نیویارک (پاکستان نیوز)سابق امریکی صدر براک اوباما نے نمائندہ الہان عمر کیخلاف مبینہ تحقیقات اور محکمہ انصاف کی جانب سے ان کی رہائش گاہ پر چھاپے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو ڈرانے دھمکانے کی شرمناک کوشش قرار دے دیا۔سابق امریکی صدر براک اوباما نے محکمہ انصاف کی جانب سے منیسوٹا سے ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس الہان عمر کے گھر کی تلاشی اور ان کے خلاف جاری تحقیقات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ تنقید کرنے والی ایک منتخب اور قانون پسند نمائندہ کو ہراساں اور ملک بدر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ کارروائی بنیادی طور پر 2000 میں الہان عمر کی حاصل کردہ امریکی شہریت کے حوالے سے کی جانے والی امیگریشن تحقیقات کا حصہ ہے، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان کے والد نے ان کی عمر کے بارے میں غلط معلومات دی تھیں۔ اوباما کا کہنا تھا کہ 20 سال پرانے بے بنیاد معاملے کو اٹھا کر سیاسی حریفوں کے خلاف وفاقی حکومت کے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جا رہا ہے جو تمام امریکیوں کے لیے لمح? فکریہ ہے۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تمام معاملے سے لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی محکم? انصاف کا اپنا فیصلہ ہے اور ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ الہان عمر نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ٹرمپ کی سیاسی انتقامی مہم کا حصہ قرار دیا ہے اور عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اس طرح کے حربوں سے خاموش نہیں ہوں گی۔ ایوانِ نمائندگان کے دیگر ڈیموکریٹک رہنماؤں نے بھی اس قدم کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے حکومتی اداروں کی بدعنوانی اور الیکشن سے محض چند ہفتے قبل غیر معمولی سیاسی مداخلت قرار دیا ہے۔












