کل کے پروکسی دوست آج کے دشمن!!!

0
15
رمضان رانا
رمضان رانا

اسرائیل نے پی ایل او کے فلسطینی حریت پسندوں کے خلاف حماس اور حزب اللہ بنا کر فلسطینی تحریک کو سبوتاڑ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس سلسلے میں لبنان کی خانہ جنگی میں حزب اللہ نے فلسطینیوں کے خیموں میں بسنے والے غریب، مفلس اور مہاجر عوام کا قتل عام کیا تاکہ فلسطینی تحریک اسرائیل کے خلاف دب جائے۔ مصر کی اخوان المسلمین، جو عرب بہار میں ابھر کر سامنے آئی تھی اور پھر منظر عام سے غائب ہو گئی، اس نے سامراج کے سخت مخالف اور امریکہ مخالف مصری صدر کرنل ناصر کی مخالفت کی تھی۔ عراق میں شیعہ علمائے کرام کو امریکہ اور برطانیہ نے عرب قوم پرست صدر صدام حسین کے خلاف تیار کیا۔ انہوں نے صدام حسین کے خلاف مذہبی فتوے صادر کرتے ہوئے امریکہ اور برطانیہ کا خیرمقدم کیا، جنہیں 1950 کی دہائی میں عراقی انقلاب کے بعد نکال باہر کیا گیا تھا۔
پاکستان نے امریکی پروکسی وار کو جہاد کا نام دے کر جنرل ضیاء کے دور میں ملک کو مشکلات اور تشدد کی دلدل میں دھکیل دیا۔ اس عمل کے نتیجے میں افغان مجاہدین کی آپس کی لوٹ مار نے افغانستان کو تباہ و برباد کر دیا، جس کے بد اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے۔ اس کے بعد افغان مجاہدین کے مقابلے میں طالبان کا کابل پر قبضہ کرایا گیا، جنہوں نے افغان جمہوریت اور ترقی پسندوں کا قتل عام کیا، یہاں تک کہ افغانستان کے آخری ترقی پسند صدر ڈاکٹر نجیب اللہ کی لاش کئی دن تک سرعام کھمبے پر لٹکی رہی۔ 9/11 کے دردناک اور ہولناک سانحے کے بعد امریکہ نے کابل پر قابض طالبان کے خلاف جنرل مشرف کی مدد سے افغانستان پر قالینی بمباری کی، جس کے نتیجے میں شدید تباہی پھیلی اور لوگ بڑی تعداد میں نقل مکانی کر کے دوسری مرتبہ پاکستان میں پناہ گزین ہوئے۔ اسی دوران جنرل مشرف نے پورے ملک کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دھکیل دیا۔
علاوہ ازیں، امریکہ، سعودی عرب اور دوسرے اتحادی ملکوں نے 1962 میں یمن کو دائیں بازو اور بائیں بازو میں تقسیم کیا۔ اس وقت موجودہ شمالی یمن کو سعودی عرب اور امریکہ کی حمایت حاصل تھی، جہاں کے وہ عناصر آج حوثی زیدی شیعہ کہلاتے ہیں اور آج اس علاقے پر حوثیوں کا قبضہ ہے۔ دوسری طرف جنوبی یمن تھا جس کو اس وقت روس کی حمایت حاصل تھی، جو سابق سوویت یونین کی تحلیل کے بعد 1992 میں دوبارہ متحد ہو گیا، جس طرح مشرقی اور مغربی جرمنی دوبارہ متحد ہوئے تھے۔
اسی طرح ایران کی قدیم بادشاہت کے دور میں، منتخب صدر ڈاکٹر مصدق کے خلاف برطانیہ اور امریکہ نے مختلف عناصر کو استعمال کیا، کیونکہ ڈاکٹر مصدق نے غیر ملکی تیل کی کمپنیاں قومی تحویل میں لے لی تھیں۔ وہ ڈاکٹر مصدق کی جمہوری حکومت کو ختم کر کے دوبارہ پہلوی بادشاہت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ تاہم یہی مذہبی طبقات 1979 میں امریکی حمایتی رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت کے خاتمے کا باعث بنے اور آج امریکہ کے خلاف صف آرا ہیں۔
یہ تمام مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ کل کے پروکسی اتحادی آج کے دشمن بن چکے ہیں۔ یہ حکمت عملی ایک سنگین غلطی تھی جو آج اپنے ہی تخلیق کاروں کے لیے وبال جان بن چکی ہے۔ کل کی اسرائیل کی پروردہ حماس اور حزب اللہ آج اس کی سب سے بڑی دشمن ہیں، کل کی اخوان المسلمین امریکہ کی دوست اور آج کی مخالف ہے، کل کے حوثی سعودی عرب اور امریکہ کے حامی اور آج ان کے حریف ہیں، اور اسی طرح پاکستان کے ماضی کے پروردہ طالبان بھی آج پاکستان کے مخالف بن چکے ہیں۔ عام زبان میں کہا جاتا ہے کہ جب دوسروں کے لیے کانٹے بچھائے جائیں تو انسان خود ان سے زخمی ہوتا ہے، اور اگر دوسروں کے لیے کنواں کھودا جائے تو انسان خود اس میں گرتا ہے۔ لہذا بین الاقوامی سازشوں کا جو جال بچھایا گیا تھا، اس میں جال بچھانے والے خود بھی الجھ رہے ہیں، اور اس روش کو بدلے بغیر ان نتائج سے بچنا انتہائی مشکل ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here