سلگتا فرانس اور عالمی سیاست کی نئی صف آرائیاں!!!

0
1

فرانسیسی سرزمین پر اس وقت جو ہنگامہ خیز مناظر دکھائی دے رہے ہیں وہ محض چند شہریوں کا احتجاج نہیں بلکہ اس نظام کا منطقی انجام ہیں جو برسوں سے عوامی حقوق کو پس پشت ڈال رہا ہے۔ پیرس کی سڑکوں پر اٹھنے والا طوفان اس بات کا غماز ہے کہ اب عام آدمی مہنگائی، زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور بنیادی سہولتوں کے فقدان سے عاجز آ چکا ہے۔ جب حکومتیں عوام کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوتی ہیں اور مکالمے کے دروازے بند کر کے جبر کا راستہ اختیار کرتی ہیں تو پھر سڑکوں پر نکلنا ہی واحد چارہ رہ جاتا ہے۔ فرانسیسی صدر کے ایوانوں میں بیٹھے حکمران اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں کہ موجودہ بحران کا تعلق براہ راست نظام کی اقتصادی نا انصافیوں سے ہے۔اس صورت حال نے فرانس کی روایتی جمہوریت کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی کے راستے مسدود ہوتے نظر آتے ہیں۔ ریاست کی بنیاد جن اصولوں پر رکھی گئی تھی آج وہی اصول سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کی جکڑ بندیوں نے آزادی اور مساوات کے تمام تصورات کو محدود کر کے رکھ دیا ہے۔ جب دولت چند مخصوص ہاتھوں میں مرتکز ہو جائے اور عام انسان روزمرہ کی روٹی کے لیے ترسنے لگے تو پھر قانون کی رٹ قائم رکھنے کے لیے فوج یا ہنگامی حالات کا سہارا لینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس میں مزید شدت پیدا کرنے کے مترادف ہے۔
دوسری طرف بین الاقوامی سطح پر اس بحران کو ایک نیا رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے اس عوامی احتجاج کو ہجرت اور مذہب کے ساتھ جوڑنے کا مقصد اصل مسائل سے توجہ ہٹانا اور اپنی پسندیدہ حکومت کو بچانا ہے۔ جب بھی کسی خطے میں عوامی تحریکیں اٹھتی ہیں تو عالمی طاقتیں اپنے معاشی مفادات کے تحت بیانیے تراشتی ہیں۔ فرانس کے اندر مہنگائی اور معاشی دباؤ کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو لسانی یا ثقافتی عصبیت کا رنگ دے کر دراصل اس نظام کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے جو پوری دنیا میں عدم مساوات کا سب سے بڑا ذمہ دار ہے۔ سرحدیں بند کرنے اور قوانین سخت کرنے کے نعرے دراصل عوامی تحریکوں کے اصل جوہر کو دبانے کی گھناؤنی سازش ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی معاشرہ اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے تو حکمران طبقہ بیرونی خطرات یا نظریاتی تقسیم کا سہارا لے کر عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ فرانسیسی عوام نے جس انداز میں یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے اور مشکلات کے باوجود اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب پرانی کہانیاں زیادہ دیر نہیں چل سکتیں۔ اگر آنے والے دنوں میں عوامی مطالبات کو نظر انداز کیا گیا اور جبری اقدامات کا سلسلہ جاری رہا تو یہ اشتعال پورے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ حکمران طاقت کے غرور سے باہر نکل کر زمینی حقائق کا ادراک کریں ورنہ تاریخ کا یہ دھارا ان تمام بنیادوں کو بہا لے جائے گا جن پر یہ نام نہاد ترقی یافتہ معاشرے کھڑے ہیں۔
جنگ کے بادل اور یمنی دلدل کے تباہ کن اثرات
مشرق وسطیٰ کا پورا خطہ اس وقت ایک انتہائی خطرناک اور پیچیدہ جنگی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں امریکی فوجی طاقت، اسرائیلی عزائم اور ایرانی دفاعی صلاحیتوں کے مابین کشیدگی نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ یمن کی سرزمین پر جاری خونریز لڑائی اب صرف ایک مقامی تنازع نہیں رہی بلکہ خلیجی سلامتی اور عالمی توانائی کی گزرگاہوں کے لیے ایک سنگین وجودی خطرہ بن چکی ہے۔ یمنی صدارتی کونسل اور حوثی تحریک کے درمیان جاری اس کشمکش نے خطے کے تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور جنگ اب کسی کے بھی قابو میں نظر نہیں آتی۔ تائز کا شدید ترین محاصرہ اور صدارتی محل پر ہونے والے ہلاکت خیز حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یمنی محاذ پر دفاعی نظام مفلوج ہو چکا ہے اور حکومتی رٹ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ دوسری طرف متحدہ عرب امارات کی یمنی میدان جنگ میں دوبارہ واپسی اور جنوبی یمنی علیحدگی پسند کونسل کی سرگرمیاں اس تنازع کو مزید الجھا رہی ہیں جہاں خلیجی اتحادیوں کے اپنے اسٹریٹجک مقاصد اور اختلافات اس بحران کو طول دے رہے ہیں۔
اس سفارتی اور عسکری محاذ آرائی کے پس منظر میں ایرانی قیادت کی طرف سے امن کی پیشکش اور سفارتی داؤ پیچ بھی عروج پر ہیں جنہیں یمنی حکومت نے مسترد کرتے ہوئے تہران کو اس تباہی کا براہ راست ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ادھر خلیجی دارالحکومتوں میں اس بات پر گہری تشویش پائی جاتی ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری صف بندی کسی بھی وقت ایک بڑے دھماکے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے خلیج میں غیر معمولی عسکری اجتماع اور ایران کے دفاعی ماڈل کے پیش نظر یہ خدشہ شدت اختیار کر گیا ہے کہ اگر خلیجی ممالک نے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی نہ کی تو اس جنگ کے شعلے ان کے اپنے معاشی مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نگل لیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عسکری جنون اور طاقت کے زعم سے نکل کر سفارت کاری اور بات چیت کے دروازے کھولے جائیں تاکہ خطے کو ایک مکمل تباہی سے بچایا جا سکے کیونکہ مزید تاخیر خلیجی ممالک اور پورے خطے کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here