جماعت اسلامی پاکستان اس وقت مہنگائی اور لیوی ٹیکسوں کے خلاف دھرنے اور احتجاجی تحاریک چلا رہی ہے، جس کے ذریعے قوم کو ظالم مافیا کی شاہ خرچیوں اور لوٹ مار سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی اس بوسیدہ نظام کو للکار رہی ہے جہاں عام عوام اور حکمران طبقات کے درمیان ایک وسیع خلیج قائم ہو چکی ہے۔ ملکی نظام اور حکمت عملی مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے جہاں نہ کوئی مؤثر قانون ہے اور نہ ہی شفاف احتساب کا کوئی طریقہ کار موجود ہے۔ پاکستان عملاً دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے، ایک غریب عوام کا پاکستان اور دوسرا بااثر اشرافیہ کا پاکستان۔
ایک طرف وہ مظلوم پاکستان ہے جہاں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن قوم پر مسلط نظام کی کرپشن اور عیاشیوں کو نمایاں کر رہے ہیں، اور جہاں ہونہار ڈاکٹرز اور دیگر پیشہور افراد معاشی حالات سے تنگ آ کر سخت اقدامات پر مجبور ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف وہ پاکستان ہے جہاں مختلف بااثر شخصیات اور نااہل افراد اقتدار پر مسلط ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں سے متصل ترجمان گاہے بگاہے سیاسی مخالفین کو ریاست کے لیے خطرہ یا غدار قرار دیتے ہیں اور اپنے سیاسی مفادات کے تحت مہروں کی ترتیب بدلتے رہتے ہیں۔ عوام پر ایسے حکمران مسلط کر دیے گئے ہیں جنہیں عام لوگوں کی معاشی مشکلات کا نہ تو کوئی ادراک ہے اور نہ ہی کوئی احساس۔
عوام میں غیر مقبول طرزِ حکومت اور عدمِ احتساب کی وجہ سے نظام سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی اس صورتِ حال میں عوام کے لیے میدانِ عمل میں موجود ہے اور ناواجب ٹیکسوں کے خلاف لانگ مارچ کر رہی ہے۔ دوسری جانب مولوی فضل الرحمن جیسے سیاسی قائدین اس جدوجہد پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں، کیونکہ وہ مختلف ادوار میں پی ڈی ایم کی سربراہی اور کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ جیسے عہدوں کے ذریعے اقتدار کا حصہ رہے ہیں۔ مختلف سیاسی رہنما اپنے مفادات کے حصول کے لیے کوشاں ہیں جبکہ عوام کے لیے کوئی واضح معاشی منصوبہ موجود نہیں۔ قوم کا پیسہ قیمتی گاڑیوں اور جہازوں کی خریداری پر صرف ہو رہا ہے، کسانوں کی تذلیل ہو رہی ہے اور صنعتی شعبہ زوال پذیر ہے، مگر مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے حکومتی سطح پر نہ تو کوئی حکمت عملی نظر آتی ہے اور نہ ہی ارادہ۔
حکومتی نمائندوں کا لب و لہجہ اور عوام کے سوالات کے جواب میں غیر ذمہ دارانہ بیانات ان کی بے حسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اقتدار پر قابض طبقہ عوامی جوابدہی سے خود کو بالاتر سمجھتا ہے۔ ایسی بدمعاشی اور بے حسی کی مثال دنیا کے کسی دوسرے ترقی یافتہ یا مہذب ملک میں نہیں ملتی۔ دوسری طرف عوام کی خاموشی اور مسلسل مصائب برداشت کرنے کا رویہ بھی اس نظام کو دوام بخش رہا ہے۔ گزشتہ ستر سال سے عوام معاشی ناانصافیوں کا شکار ہیں لیکن پھر بھی کوئی سخت ردِعمل دینے میں ناکام رہے ہیں۔
