آغاز ہو چکا ہوگا، ہماری بالذات اور ادارے کی جانب سے اپنے قارئین اور اکناف عالم کو نئے سال کی پُرخلوص مبارکباد اور اللہ رب العزت سے دعا کہ یہ سال ہر ذی روح، تمام اقوام و ممالک بالخصوص اُمت مسلمہ اور وطن عزیز کیلئے سکون، امن و آشتی اور شادمانی و کامرانی کا سبب ہو، آمین۔ ہم 13 دسمبر سے وطن مالوف پاکستان میں ہیں اور اپنے اہلیان خاندان، عزیز و اقارب، دوستوں، ساتھیوں اور کرمفرمائوں کیساتھ لمحات مسرت گزارنے کے علاوہ سماجی و صحافتی سرگرمیوں میں بھی شامل رہے ہیں۔ ہماری مصروفیات کا احوال تو ہمارے کالموں اور خبروں کے توسط سے آپ تک پہنچتا رہا ہے تاہم اپنی صحافتی ذمہ داریوں سے بھی غافل نہیں رہے ہیں کہ یہی ہمارا اولین پروفیشنل فریضہ ہے۔ ہمارا منشور یہی ہے کہ موجودہ عالمی خصوصاً وطن عزیز کے معروضی حالات اور ان کے اثرات کو بلاتخصیص و تعریف اپنے قارئین خصوصاً اوورسیز ہموطنوں تک پہنچاتے رہیں۔ بقول مرزا غالب ”صادق ہوں اپنے قول کا غالب خدا گواہ، کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے”۔
سال 2025ء جاتے جاتے اپنے پیچھے عالمی حوالوں سے وہ سارے قضیات و مسائل تو چھوڑ ہی گیا ہے جو گزشتہ کئی برسوں بلکہ بعض حوالوں سے کئی عشروں سے عالمی امن و سکون اور قوموں کیلئے ہیجان خیز ہیں۔ غزہ کے ناطے اسرائیل کے فلسطینیوں پر مظالم اور قتال و تباہی کے معاملات ہوں، روس و یوکرین تنازعہ ہو یا دیگر حربی و معاشی امور، بڑی طاقتوں کے درمیان اپنی سبقت ثابت کرنے کا کھیل بنے ہوئے ہیں۔ جن کا اختتام بادیٔ النظر میں ممکن نہیں کہ دیگر ممالک و ادارے محض ان بڑی طاقتوں کے ٹولز ہیں اور اسی حوالے سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ جہاں تک وطن عزیز کا تعلق ہے، 2025ء میں ازلی دشمن بھارت کا غرور مٹی میں ملا دینے کے نتیجے میں عالمی اُفق پر عسکری و سفارتی سطح پر پاکستان نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، گارڈین میں ٹرمپ کے حوالے سے پاکستان کی حمایت اور بھارت کی رُسوائی پر مضمون اس کی تازہ ترین گواہی ہے جبکہ سعودی عرب کے بعد لیبیا سے دفاعی معاہدہ اہم ثبوت بنتا ہے۔ یہ سب بہت اچھا لیکن اندرون خانہ جو کچھ ہو رہا ہے اسے ناصرکاظمی کے الفاظ میں ”ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر، اُداسی بال کھولے” کے سواء کچھ نہیں کہا جا سکتاہے۔ یہ اُداسی بالخصوص سیاسی تماشہ بازی اور قوم کی مایوسیوں کے سبب ہی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہم گورنر ہائوس پنجاب میں ڈاکٹر سمیر شفیع کی طبی و فلاحی تنظیم IPAC کی تقریب میں شریک تھے ہماری ملاقات اپنے دیرینہ ساتھیوں اور حکومتی و لیگی ساتھیوں سے ہوئی تو موجودہ سیاسی حالات خصوصاً وزیراعظم کی حزب اختلاف کو مذاکرات کی پیشکش پر ہوئی گفتگو کا ماخذ یہی سامنے آیا کہ پیشکش محض حجت تمام کرنے کی خاطر ہی ہے ورنہ دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی اور اس آگ پر پانی ڈالنے کے برعکس تیل ہی ڈالا جا رہا ہے یہ عمل یکطرفہ نہیںبلکہ بلکہ ہر دو فریقین اس پر ہی کار بند ہیں، حکومتی فریق مقتدرین کے ایجنڈے اور اپنے سروائیول کیلئے تو دوسرا فریق اپنے بیانیے اور وجود کے تحفظ و قائد کی سلامتی کیلئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ صورتحال نتیجہ خیز ہو سکتی ہے؟ مذاکرات کی پیشکش کے جواب میں نامزد کردہ محمود اچکزئی و علامہ ساجد حسن نے جو چار نکات پیش کیے ان میں خان کی رہائی کا کوئی ذکر نہیں جبکہ پی ٹی آئی کا مطالبہ خان کی رہائی اور مینڈیٹ کی واپسی پر ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی جس شاخ پر حکومت کا بسیرا ہے کیا وہ اسے کاٹنے پر راضی ہوگی۔ سونے پر سہاگہ ہر دو جانب سے بد کلامی، ہرزہ سرائی حتیٰ کہ گالی، کوسوں کا طومار اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ نوبت ڈیمارش تک پہنچ گئی ہے۔ سہیل آفریدی کے دورۂ پنجاب کے ناطے جو کچھ ہوا کیا وہ ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کیساتھ دوسرے صوبے والوں کو زیب دیتا ہے؟ اس تمام تر صورتحال کے نتائج مثبت تو ہرگز نہیں البتہ وطن عزیز کیلئے خصوصاً اس صورتحال میں جب ہم سہ طرفہ دشمنوں کا مابلہ کر رہے ہیں نقصان و عدم استحکام کا پیش خیمہ ہی ہونگے۔ ہم ایک محب وطن پاکستانی ہوتے ہوئے وطن عزیز کی بقائ، تحفظ اور خوشحالی کے داعی ہیں اور اس حوالے سے اظہار تمنا کرتے رہیں گے کہ مفاہمت و مذاکرات ہی موجودہ حالات کا بہترین راستہ ہیں۔ ہمارے متعدد گزشتہ کالم بھی ہمارے مؤقف کی شہادت ہیں اور غالب کے اس مصرعے کی تصویر ”کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے”۔
٭٭٭














