پاکستان میں آئے دن جعلی ڈگریوں کا چرچا جاری رہتا ہے، جس کی زد میں وہ یونیورسٹیاں بھی شامل نظر آتی ہیں جن کا کبھی بہت بڑا معیار ہوا کرتا تھا اور جن کی تعلیم دنیا بھر میں قابل قبول ہوا کرتی تھی۔ ان میں پنجاب اور کراچی کی جامعہ قابل ذکر ہیں، جن کے تحت میڈیکل، انجینئرنگ، قانون، معاشیات، سیاسیات، سائنس اور دوسرے اہم تعلیمی مضامین شامل ہوا کرتے تھے۔
اب جب مذکورہ یونیورسٹیوں کے اندر تعلیمی معیار میں گراوٹ یا نقل اور جعلی ڈگریوں کا نام آتا ہے تو سابقہ طالب علم کی حیثیت سے دل بہت خراب ہوتا ہے۔ اسی طرح کراچی کا ڈاؤ میڈیکل کالج اور جناح میڈیکل کالج بھی بہت اعلیٰ معیار رکھتے تھے، جو اب مشکوک ہو چکے ہیں۔ یہی حال باقی صوبوں کا ہے جہاں آئے دن جعلی ڈگریوں کا اجراء تعلیمی معیار کو بری طرح متاثر کر رہا ہے اور اس کی وجہ سے قابل طلباء بھی زیر عتاب آ چکے ہیں۔
پچھلے ہفتے خبروں میں آیا کہ شاہ عبداللطیف یونیورسٹی نے اپنی درسگاہ کی ایک ہزار ایل ایل بی کی ڈگریاں مسترد کر دیں جو جعلی تھیں اور جن کا مقصد دھوکہ دہی اور فراڈ سے ڈگریاں حاصل کرنا تھا۔ ان ڈگریوں کے حاملین آج مختلف عدالتوں میں وکالت کر رہے ہوں گے۔ اسی طرح پچھلے دنوں حیدرآباد یونیورسٹی کی جعلی ڈگریوں کا چرچا تھا اور یہی حال شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا کا ہے جہاں بزور طاقت طلباء کو پاس کرایا گیا ہے۔ وہ طلباء بھی آج مختلف عدالتوں میں وکالت کر رہے ہیں جو وقت آنے پر جج بھی بن سکتے ہیں۔
مزید برآں، پچھلے دنوں سندھ میں 1561 اسکول ٹیچر ایسے پائے گئے ہیں جو میٹرک بھی پاس نہیں ہیں، مگر وہ ایسے طلباء کو پڑھا رہے ہیں جو کل مختلف شعبوں کے ماہرین بنیں گے۔ یہی حال پورے ملک کا ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے نام نہاد کاروباری انگلش میڈیم اسکولوں کے نام پر دولت کمانے والوں کے اسکولوں میں اے اور او لیول کے پرچے آؤٹ ہو رہے ہیں، حالانکہ ان کے تعلیمی نظام کی نمائش برطانیہ جیسے ملکوں سے ملا کر کی جاتی ہے۔
پاکستان میں 1980 کے بعد تعلیمی معیار اس قدر بری طرح گر چکا ہے کہ آج کورنگی کراچی کے کسی عام اسکول سے بیرسٹر کا سرٹیفکیٹ مل رہا ہے، یا پھر گلی کوچوں کے اسکولوں سے میڈیکل کے ڈاکٹر، وکیل اور دوسرے پیشہ ور حضرات سامنے آ رہے ہیں۔ اس صورتحال سے انسانوں کی جانوں اور حقوق کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، کیونکہ جب جعلی ڈگریوں والے ڈاکٹر اور وکلاء پیدا ہوں گے تو عوامی زندگی مفلوج ہو کر رہ جائے گی، جہاں ایک دوا سے اور دوسرا قانون کے ذریعے شہری کی جان و مال بچاتا ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کیوں اور کیسے ہو رہا ہے جبکہ ملک بھر میں جعلی ڈگریوں کا شور و غل مچا ہوا ہے۔ اس تمام تر صورتحال پر صوبائی اور مرکزی حکومتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں اور شاید وہ نہیں جانتیں کہ اس سے دنیا بھر میں پاکستان کا تعلیمی معیار تسلیم نہیں کیا جائے گا اور ایک بار پھر عہد جہالت کا دور دورہ ہو جائے گا۔
نقل اور جعلی پن میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ نقل پاکستان میں پہلے بھی ہوا کرتی تھی اور آج بھی ہو رہی ہے، جس میں طلباء اپنے بازوؤں، ہاتھوں یا ٹانگوں پر کسی متوقع سوال کا مختصر جواب لکھ کر امتحانی مرکز میں لایا کرتے تھے اور کبھی کبھار پکڑے جانے پر انہیں سزا کے طور پر باقی امتحان سے باہر نکال دیا جاتا تھا۔ اس کا ایک مختلف مظاہرہ امریکہ میں نظر آتا ہے، جس کا راقم الحروف خود بھی گواہ ہے کہ وہاں درسگاہوں میں بعض مضامین کا ٹیسٹ اوپن بک کہلاتا ہے، جس میں آپ امتحان کے دوران کتاب کھول کر دیکھ اور لکھ سکتے ہیں، یا پھر بعض ٹیسٹ گھر پر کمپیوٹر وغیرہ استعمال کر کے دیے جاتے ہیں۔ تاہم اس ٹیسٹ میں بھی وہی امیدوار کامیاب ہوتا ہے جس نے کتابوں کا باقاعدہ مطالعہ کیا ہو، ورنہ وہ اپنے سوال کا جواب کتابوں میں کبھی ڈھونڈ نہیں پائے گا۔
اس لیے اگر کہا جائے کہ پاکستان کے پرانے وقتوں کی نقل کا مواد آج امریکہ کے اوپن بک امتحان کے مقابلے میں کوئی معنی نہیں رکھتا، تو بے جا نہ ہوگا۔ مگر بغیر پڑھے لکھے ڈگریاں حاصل کرنا تعلیمی معیار کے ساتھ وہ زیادتی ہے جس سے حقیقی پڑھنے لکھنے والے اور قابل طلباء شدید متاثر ہوں گے اور ان کی ڈگریاں بھی مشکوک ہو جائیں گی، نیز انہیں غیر ملکوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ نہیں ملے گا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کو ایک ایسی سمت دھکیلا جا رہا ہے جہاں ہر قسم کی ڈگری مشکوک ہو جائے تاکہ ملک ہر میدان میں ناکارہ اور نااہل نظر آئے، جیسا کہ آج عملًا ہو رہا ہے۔
پاکستان کا پورا نظام درہم برہم ہو رہا ہے اور خاص طور پر تعلیمی معیار کا گرنا کسی بھی ملک کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ جب ملک میں اچھے سائنسدانوں، ڈاکٹروں، وکلاء اور دوسرے پیشہ ور افراد کی ناقص تعلیم کی وجہ سے قلت پیدا ہو جائے گی، تو نہ اچھے پیشہ ور لوگ ملیں گے اور نہ ہی کوئی کاروبار صحیح سے چل پائے گا۔ ترقی کے لیے تعلیمی معیار کا بہتر ہونا لازمی ہے اور ہر ادارے کو معیاری تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے، جس کا پاکستان میں فقدان پیدا ہو رہا ہے اور یہ چیز ملک کو مزید پسماندگی کی طرف دھکیل دے گی۔

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)