ان حالات میں جماعت اسلامی واحد تنظیم ہے جو قوم کو بیدار کرنے اور ان کے حقوق و فرائض کی یاد دہانی کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم عام عوام بھی ایک غیر ذمہ دار رویے کے ساتھ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ملک میں عدالتی اور قانونی نظام کا یہ عالم ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کو ان کے انتقال کے بعد سزا سنائی جاتی ہے اور ذوالفقار علی بھٹو کو ان کی شہادت کے پینتالیس سال بعد بے گناہ قرار دیا جاتا ہے۔ سیاسی اور مذہبی قیادت کا یہ حال ہے کہ کروڑوں روپے کی گاڑیوں اور درجنوں سیکیورٹی اہلکاروں کے بغیر ان کی نقل و حرکت ممکن نہیں ہوتی۔ ان تمام مراعات اور سیکیورٹی کے اخراجات عوام کے ٹیکسوں سے ادا کیے جاتے ہیں جبکہ ان کا سیاسی رویہ اور گفتگو کا معیار نہایت پست ہو چکا ہے۔
مختلف ادوار میں سیاسی رہنماؤں نے مذہبی کارڈ استعمال کیا، آئی پی پیز اور شوگر ملوں کے ذریعے معاشی مفادات حاصل کیے اور فارم 47 جیسے متنازع طریقوں سے اقتدار تک رسائی حاصل کی۔ ملک کی روایتی اپوزیشن بھی اپنے حقیقی کردار میں ناکام ہو چکی ہے اور صرف مراعات سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور ان کے حامی شخصیت پرستی کے شدید غلبے میں مبتلا ہیں، جہاں دلیل اور حقائق پر مبنی تنقید کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں پچھلے چودہ سال سے حکمرانی کے باوجود کوئی واقعی تبدیلی نہیں لائی جا سکی اور نہ ہی ساڑھے تین سالہ مرکزی دورِ حکومت میں وعدہ کردہ مدینہ کی ریاست کا قیام عمل میں آ سکا۔
ملک میں ہر چند سال بعد سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے پارٹیاں تبدیل کی جاتی ہیں اور لائے گئے افراد وہی پرانا نظام برقرار رکھتے ہیں۔ ایم کیو ایم اور مختلف بااثر الیکٹیبلز کے ذریعے حکومتیں بنانے اور گرانے کا کھیل کھیلا جاتا ہے جس کے نتیجے میں حقیقی تبدیلی کے بجائے وہی پرانا اشرافیہ کا طبقہ اقتدار میں واپس آتا ہے۔ اس کے برعکس جماعت اسلامی اور حافظ نعیم الرحمن واحد آواز ہیں جو عوامی مسائل، معیشت اور کرپشن پر مدلل گفتگو کر رہے ہیں۔
ملک کے صوبائی حالات بھی ناہمواری کا شکار ہیں، جہاں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں امن و امان کے شدید مسائل ہیں اور سندھ میں قوم پرست عناصر کی اثر پذیری موجود ہے۔ پنجاب میں سیاسی عدم استحکام اور غیر تجربہ کار قیادت کی وجہ سے قومی خزانے کا بے دریغ استعمال جاری ہے۔ اربوں روپے کے جہاز اور لگڑری گاڑیوں کا فلیٹ عوامی رقم پر ایک بوجھ ہے۔ حکمرانوں کا طرزِ عمل بتاتا ہے کہ وہ عوام سے کٹ چکے ہیں اور ایک غاصبانہ انداز اختیار کیے ہوئے ہیں، جن سے ملک کو نجات دلانا ہر باضمیر شہری کی ذمہ داری ہے۔
حافظ نعیم الرحمن کا پرامن احتجاج، لائحہ عمل اور اخلاقی دائرے میں رہ کر کی جانے والی جدوجہد جماعت اسلامی کی تہذیب اور وطن دوستی کی علامت ہے۔ اس احتجاج میں قانون کی پاسداری کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ عوام کو ان کے حقوق کی فراہمی کے لیے آواز بلند کی جا سکے۔ قوم کو چاہیے کہ وہ جماعت اسلامی کا ساتھ دے تاکہ اس مافیا کے خلاف جدوجہد کو مؤثر بنایا جا سکے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے ملک کو دیانت دار اور امانت دار قیادت نصیب فرمائے اور موجودہ دور کے ظالم اور خود غرض حکمرانوں سے نجات عطا کرے۔ آمین۔













