آقائے کائنات کے چند مشاہیر اجدادِ کرام
خداوندِ قدوس نے جہاں اپنے حبیب لبیب ۖ کو دیگر اوصاف وکمالات میں اری مخلوقات میں افضل واعلیٰ بنایا وہیں حسب ونسب کے اعتبار سے بھی آپ کو مابہ الاامتیاز فضلیت بخشی۔ میرے اس دعوے کے اشتہاد میں مشکوٰة شریف فضائل سیدالمرسلین کی مندرجہ ذیل حدیث کافی ووافی ہوگی۔ بعینہ ایسی ہی حدیث مسلم شریف کے اندر بھی موجود ہے۔ سرورِ کائنات ۖ نے فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں ”کنانہ” کو برگزیدہ بنایا اور کنانہ میں سے قریش کو چنا اور قریش میں سے بنی ہاشم کو منتخب فرمایا اور بنی ہاشم میں سے مجھ کو چن لیا۔ ایک عربی شاعر نے بڑے واضح انداز سے اس حقیقت کی اس طرح عکاسی کی ہے۔
لہ النسب العالی فلیس کمثلہ
حسیبّ نسیبّ منعمّ متکرَّمّ
یعنی حضور پر نورۖ کا نسب پاک اس قدر بلند وبالا ہے کہ کوئی بھی حسب والا، نسب والا، نعمت والا اور بزرگی والا آپ کے مثل نہیں۔ سرورِ کائنات ۖ کے افضل واعلیٰ خاندان کی شرافت ونجابت ایسی مسلّم ہے کہ دوست تو دوست بدترین دشمن کفارِ مکہ کو بھی مجال انکار نہ رہی جیسا کہ بخاری شریف کی پہلی جلد کے اندر جناب ابوسفیان کا قول واقرار آج بھی منقش ہے، ہر چند کہ ابوسفیان اس زمانے میں نبی کریم ۖ کے جانی دشمن تھے مگر پھر بھی الحق یعلوولا یعلیٰ کے تحت ہر قل شاہِ روم کے سامنے بھرے دربار میں آپ کے اعلیٰ نسب کا اعتراف کرتے ہوئے یہ برملا اظہار کرنا پڑا ”ھوفینا ذونسب” یعنی رسول اللہ ۖ ہم میں عالی نسب ہیں۔ سرکارِ ابد قرار ۖ کے حسب ونسب سے متعلق ہر قل کے سوال پر ابوسفیان کچھ بھی کہہ سکتے تھے کیونکہ ان کا مقصودِ اصلی شاہِ روم کی نظروں میں رسولِ دو عالم ۖ کے وقار کو مجروح کرنا تھا مگر چاہ کر بھی وہ ایسا نہ کرسکے، برخلاف اس کے انہیں کہنا پڑا کہ بلاشبہ محمد ۖ نسب وحسب کے اعتبار سے ہم سب سے اعلیٰ وارفع ہیں۔ اسے کہتے ہیں الفضل ماشھدت بہ الاعدائ۔ یعنی فضیلت اسے کہتے ہیں کہ دشمن بھی سرِ تسلیم خم کردیں۔
٭٭٭

















