پاکستان ہو یا بھارت یادنیا کا کوئی بھی ملک ہو جہاں ہندوستانی کلچر کے لوگ آباد ہوں اُن کی پیشانی پر یہ سُن کر شکنیں نمودار ہوجاتیں ہیں کہ یہودیوں کے تہوار کے دوران آسٹریلیا میں ہونے والی دہشت گردی کی واردات میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے باپ بیٹے ملوث تھے، حیدر آباد کے لوگ جہاں اپنی منفرد تہذیب وثقافت کی وجہ کر پہچانے جاتے ہیں جس میں اسلام کا مذہبی جذبہ ، اُردو زبان کی
پاسداری اور شعر و شاعری کا شوق کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے کس طری ایسی حرکت کے مرتکب ہو سکتے ہیں، تو پھر بات ہوگئی وہی ڈھاک کے تین پات کی، جب یکم اکتوبر 2017 ء کے دِن ایک 64 سالہ امریکی اسٹیفن پیڈوک لاس ویگاس میں ایک میوزک فیسٹیول کے دوران مشین گن کی گولیوں سے ساٹھ افراد کو ہلاک اور پانچ سو سے زائد کو زخمی کرسکتا ہے تو حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے باپ بیٹے ساجد اور نوید اکرم اُسی منفی جذبات کی رو میں بہہ سکتے ہیں، اسٹیفن پیڈوک کے پاس نہ کوئی مقصد تھا اور نہ کوئی انتقامی جذبہ وہ محض اپنے شوق کو پورا کرنے کیلئے اپنے مشین گن کو آزمایا تھاجبکہ اکرم اسکوائر سالوں سال سے نیتن یاہو کے حکم سے غزہ میں ہونے والے قتل عام کے شاہد تھے۔ ساجد اکرم جو آسٹریلیا میں حنوکا کے جشن کے دوران پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا اُس کی پیدائش حیدر آباد شہر کے پُر امن ماحول میں ہوئی تھی ، لیکن بیٹے نوید اکرم کی پیدائش آسٹریلیا کی تھی،دونوں باپ بیٹے اپنے آبائی وطن سے دور کس ماحول میں میں سانس لے رہے تھے ، دونوں کے درمیان کیا رشتہ تھا ، دونوں فرصت کے اوقات کس موضوع پر گفتگو کیا کرتے تھے؟ کیا اُنہوں نے مشترکہ طور پریہودیوں کے تہوار پر حملہ آور ہونے کا فیصلہ کیا تھا یا باپ نے اپنے خیالات کو اپنے بیٹے پر مسلط کرنے کی کوشش کی تھی ، کیا دونوں نے اپنے کرتوت کو مقدس فریضہ سمجھا تھا ؟ یہ سارے سوالات کے جوابات صرف نوید ہی دے سکتا ہے،بہر کیف دہشت گردی کی واردات جس میں پندرہ جانیں ضائع ہوگئیں اور جس کی وجہ کر اکرم کا بیٹا نوید گرفتار ہو گیا حیدرآباد کے علاقے محلے ٹولی چوکی کے لوگوں کیلئے کسی خوش نویدی کا پیغام نہیں لایا بلکہ اُن کی ساکھ راتوں رات پُر امن لوگوں سے جنگجو میں تبدیل ہوگئی اور وہ محتاط زندگی بسر کرنے کے پابند ہوگئے اور گھرے ہوئے ہندوؤں کے حصار میں وہ گھر سے نکلنا بھی بند کردیا۔50 سالہ مسٹر اکرم چھ ملین مسلمانوں میں سے ایک تھا جو روزگار اور خوشحال زندگی کی تلاش میں بھارت کو خیر باد کہہ کر کسی دوسرے ملک میں جا کر آباد ہوگیا تھا اگرچہ بھارت میں مسلمان وہاں کی آبادی کے پندرہ فیصد نفوس پر مشتمل ہیں ِ ، لیکن ترک وطن کرنے میں اُن کا شمار ایک تہائی فیصد ہے۔