بھارت کا دارالحکومت نئی دہلی ان دنوں احتجاجی نعروں اور نوجوانوں کے شدید غصے کی زد میں ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں شاید ہی کبھی تعلیمی اور امتحانی نظام میں بدعنوانی پر اس پیمانے کی عوامی بیداری دیکھی گئی ہو۔ میڈیکل کے معتبر اور مرکزی امتحان میں پرچہ افشا ہونے اور بڑے پیمانے پر دھاندلی کے انکشاف نے لاکھوں طالب علموں کے مستقبل کو اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ جو امتحان ہزاروں نوجوانوں کے لیے محنت اور لگن کا ثمر حاصل کرنے کا ذریعہ تھا وہ اچانک ذہنی اذیت اور انتہائی اقدام کا سبب بن گیا۔ کئی ماہ اور بعض اوقات سالوں کی شبانہ روز محنت پر پانی پھر جانے کے بعد جب مایوسی حد سے بڑھی تو درجنوں بے گناہ طالب علم اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہی وہ بنیادی موڑ تھا جہاں سے تعلیمی میدان کی اس ناکامی نے ایک وسیع عوامی اور سیاسی تحریک کی شکل اختیار کر لی۔ جابرانہ پالیسیوں اور لاپرواہی کی بدولت اب بھارت کی سڑکیں ان نوجوانوں کا میدانِ جنگ بن چکی ہیں جو اپنے روشن مستقبل کے لیے انصاف کے طلبگار ہیں۔
نئی دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر سے جب ہزاروں طلبا نے پارلیمان کی طرف پیش قدمی شروع کی تو حکومت نے ان کی آواز سننے کے بجائے طاقت اور تشدد کا سہار لیا۔ دارالحکومت کی سڑکوں کو پولیس اور نیم فوجی دستوں کے حوالے کر دیا گیا جہاں آئینی حق کا مطالبہ کرنے والے طلبا پر لاٹھیاں برسائی گئیں اور آنسو گیس کے شیل داغے گئے۔ جب کوئی جمہوری حکومت نوجوانوں کی تعلیمی اور روزگار کی فریاد کے جواب میں مذکرات کا راستہ اپنانے کی بجائے تشدد اور ڈنڈے کا استعمال کرے تو یہ طرزِ حکمرانی جمہوری قدروں کے منافی اور فاشسٹ ذہنیت کا عکاس بن جاتا ہے۔ اس تشدد پسندانہ حکمتِ عملی نے حکومت کے خلاف عوامی غصے کو مزید ہوا دی ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ موجودہ اقتدار اختلافِ رائے اور برحق مطالبات کو برداشت کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔
اس تحریک کا سب سے دلچسپ اور منفرد پہلو اس کا نام اور تنظیم سازی ہے۔ عدالتی اور سرکاری رویوں پر طنز اور احتجاج کی علامتی شکل کے طور پر جب طلبہ کو ایک مخصوص نام سے پکارا گیا تو انہوں نے اسی کو اپنی جدوجہد کی شناخت بنا لیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا کا یہ دھارا ایک باقاعدہ سیاسی اور سماجی لہر میں تبدیل ہو گیا۔ انسٹاگرام جیسے ذرائع پر کروڑوں نوجوانوں کی اس پلیٹ فارم پر شمولیت نے یہ واضح کر دیا کہ بھارت کا تعلیم یافتہ طبقات اب محض خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتا۔ طلبہ کا یہ اتحاد اب کسی ایک شہر یا چند اداروں تک محدود نہیں رہا بلکہ بمبئی اور بنگلور سے لے کر دیگر ریاستوں تک اس کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں مختلف طبقات اور عام شہریوں کا شامل ہونا موجودہ حکومت کے لیے سیاسی اعتبار سے سخت چیلنج بن چکا ہے۔
اس احتجاج کو اخلاقی اور سماجی طاقت ان نامور شخصیات سے مل رہی ہے جنہوں نے ہمیشہ اصلاحات اور سماجی بہبود کی بات کی۔ تعلیمی شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والے سماجی کارکنوں کا اس جدوجہد کے ساتھ کھڑا ہونا اور بے قابو بدعنوانی کے خلاف بھوک ہڑتال پر بیٹھنا حکومتی غفلت کا واضح ثبوت ہے۔ جب وہ شخصیات جن کے تعلیمی تجربات پر فلمیں بنیں اور جنہیں علم کا استعارہ سمجھا گیا ہسپتالوں کے بستروں سے جدوجہد کے پیغامات بھیجیں تو یہ معاملہ محض امتحان کی منسوخی کا نہیں رہتا بلکہ پورے حکومتی اور تعلیمی ڈھانچے کے زوال کا اشاریہ بن جاتا ہے۔ پولیس کا ان سماجی رہنماؤں کے ساتھ ناروا سلوک اور انہیں زبردستی اٹھانا اس بات کی گواہی ہے کہ انتظامیہ حقائق کا سامنا کرنے کی بجائے سچائی کی آواز کو دبانا چاہتی ہے۔
مظاہرین کے مطالبات نہایت واضح اور بنیادی نوعیت کے ہیں۔ وہ تعلیمی اور امتحانی شعبے کی اعلیٰ ترین قیادت یعنی وفاقی وزیرِ تعلیم کے فوری استعفے کے متمنی ہیں تاکہ امتحانات کی شفافیت اور احتساب کا نظام دوبارہ قائم کیا جا سکے المعاوضہ کی شکل میں ان تمام متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے جن کے بچے امتحانی بے ضابطگیوں کی وجہ سے خودکشی جیسے دلدوز اقدامات پر مجبور ہوئے۔ اس کے علاوہ تعلیمی نظام کی بنیادی اور جامع اصلاحات بھی طلبہ کا بنیادی مدعا ہیں تا کہ مستقبل میں کسی بھی طالب علم کی محنت اور زندگی یوں ضائع نہ ہو۔ اگرچہ حکومت نے وقت مانگ کر معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن عوامی غصہ اور احتجاج کا دباؤ اس قدر زیادہ ہے کہ محض زبانی باتوں سے اب یہ معاملہ دبنے والا نہیں۔
بھارت میں بے روزگاری اور تعلیمی بدعنوانی کا بحران محض معاشی عدد و شمار کا کھیل نہیں ہے بلکہ یہ کروڑوں نوجوانوں کی زندگیوں کا مسئلہ ہے۔ ہر سال لاکھوں افراد سرکاری نوکریوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں شمولیت کے لیے اپنے دن رات ایک کرتے ہیں۔ جب نظام میں شفافیت ختم ہو جائے اور سفارش یا دولت کے بل بوتے پر پرچے فروخت ہونے لگیں تو قابلیت اور محنت بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں۔ یہ غصہ محض ایک امتحان کے منسوخ ہونے کا نہیں بلکہ اس غیر منصفانہ اور جابرانہ سوچ کے خلاف ہے جس نے نوجوان طبقے کی امیدوں کو پامال کر دیا ہے۔ حالیہ تاریخی احتجاجی لہر نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر نوجوانوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جائے اور ان کی آواز کو لاٹھیوں کے زور پر بند کرنے کی کوشش کی جائے تو اقتدار کا سحر ٹوٹنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ یہ بیداری موجودہ حکومت کے لیے ایک واضح اور تحریری انتباہ ہے۔
٭٭٭














