25جولائی 2026ء کو نیو جرسی کے شہر پسکیٹا وے میں حلقہ اربابِ ذوق پسکیٹا وے کے زیرِاہتمام معروف افسانہ نگار کامل احمر کے افسانوی مجموعے کی ایک پْروقار اور یادگار تقریبِ رونمائی ڈاکٹر عامر بیگ کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی۔ اس ادبی نشست میں اردو زبان و ادب کے دلدادہ افراد، اہل قلم اور شعر و ادب سے شغف رکھنے والے ممتاز قارئین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ڈاکٹر عامر بیگ کی ادب نوازی، کشادہ دلی اور اہل قلم سے مخلصانہ وابستگی اس بامعنی محفل کی روح تھی۔ ان کی رہائش گاہ طویل عرصے سے اردو ادب، کتاب دوستی، ادبی تقریبات اور تخلیقی مکالمے کے لیے ایک خوش ذوق اور متحرک مرکز کی صورت اختیار کر چکی ہے، جہاں دیارِ غیر میں مقیم ادبی شخصیات کو اپنی تخلیقی کاوشیں پیش کرنے کا بہترین پلیٹ فارم میسر آتا ہے۔
تقریب کی صدارت معروف نقاد اور ممتاز ادیب ڈاکٹر عبدالرّحمان عابد نے کی، جبکہ ممتاز ادیب و شاعر واصف حسین واصف مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔ تقریبِ رونمائی کی باقاعدہ نظامت کے فرائض طاہر خان نے نہایت خوبصورت اور دلنشیں انداز میں انجام دیے، جبکہ اس کے بعد منعقد ہونے والے شاندار مشاعرے کی نظامت کے فرائض اعجاز کھٹی کی سپردگی میں رہے۔ اس دل نشیں اور جامع ادبی اجتماع نے دیارِ غیر اور بالخصوص شمالی امریکہ میں اردو زبان و ادب کی زندہ، متحرک اور توانا روایت کو ایک بار پھر نمایاں کیا اور ثابت کیا کہ دیس سے دور بھی اردو کی شمع پوری آب و تاب کے ساتھ روشن ہے۔
کامل احمر کا شمار ان سنجیدہ افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جو جدید معاشرتی حقائق اور انسانی رویوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کے افسانے انسانی زندگی کے نشیب و فراز، پیچیدہ معاشرتی الجھنوں، انسانی رشتوں کی لطافتوں اور باطنِ آدمی کی باریکیوں کو نہایت سادگی، گہرائی اور فنی ہنرمندی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں کہانی پن کے ساتھ ساتھ ایک خاص قسم کی جمالیاتی اور فکری تڑپ دکھائی دیتی ہے جو قارئین کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ ان کے تازہ افسانوی مجموعے کی یہ پذیرائی دراصل ان کے طویل تخلیقی سفر، مسلسل محنت اور اردو افسانے کی صنف سے ان کی پختہ و سنجیدہ وابستگی کا خوبصورت اور شایانِ شان اعتراف ہے۔
اسی افسانوی مجموعے پر راقم الحروف کا ایک جامع جائزہ اور تبصرہ راولپنڈی سے باقاعدگی سے شائع ہونے والے معتبر ادبی جریدے چہار سو میں شاملِ اشاعت ہو چکا ہے۔ ممتاز اور قادر الکلام شاعر و ادیب سید ضمیر جعفری کے قائم کردہ اس جریدے کو اردو کی سنجیدہ تخلیقی، تنقیدی، علمی اور فکری تحریروں کے ایک موثر اور معتبر پلیٹ فارم کی حیثیت حاصل ہے، جس نے ہمیشہ معیاری ادب کی ترویج و اشاعت میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
چہار سو میں شائع ہونے والے اس تفصیلی تبصرے میں کامل احمر کے وسیع افسانوی جہان، ان کے منفرد اور شگفتہ اسلوبِ نگارش، اسلوب کی باریکیوں اور انسانی تجربے و حسیات سے ان کے گہرے ربط کا سائنسی اور تنقیدی زاویے سے جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ کامل احمر کس طرح اپنے اردگرد کے ماحول سے عام سے واقعات چن کر انہیں آفاقی سچائیوں کا روپ دیتے ہیں۔ تبصرے میں ان کے کرداروں کی نفسیاتی گرہ کشائی اور بیانیے کی روانی کو خاص طور پر سراہا گیا ہے۔ یہ تحریر ادبی ذوق رکھنے والے تمام قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے تاکہ وہ مصنف کی تخلیقی صلاحیتوں اور افسانوی دنیا سے مزید آگاہی حاصل کر سکیں۔