اِن مسلمانوں کی اکثریت حیدر آباد سے ہے جو 1940 ء سے بھارت سے ترک وطن کرکے کسی اور ملک میں جاکر آباد ہوگئے ہیں،بیشتر وہ پاکستان چلے گئے اور اُس کے بعد آسٹریلیا ، انگلینڈ ، کینیڈا اور امریکا شامل ہے ، اور امروز فردا میں اُن کی منزل مشرق وسطیٰ کے ممالک ہیں،ٹولی چوکی جہاں سے مسٹر اکرم کا تعلق رہا ہے ، وہاں کے ہر گھرانے کا کوئی شخص ترک وطن کرکے کسی دوسرے ملک میں جاکر آباد ہوگیا ہے لیکن بہت سارے حیدرآبادیوں نے جب غیر ملک میں کام کرکے معقول رقم جمع کرلی تو وہ واپس بھارت چلے گئے، ٹولی چوکی میں مقیم ایک حیدرآبادی نے بتایا کہ اُس کے چھوٹے بھائی بارہ سال تک برطانیہ اور نیدرلینڈز میں کام کرکے بھارت واپس آگیا ، اُس کے بھارت پہنچتے ہی اُس کے رشتہ داروں نے اُس کی شادی کردی ، اور وہ جو رقم لے کر آیا تھا اُس سے اُس نے کاروبار شروع کردیا، آخر وہ لوگ بھارت میں رہ کر کس طرح ایک مکان کی تعمیر اور دو شاہانہ شادی کرنے کی استطاعت کر سکتے تھے۔مسٹر اکرم جو آسٹریلیا میں پولیس سے فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوگیا تھا، جب 1998 ء میں وہ آسٹریلیا گیا تو اُس نے اپنی بہن اور بڑے بھائی کو ٹولی چوکی ہی میں اپنے رشتہ داروں کے پاس چھوڑ دیا تھا،ٹولی چوکی کے کچھ لوگوں نے مسٹر اکرم کے بارے میں بتایا کہ وہ لوگ معزز ہیں لیکن اُن کا میل ملاپ دوسروں سے زیادہ نہیں، واردات کے بعد مسٹر اکرم کے رشتہ داروں نے پولیس کو بتایا کہ اُن کا موصوف سے ربط ضبط بہت محدود ہے اور اُنہیں اُس کے طرز فکر یا نظریات کے بارے میں کوئی معلومات نہیںاور نہ ہی اُنہیں یہ معلوم ہے کہ کن وجوہات کی بناء پر مسٹر اکرم ایک دہشت گرد بن گیا تھا بعد ازاں مسٹر اکرم کے بھائی اپنے گھر کے دروازے پر قفل لگادیا اور پریس کے خوف سے وہ دوسری جگہ منتقل ہوگئے۔الحسنات ہاؤسنگ کمپلکس جہاں مسٹر اکرم کی بہن اور بھائی رہتے ہیںاُس کے صدر مجیب عبداﷲنے دعویٰ کیا کہ وہاں صرف امن پسند لوگ رہتے ہیں اور یہ محض ایک سانحہ ہے جو وقوع پذیر ہوگیا، مجیب عبداﷲ خود بھی بھارت سے ایک طویل عرصے تک باہر رہ چکے ہیں۔ وہ 35 سال تک دبئی میں گزارنے کے بعد پھر حیدرآباد واپس لوٹے ہیں، اُنہوں نے اخباری نمائندے کو ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سارے حیدرآبادی غیر ملک میں محفوظ زندگی، معیار زندگی کی بلندی، ذہنی سکون اور زیادہ آمدنی کے حصول کیلئے جاتے ہیں۔بقول نینی سیٹی ایک مورخ اور صحافی کہ ٹولی چوکی اور حیدرآباد سے ترک وطن کرنا وہاں کا ایک کلچر ہے، اِس کا آغاز 1947 ء سے اُس وقت شروع ہوا جب بھارت نے انگریزوں سے آزادی حاصل کی، بھارت کی نئی حکومت اسٹیٹ آف حیدرآباد پر فوجی کاروائی سے قابض ہوگئی اور جو فرقہ وارانہ فسادات اور وسیع پیمانے پر ہنگامہ آرائی کا باعث بن گیا۔











