اندرونی انتشاراور پاکستان کی تباہ حال معیشت!!!

0
4
شمیم سیّد
شمیم سیّد

آج جب ہم پاکستان کی موجودہ سیاسی اور معاشی حالت پر نظر ڈالتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے وہاں ایک عجب سی خاموشی چھائی ہوئی ہے لیکن اس خاموشی کے پیچھے شدید اضطراب اور بے چینی کا طوفان پل رہا ہے۔ پاکستان کے عوام مہنگائی کے بوجھ تلے اس طرح دب چکے ہیں کہ ان کا سانس لینا بھی محال ہو چکا ہے۔ ایک طرف غریب عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں تو دوسری طرف حکمران طبقے کی عیاشیاں اور بے لگام اخراجات کم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ دنیا بھر میں پاکستان کی معاشی ساکھ اس حد تک گر چکی ہے کہ عالمی اداروں کی درجہ بندی میں ملک انتہائی تشویشناک مقام پر پہنچ چکا ہے۔
پاکستانی نژاد امریکی اس بات پر مسلسل سوچتے ہیں کہ ہمارے عزیز و اقارب کس قدر کٹھن حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے تاجروں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کی کوششیں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں اور سارا معاشی بوجھ تنخواہ دار طبقے پر ڈال دیا گیا ہے۔ اس ظالمانہ پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ملک کا روشن مستقبل یعنی پڑھے لکھے نوجوان اور دیگر ماہرین تیزی سے پاکستان چھوڑ کر باہر جا رہے ہیں۔ پیٹرولیم لیوی، مہنگی بجلی اور گیس کی قیمتوں نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر دیا ہے اور ملک کی معیشت کا سارا کنٹرول بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکمرانوں کے پاس عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی لائحہ عمل موجود ہی نہیں۔
ان تمام اندرونی بحرانوں کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کے اندرونی خلفشار نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی معاملات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ پارٹی کے اندر ہی ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کی جا رہی ہے۔ لانگ مارچ کی ناکامی اور اس کے اسباب پر بحث کرنے کے لیے مختلف کمیٹیاں بنائی جا رہی ہیں اور یہ تلاش کیا جا رہا ہے کہ پارٹی کی اس شکست کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔ سیاسی رہنما آپس کی چپقلش میں اتنے مصروف ہیں کہ انہیں عوام کے بنیادی مسائل کا ذرا برابر بھی احساس نہیں۔ اس صورتحال میں ملک کے اہم اداروں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان کشمکش مزید بڑھتی جا رہی ہے جس سے جمہوریت کی جڑیں ہل کر رہ گئی ہیں۔
دوسری طرف ملک میں دہشت گردی کا ناسور ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے جو کہ قومی سلامتی کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ خیبر پختونخوا میں جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں بظاہر ان کا مقصد ملک کو اندرونی انتشار اور دہشت گردی کے خطرات سے بچانا ہے، چونکہ ریاست کے لیے ملکی سلامتی سب سے مقدم ہوتی ہے اور اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب تک ملک میں سیاسی استحکام اور معاشی انصاف قائم نہیں ہوگا، تب تک اس قسم کے بحرانوں سے مکمل نجات حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
اوورسیزپاکستانی اس بات کی شدید خواہش رکھتے ہیں کہ پاکستان ایک مستحکم، خودمختار اور خوشحال ملک بنے۔ ہمارے دل ہمیشہ اپنے وطن کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ، اشرافیہ اورحکمران ہوش کے ناخن لیں، ذاتی مفادات کی سیاست کو بالائے طاق رکھ کر عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دیں اور ملک کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کریں۔ اگر اب بھی ہوش سے کام نہ لیا گیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور نہ ہی آنیوالی نسلیں ہمیں کبھی معاف کریں گی۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here