باب المندب اور آبنائے ہرمز: عالمی معیشت کے دوہرے امتحان

0
14

عالمی اقتصادیات اور جغرافیائی سیاست کی بساط پر بعض اوقات وہ مقامات نہایت فیصلہ کن حیثیت اختیار کر لیتے ہیں جن کی ظاہری وسعت کسی نقشے پر ایک معمولی لکیر سے زیادہ دکھائی نہیں دیتی۔ بحری راستوں کی حفاظت اور بین الاقوامی تجارت کی روانی کے باب میں دو ایسے اہم ترین آبی راستے یعنی آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی نبض تصور کیے جاتے ہیں۔ دہائیوں سے دنیا کا بڑا تزویراتی اور معاشی مرکز آبنائے ہرمز کو سمجھا جاتا رہا ہے کیونکہ وہاں سے کرہ ارض کی توانائی خصوصاً خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا ایک بہت بڑا حصہ گزرتا ہے لیکن حالیہ تجارتی اور عسکری حالات نے اس روایتی فکر کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو عالمی توانائی کا دل کہا جائے تو باب المندب کو بین الاقوامی سامان کی نقل و حمل کی شاہ رگ کہنا بالکل بجا ہوگا۔ جب ہم صنعتی پیداوار، مصنوعات اور کارخانوں کی ساخت کا گہرا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ باب المندب میں پیدا ہونے والی رکاوٹ یورپی براعظم سمیت پوری عالمی معیشت کے لیے آبنائے ہرمز کی بندش سے کہیں زیادہ مہلک اور دور رس نتائج کی حامل ہے۔
آبنائے ہرمز بنیادی طور پر توانائی کے تحفظ سے مربوط ہے اور اس کی جغرافیائی ساخت ایک بند گلی کی مانند ہے جس کا ایک ہی راستہ اندر جاتا ہے اور وہی واپس باہر آتا ہے۔ وہاں سے گزرنے والی اشیاء میں سب سے بڑا حصہ خام تیل، مائع گیس اور کیمیائی کھادوں کا ہوتا ہے۔ اگر وہاں کوئی بحران پیدا ہو تو عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتیں یکلخت آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں اور خلیجی ممالک کی آمدنی پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس باب المندب کسی ایک خطے کا بند راستہ نہیں بلکہ ایشیا اور یورپ کو ملانے والی ایک وسیع اور انتہائی مصروف ترین عالمی گزرگاہ ہے۔ چین، ہندوستان، ویتنام، اور بنگلہ دیش جیسے صنعتی مراکز سے یورپی ممالک کو بھیجی جانے والی الیکٹرانکس، ادویات، کپڑے، گاڑیوں کے پرزے اور اشیائے خورد و نوش اسی آبی گزرگاہ سے ہو کر بحرِ احمر اور نہرِ سویز کے ذریعے اپنے مقصد تک پہنچتی ہیں۔ لہٰذا جب باب المندب میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف ایندھن کے نرخوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ یورپی اور عالمی صنعتوں کا پیداواری پہیہ یکسر جام ہو جاتا ہے۔
اس تقابل کا ایک انتہائی نازک پہلو یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے نمٹنے کے لیے دنیا نے گزشتہ پچاس برسوں میں کئی متبادل طریقے اور حکمت عملی تیار کر رکھی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے پاس ہنگامی حالات کے لیے نوے دنوں کا ذخیرہ موجود ہوتا ہے اور تیل کی نقل و حمل کے لیے متعدد پائپ لائنز بھی تعمیر کی گئی ہیں جو بحران کے وقت کسی حد تک سہارا بن جاتی ہیں۔ لیکن تجارتی سامان اور صنعتی پرزہ جات کے معاملے میں دنیا کے پاس ایسا کوئی ہنگامی ذخیرہ یا متبادل پائپ لائن موجود ہی نہیں ہے۔ کوئی بھی ملک اپنے کارخانوں کے لیے تین مہینے کے تلاطم خیز سفر کا پیشگی ذخیرہ نہیں رکھ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب باب المندب سے تجارتی جہازوں کا گزرنا پرخطر ہو جاتا ہے تو سپین، جرمنی، ہنگری اور بیلجیم جیسے تکنیکی اور صنعتی لحاظ سے مضبوط ممالک میں گاڑیوں اور ٹائروں کے بڑے بڑے کارخانے پرزوں کی عدم فراہمی کے باعث محض چند دنوں میں بند ہونے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
جب بحری جہاز باب المندب کے راستے سے کٹ کر افریقہ کے گرد دراز اور دشوار گزار سفر اختیار کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف سفر کا دورانیہ دس سے بارہ دن بڑھ جاتا ہے بلکہ ایندھن اور تحفظ کے اخراجات میں بھی کروڑوں روپے کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس تاخیر کا سب سے خوفناک اثر یہ ہوتا ہے کہ دنیا کے تمام تجارتی جہاز لامتناہی سفر میں مصروف رہتے ہیں جس سے عالمی سطح پر جہازوں اور مال بردار کنٹینروں کی شدید قلیت پیدا ہو جاتی ہے۔ بندرگاہوں پر مال کی نقل و حمل کا توازن بگڑ جاتا ہے اور عالمی رسد کی زنجیر مکمل طور پر درہم برہم ہو جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ افراطِ زر، چیزوں کی قلت اور عام صارفین کی خریدارانہ قوت پر شدید بوجھ کی صورت میں نکلتا ہے۔ مزید برآں اس جغرافیائی کشمکش کی قیمت وہ پرامن ممالک بھی ادا کرتے ہیں جن کا اس سیاسی یا عسکری نزاع سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا، جیسے کہ نہرِ سویز سے حاصل ہونے والیمحصولات میں شدید کمی کے باعث مصر کی قومی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
اس تمام تر صورتحال کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ توانائی کی تحفظی تدابیر کی طرح عالمی سطح پر سفر اور تجارتی راستوں کے تحفظ کی کوئی مضبوط ضامنی موجو نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز کو مسدود کرنے کے لیے طویل عسکری پیش قدمی اور بھاری طاقت درکار ہوتی ہے، لیکن باب المندب کو غیر فعال کرنے کے لیے صرف خطرے کی ایک خبر اور بحری بیمہ کاری کے نرخوں میں بے تحاشا اضافہ ہی کافی ہوتا ہے۔ خطرے کی ذرا سی لہر تجارتی کمپنیوں کو اپنا راستہ بدلنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ بحری سفر کا یہ پوشیدہ بحران اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ جدید عالمی معیشت بظاہر جتنی مضبوط دکھائی دیتی ہے، باطنی طور پر اتنی ہی نازک اور چند آبی گزرگاہوں کی مرہونِ منت ہے۔ اگر عالمی برادری نے ان حساس آبی راستوں کے تحفظ اور تجارتی مساوات کے لیے مؤثر اور متوازن اقدامات نہ کیے تو آنیوالے دنوں میں صنعتی توازن کا بگڑنا اور اقتصادی بحران تمام ترقی پذیر اور ترقی یافتہ قوموں کے لیے ایک پائیدار اور دردناک سچائی بن جائے گا۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here