تجزیہ: مجیب ایس لودھی
نیویارک شہر کے پولیس کمشنروں کی گزشتہ بیس برسوں کی تاریخ کا مطالعہ محض شخصیات کا تذکرہ نہیں بلکہ یہ اس شہر کے بدلتے ہوئے سماجی، سیاسی اور قانونی مزاج کی ایک مکمل عکاسی ہے۔ جب ہم سن دو ہزار دو سے اب تک کے عرصے پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پولیس کے ان سربراہان کا تقرر صرف جرائم کی روک تھام کے لیے نہیں بلکہ شہر کی انتظامی پالیسیوں کو ایک مخصوص سمت دینے کے لیے کیا جاتا رہا ہے۔ اس دور کا آغاز ریمنڈ کیلی سے ہوا جنہیں مائیکل بلومبرگ نے تعینات کیا تھا۔ کیلی کا دور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام رہا جہاں انہوں نے انسداد دہشت گردی کا نیا شعبہ قائم کیا اور عالمی سطح پر خفیہ معلومات کے حصول کا جال پھیلایا۔ ان کا دور اس متنازع پالیسی کے لیے بھی یاد رکھا جائے گا جس کے تحت مشکوک افراد کی تلاشی لینے کے عمل کو اس قدر وسعت دی گئی کہ اس نے نسلی امتیاز کے سنگین الزامات کو جنم دیا اور عدالتوں نے بھی اسے غیر آئینی قرار دے دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب سکیورٹی کے نام پر بنیادی شہری حقوق کو داؤ پر لگانے کی بازگشت ہر طرف سنائی دیتی تھی۔
اس کے بعد بل ڈی بلاسیو کے دور میں ولیم بریٹن نے پولیس کی کمان سنبھالی۔ ان کا تقرر اس لیے بھی اہم تھا کہ ترقی پسند اصلاحات کے وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آنے والی انتظامیہ کو خود اپنی ہی پولیس فورس پر اعتماد بحال کرنے اور عوامی سطح پر ساکھ بنانے کی ضرورت تھی۔ تاہم ان کا دور بھی تنازعات سے خالی نہ رہا اور گرفتاریوں کے خفیہ کوٹے کے الزامات نے ان کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کیے۔ اس کے بعد جیمز اونیل کا دور آیا جنہوں نے محلہ جاتی پولیسنگ کے تصور کو متعارف کرایا تاکہ شہریوں اور محافظوں کے درمیان فاصلے کم ہو سکیں لیکن ان کی مدت کے آخری ایام میں ٹیکنالوجی کے استعمال بالخصوص چہرہ شناسی کے نظام پر شدید اعتراضات کیے گئے جس میں بچوں کی تصاویر کو بھی ڈیٹا بیس کا حصہ بنایا گیا تھا۔
جب ڈرمٹ شی کا دور شروع ہوا تو نیویارک ایک غیر معمولی بحران سے گزر رہا تھا۔ کورونا وائرس کی وبا، بندشیں اور اس کے نتیجے میں آتشیں اسلحہ کے استعمال سے ہونے والے جرائم میں ہوشربا اضافہ اس دور کے سب سے بڑے چیلنج تھے۔ اسی دوران دو ہزار بیس میں نسلی انصاف کے لیے ہونے والے بڑے مظاہروں نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا اور پولیس کے کردار پر ہونے والی شدید تنقید نے اس ادارے کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا۔ نیویارک کے اٹارنی جنرل کی جانب سے غلط گرفتاریوں کے نظام کے خلاف دائر مقدمہ اسی دور کی ایک تلخ حقیقت بن کر سامنے آیا۔ اس کے بعد کیچنٹ سیول کا تقرر ہوا جو پہلی خاتون کمشنر تھیں جنہیں پولیس ایسوسی ایشن نے ایوارڈ سے نوازا۔ لیکن ان کے دور میں شکایات کے جائزے کے بورڈ کی جانب سے تجویز کردہ تادیبی کارروائیوں کو مسترد کرنے کا رجحان بڑھا جس نے احتسابی عمل پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔
ایڈمز انتظامیہ کے تحت ایڈورڈ کیبن کا تقرر ایک تاریخی پیش رفت تھی کیونکہ وہ پہلے لاطینی نڑاد کمشنر تھے۔ لیکن ان کا سفر بہت مختصر رہا اور جب وفاقی تفتیشی ادارے نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور ان کا موبائل فون قبضے میں لیا تو انہیں اپنے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت تھا کہ طاقت کے ایوانوں میں کس قدر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ ان کے فوری بعد تھامس ڈونلن کو عبوری طور پر ذمہ داری سونپی گئی جن کا دور چند ہفتوں میں ہی ختم ہو گیا جب وفاقی حکام نے ان کی رہائش گاہ سے حساس دستاویزات کی موجودگی پر تفتیش شروع کر دی۔
موجودہ صورتحال میں جیسکا ٹش کی قیادت میں ادارہ ایک اور موڑ پر کھڑا ہے۔ وہ اس سے قبل شہر کے صفائی اور ٹیکنالوجی کے محکموں کی سربراہی کر چکی ہیں اور اب وہ اس نازک مقام پر کھڑی ہیں جہاں انہیں کاروباری طبقات، سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے حلقوں اور پولیس کے اندرونی ڈھانچے کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ یہ گزشتہ بیس برسوں کا سفر یہ بتاتا ہے کہ صرف کمشنر بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اصل ضرورت ایک ایسے مربوط نظام کی ہے جو بلا تفریق رنگ و نسل قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے اور جس میں شفافیت کا عنصر ہر سطح پر نمایاں ہو۔ نیویارک جیسے متحرک شہر میں جہاں پولیس کی کارکردگی پر پوری دنیا کی نظریں ہوتی ہیں، وہاں کمشنر کے عہدے کا تقدس اور اس پر عوامی اعتماد کی بحالی ہی اس شہر کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتی ہے۔ ان تمام واقعات نے یہ ثابت کیا ہے کہ طاقت کا استعمال جتنا محتاط ہوگا، معاشرتی سکون اتنا ہی پائیدار رہے گا۔











