امریکہ میں بھی صحافت پر پابندی !!!

0
14
کامل احمر

پاکستان کے بعد امریکہ میں بھی صحافت پر پابندیوں اور مشکلات کے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تین معروف خبر رساں اداروں کے نمائندوں کو وائٹ ہاؤس سے باہر کر دیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ ان کا رویہ غیر مناسب ہے اور وہ غلط رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ان صحافیوں میں سی این این کی بیٹسی کلین، ایم ایس ناؤ کی اکیلا گارڈنر اور پولیٹیکو کے جوناتھن گرین شامل تھے، جن کے پریس کارڈز بھی منسوخ کر دئیے گئے۔ بنیادی طور پر اس عمل کو امریکہ کے آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے، جو شہریوں کو اظہارِ رائے، مذہب، صحافت اور اجتماعات کی آزادی کی ضمانت دیتی ہے۔ متاثرہ اداروں نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق عدالت اس نقطے پر غور کر سکتی ہے کہ چونکہ یہ واقعہ وائٹ ہاؤس یعنی صدر کی سرکاری رہائش گاہ کا ہے، اس لیے صدر کو وہاں کے انتظامات کا اختیار حاصل ہے۔ اس بنیاد پر ممکن ہے کہ صحافیوں کی رسائی سے متعلق پابندی کی توثیق کر دی جائے۔
دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی سربراہانِ حکومت کی جانب سے صحافت کی آزادی پر محدودیت کی مثالیں موجود ہیں۔ ارجنٹائن کے صدر ہاویر ملی نے اپریل 2026 میں اپنی سرکاری رہائش گاہ کساسور اڈا سے تقریباً 60 صحافیوں کو نکالنے کا حکم جاری کیا تھا، اگرچہ مئی میں ان میں سے بعض کو دوبارہ اجازت دے دی گئی۔ اسی طرح سموا میں انگریزی زبان کے واحد معروف اخبار سموا آبزرور پر مختلف پابندیاں عائد کی گئیں اور وہاں کے وزیرِ اعظم نے رپورٹر کو کمرے سے باہر جانے کی ہدایت کر دی تھی۔
پاکستان میں صحافت، صحافیوں پر سنسرشپ اور ان کو درپیش خطرات کی ایک طویل تاریخ موجود ہے، جس کی شروعات ایوب خان کے دور سے ہی ہو چکی تھیں۔ بعد کے ادوار میں یہ دباؤ برقرار رہا اور جنرل عاصم منیر کے موجودہ دور میں اس صورت حال میں مزید شدت دیکھی گئی ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال 2022 میں معروف صحافی ارشد شریف کا کینیا کے علاقے کاجیادو میں پراسرار قتل تھا، جس پر پاکستانی حکام کی جانب سے کوئی خاطر خواہ پیشرفت سامنے نہ آ سکی۔ تاہم کینیا کی عدالت نے مقامی پولیس کے موقف کو رد کرتے ہوئے ارشد شریف کی بیوہ کو 78 ہزار ڈالر معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
پاکستان کے موجودہ حالات میں حکومت اور فوجی قیادت کی جانب سے شدید تنقید کو برداشت نہ کرنے کا تاثر عام ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ملک کے متعدد اعلیٰ اور ممتاز صحافی بیرونِ ملک بشمول لندن اور امریکہ منتقل ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ یہ صحافی اب بین الاقوامی دھرتی سے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے تجزئیے اور پروگرام پیش کر رہے ہیں۔ سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالی جائے تو 27 ستمبر کو پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کیا گیا، جس کے جواب میں حکومتی وزرا عطا تارڑ، رانا ثنائ اللہ اور محسن نقوی کی نگرانی میں شہر کے راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ اس مہم کے دوران پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کے علاوہ مرکزی قیادت سے تعلق رکھنے والی خواتین کو بھی حراست میں لے کر جیل منتقل کیا گیا۔ موجودہ اندرونی میڈیا پر حکومت یا عاصم منیر کے خلاف بات کرنے پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے، جبکہ بیرونِ ملک سے مسلسل تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔
مورخین کا ماننا ہے کہ اس قسم کی سخت پابندیاں ماضی میں ذو الفقار علی بھٹو کے دور میں بھی دیکھی گئی تھیں، جب فوجی کارروائیوں اور سیاسی کشمکش کے نتیجے میں کراچی اور حیدرآباد کے پکے قلعے جیسے علاقوں میں ہنگامے اور فائرنگ کے واقعات میں متعدد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، جن کی یادگاریں اور تحریریں آج بھی ان مقامات پر موجود ہیں۔ یہ اور اس جیسے دیگر واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ طاقت کا استعمال اور سنسرشپ تاریخ کا حصہ رہے ہیں اور جب تک عوام اور متعلقہ طبقے آئینی حقوق کے لیے منظم جدوجہد نہیں کرتے، حالات میں تبدیلی مشکل نظر آتی ہے۔
ان تمام عالمی اور قومی حالات پر نظر ڈالتے ہوئے انسان کو اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں پر ربِ رحمان و رحیم سے معافی اور ہدایت کی دعا کرنی چاہیے۔ امریکہ کے سیاسی حالات کے حوالے سے ہالی وڈ کے مشہور اداکار جیف ڈینیلز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ادوار میں امریکی معاشرہ اخلاقیات، شائستگی اور قانون کی حکمرانی کے احترام سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے تبصرہ کیا کہ بدزبانی اور دھونس کو معمول بنا لیا گیا ہے جبکہ اعتدال اور دیانتداری کا عنصر ختم ہو رہا ہے، اس لیے قوم کو بہترین نمائندوں کا انتخاب کرنا چاہیے تاکہ بگڑتے حالات کو سنبھالا جا سکے۔ اسی طرح سینیٹر اوسوف نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ صدارت کے عہدے کے لیے مناسب نہیں ہیں اور ان کا سیاسی منظرنامے سے ہٹنا قوم کے مفاد میں ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here