واشنگٹن(پاکستان نیوز) وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کیلئے سٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر دوحہ جا رہے ہیں۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ کے مطابق سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کیلئے دوحہ جائیں گے، جہاں مفاہمتی یادداشت پر بات چیت جاری رکھی جائے گی۔ ان اعلیٰ سطحی مذاکرات کے ساتھ ساتھ تکنیکی سطح کی بات چیت بھی کی جائیگی۔ امریکی میڈیا ایگزیوس کے مطابق سینیئر امریکی عہدیدار نے بتایا امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے روکنے اور آج دوحہ میں تکنیکی مذاکرات پر اتفاق کیا ہے۔ مذاکرات کا مرکز آبنائے ہرمز ہو گا۔ رائٹرز نے بھی امریکی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا امریکہ اور ایران ایک دوسرے پر حملے نہیں کریں گے اور جہازوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہو گی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر کہا ایران نے ایک میٹنگ (ملاقات) کی درخواست کی ہے اس کا انعقاد آج دوحہ میں ہو گا۔ پٹرول کی قیمتیں تیزی سے نیچے آرہی ہیں۔ خام تیل کی موجودہ قیمت ایران جنگ سے پہلے کی قیمت سے بھی کم سطح پر ہے۔ ادھر ایران کی تکنیکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اور نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا امریکہ کی جانب سے وعدوں پر عملدرآمد کے حوالے سے قطر کے ساتھ مشاورت جاری ہے، تاہم دونوں ممالک کے ورکنگ گروپس کے درمیان تکنیکی مذاکرات کی ابھی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ تکنیکی مذاکرات کا پہلا دور متعلقہ ورکنگ گروپس کے فریم ورک کے تحت تب ہو گا جب حالات سازگار ہوں گے اور تاریخ و مقام پر اتفاق ہو جائے گا، اس سلسلے میں ثالث ممالک کے ذریعے مشاورت جاری ہے۔ کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے متعلق بنائی گئی مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس مسقط میں ہوا۔ فریقین نے خلیجی ساحلی ممالک کے خودمختار حقوق اور رواں ماہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا ہرمز سے بارودی سرنگیں صرف ایران ہی ہٹائے گا، فرانس معاملے کو پیچیدہ نہ بنائے۔ عمان میں سابق امریکی سفیر رچرڈ شمیئرر نے کہا پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران حالیہ کشیدگی کے بعد دوبارہ مذاکرات پر آمادہ ہوئے۔ پاکستان اور قطر نے امریکہ اور ایران کو دوبارہ حملے روکنے پر آمادہ کیا، توقع ہے کہ منگل کو دوحہ میں بات چیت میں پاکستان اور قطر بطور ثالث شریک ہوں گے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا قطر میں منجمد ایران کے 12 ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالر جلد ایران کو واپس کر دیے جائیں گے۔ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں، ایران کی جوہری سرگرمیاں ملکی ضروریات کے مطابق اور اعلان کردہ پالیسیوں کے دائرے میں رہیں گی۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراق کے صدر نزار امیدی سے ملاقات کی اور کہا امریکی اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے معاہدے کے بعض نکات خصوصاً اس کے پہلے پیراگراف کی خلاف ورزی خطے میں امن اور استحکام کی بحالی کی راہ میں ایک سنجیدہ رکاوٹ ہے۔ معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی پر ہم دوسرے فریق کیخلاف فیصلہ کن اقدامات کریں گے۔ عباس عراقچی نے عراقی قومی سلامتی کے مشیر قاسم العبودی سے ملاقات کے بعد خلیجی خطے کیلئے نئے علاقائی سکیورٹی نظام کی تشکیل کی تجویز دیتے ہوئے خطے کے ممالک کو مشترکہ اتحاد کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کی ذمہ داری خود سنبھالنی چاہئے۔ بیرونی فوجی طاقتوں کو علاقائی سکیورٹی معاملات سے دور رکھا جائے۔ ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی اکبر ولایتی نے بحرین کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مزید اشتعال انگیزی کی گئی تو بحرین کو ایران کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑیگا۔ اپنی حدود میں رہیں، ایران کو سخت فیصلے کرنے پر مجبور نہ کریں۔ اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز نے کہا ایران کی آبنائے ہرمز کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی صلاحیت دن بدن کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ خلیجی عرب ممالک آبنائے ہرمز کے متبادل راستے تیزی سے تیار کر رہے ہیں۔ امریکہ بھی خطے میں اپنی فوجی اڈوں کے ڈھانچوں میں تبدیلیاں لا رہا ہے۔کچھ تنصیبات کو مضبوط بنایا جائے گا، کچھ زیرِ زمین منتقل کی جا سکتی ہیں جبکہ بعض کو دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا۔ ہرمز پر ٹول عائد کرنیکا تصور بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے اور چین نے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔ عمان نے بھی اسے مسترد کیا ہے۔ ٹرمپ بھی ایسے کسی اقدام کو برداشت نہیں کریں گے۔ فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے ایران مفاہمتی یادداشت سے متعلق تازہ پیش رفت اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے بارے جامع حل کی جاری کوششوں کا جائزہ لیا۔ جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے اور کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششوں کی حمایت کی اہمیت پر زور دیا۔ قطری میڈیا کے مطابق حالیہ کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز سے 48 جہاز باحفاظت گزر گئے تاہم سکیورٹی خدشات کے باعث ہرمز میں بحری ٹریفک میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ قطر نے موجودہ صورتحال کے باعث تمام جہاز رانی، بحری آمدورفت اور دیگر سمندری سرگرمیاں عارضی طور پر بند کرنیکا اعلان کیا ہے۔ تہران سے اڑنے والا کمرشل ہوائی جہاز متحدہ عرب امارات میں لینڈ کرگیا، جنگ کے بعد سے دونوں ممالک میں یہ پہلی پرواز ہے۔مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں عمان اور ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق امور پر رابطہ اورتعاون بڑھانے پر اتفاق اور مشترکہ مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے عزم کا اعادہ اور ہرمز میں جہاز رانی اور بحری خدمات کے شعبوں میں تعاون کے فریم ورک پر غور کیا۔










