3 ستمبر 1936 معروف شاعرہ پروین فنا سیّد کا یومِ ولادت ہے۔ آپ کچھ مدت گورڈن کالج راولپنڈی میں ایم اے اردو کی کلاس میں پڑھتی رہیں اور ممتاز شاعر و ادبی نقاد پروفیسر صفی حیدر سے ادبی معاملات میں مشورہ کرتی رہیں۔ میں اس وقت بی اے کا طالب علم تھا۔ ان کا چھوٹا بھائی سید عارف میرا کالج فیلو اور دوست تھا۔ وہ میری بڑی بہن کی طرح تھیں۔ ایک دفعہ اپنی بیٹی کے ہمراہ میرے گھر تشریف لائیں۔ میں اور میری بیگم بھی ایک دفعہ اْن سے ملنے اْن کی رہائش گاہ پر گئے تھے۔آپ نہایت خوش شکل، با سلیقہ اور باوقار خاتون تھیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ یومِ قائد اعظم کے سلسلہ میں گورڈن کالج میں میونسپل کمیٹی راولپنڈی کے چیف آفیسر الطاف حسین نے جن کی کتاب” اقبال اور اسلامی معاشرہ ” ہے نے ایک مشاعرہ اور قوالی کا انتظام کیا۔ جس کی صدارت ترانہ پاکستان کے خالق، ” شاہنامہ اسلام” کے مصنّف جناب حفیظ جالندھری نے کی۔ راولپنڈی کے نامور شاعر مدعو تھے۔ کمشنر راولپنڈی جی ایم شاہ، دیگر افسران اور ممتاز شہری بھی شریکِ محفل تھے۔ گورڈن کالج کے طالب علم ہونے کی وجہ سے مجھے بھی بطورِ شاعر دعوت دی گئی۔ سب سے پہلے مجھے شعر سنانے کے لیے بلایا گیا۔ میں نے ایک غزل ترنّم سے ذرا دھیمے لہجے میں پڑھنا شروع کی۔ کالج کا جوبلی ہال طلبا اور طالبات سے کھچا کھچا بھرا ہوا تھا۔ میں نے جْوں ہی غزل کا مطلع پڑھا !
دْھندلے دْھندلے نقوش ابھرتے ہیں
گاہ جیتے ہیں ، گاہ مرتے ہیں
طلباء شرارت کے موڈ میں تھے۔ انہوں نے شور مچایا اور چلّایا ”آواز نہیں آ رہی اونچا پڑھو”۔ حفیظ جالندھری بولے” اونچا پڑھو”۔ میں نے دوسرا مصرع ذرا اونچا پڑھا۔
کوئی مہوش کہیں ہے نغمہ سرا
غْنچے کِھلتے ہیں ، گْل نکھرتے ہیں
پھر شور برپا ہوا۔ ”ذرا اور اونچا پڑھو”۔ میں نے تیسرا شعر ذرا اور زور لگا کر پڑھا
اْن کے وعدوں کا اعتبار ہی کیا
وعدے کرتے ہیں اور مْکر تے ہیں
بہر حال شور شرابے میں پوری غزل پڑھ ڈالی۔ حفیظ صاحب نے چند اشعار پر داد سے نوزا۔ میرے بعد پروین فنا سیّد کو دعوتِ سخن دی گئی۔ آپ نوجوان اور نہایت دلکش و خوبصورت خاتون تھیں۔ آپ کا ترنم بھی بہت دلسوز تھا۔ آپ نے جْوں ہی ترنم میں مطلع پڑھا ہی تھا کہ ہال میں شور مچا اور آوازیں آہیں۔ ”ذرا زور لگا ہیں۔ آواز نہیں آ رہی”۔ محترمہ شرما گئیں اور خاموش ہو گئیں۔ اس بد تمیزی پر حفیظ جالندھری کوطیش آ گیا۔ آپ کرسئی صدارت سے اْٹھے اور روسٹم پر آ گئے۔ مائیک ہاتھ میں پکڑا اور فرمایا” او لونڈو تم مشاعرہ سنو گے کہ نہیں”۔ ہال سے آوازیں بلند ہوئیں ” ہم مشاعرہ نہیں قوالی سْنیں گے”۔ حفیظ صاحب آپے سے باہر ہو گئے۔ بلند آواز میں اسٹیج پر بیٹھے شاعروں اور شاعرات سے یْوں مخاطب ہوئے۔
” چلو اْٹھو ، ہم مشاعرہ نہیں پڑھیں گے” پھر انہوں نے غصّے میںْ وہ گالیاں دیں کہ شاعرات نے شرم سے اپنے دوپٹے میں دبا لیے۔
کمشنر اور دیگر افسران نے اْن کی منّت سماجت کی کہ وہ طلبا ء کو خاموش کرواتے ہیں لیکن اب شیر پنجرے سے باہر آ چکا تھا اور سب نے دْم دبا کر بھاگنے ہی میں جان کی اماں پائی۔ صرف میں غزل سْنا پایا۔ آپ کی زندگی میں اْن کا شعری مجموعہ شائع ہوا تھا جو انہوں نے مجھے عنایت کیا۔ اْن کے چند اشعار ملاحظہ کیجئے
کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا
ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے اْبھارا ہوتا
باغباں تیری عنایت کا بھرم کیوں کْھلتا
ایک بھی پھول جو گلشن میں ہمارا ہوتا
ایک دوسری غزل کے دو شعر ملاحظہ کیجئے ?
تمہارے ساتھ اگر دو قدم بھی چل نہ سکوں
تو خستہ پا ہوں مجھے مجرمِ وفا نہ کہو
مَیں ایک زندہ حقیقت ہوں، ایک پل ہی سہی
تمہارا عکس ہوں، تمْ تو مجھے فنا نہ کہو
آپ کا کلام سادہ و سلیس اور دلنواز و دلسوز و دلگداز ہے۔
پروین فنا سیّد کی ایک غزل کے لاجواب اشعار سْنیے اور سر دْھنیے ?
بھول کر تجھ کو بھرا شہر بھی تنہا دیکھوں
یاد آ جاؤتو خود اپنا تماشا دیکھوں
جس کی تعبیر میں اک عمر گزاری دل نے
جاگتی آنکھوں سے وہ خواب بکھرتا دیکھوں
یْوں تو بازار میں چہرے ہیں حسیں ایک سے ایک
کوئی چہرہ تو حقیقت میں شناسا دیکھوں
آپ کی شاعری کے دو مجموعے ” تمنّا کا دوسرا قدم” اور ” حرفِ وفا” شائع ہو کر اہلِ ادب سے داد پا چکے ہیں۔
اْن کا تخلص ” فنا” تھا مگر دنیائے شاعری میں وہ ” بقا” ہیں۔ علامہ اقبال نے بجا فرمایا تھا
مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جدا ہوتے نہیں














