پاکستانی عوامی علاقائی اور قومی کھیلوں کا خاتمہ !!!

0
4
رمضان رانا
رمضان رانا

کل بروز اتوار19 جولائی کو دنیا کے مشہور ترین فٹ بال کھیل دیکھنے کا موقع ملا جو فیفا(فیڈریشن انٹرنیشنل فٹ بال ایسوی ایشن )کے تحت دنیا کے اکثریتی ممالک پر مشتمل ٹیموں پر کھیلا جاتا ہے جس میں دنیا کے ہر کھیل سے زیادہ شائقین پائے جاتے ہیں جس کا انعقاد اس مرتبہ امریکہ نیوجرسی ریاست میں ہوا ہے۔ اس کھیل میں سب سے بڑی دلچسپی اس بات کی تھی کہ فائنل میں ایک طرف فلسطین کامددگار اور سہولت کار دنیا کا عظیم ملک اسپین(اندلس) اور دوسری طرف اسرائیل کی حامی ارجنٹائن کی ٹیمیں مدمقابل تھیں۔ جن کے درمیان ایک بہت بڑا سخت مقابلہ ہوا جو آخر کار وافر وقت دینے کے بعد اسپین کے ایک گول سے فیصلے ہوا۔ جس کا جشن پوری دنیا خصوصاً مسلم دنیا میں نظر آیا کہ ایک مظلوم مقتول اور بے بس فلسطین عوام کی کھل کر مدد کرنے والے ملک اسپین کی ٹیم جیتی ہے۔ جس سے لگتا تھا کہ آج اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ جاری ہے جس میں اسرائیل کو شکست فاش ہوئی ہے۔ جس کے کھلاڑیوں کو صدر ٹرمپ نے انعامات سے نوازہ ہے۔ تاہم راقم الحروف بچپن میں پاکستان کے عوامی کھیل فٹ بال کھیلنے کا موقع ملا ہے جو اس وقت پاکستان کے شہروں اور دیہاتوں کی گلی کوچوں میں کھیلا جاتا تھا جس کو عوامی کھیل نہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ چونکہ میرا بچپن اور نوجوانی کا وقت کراچی جیسے اقوام متحدہ شہر میں گزرا ہے جب ہم لوگ لیاری کراچی میں فٹ بال کھیلا کرتے تھے۔ یہاں شیدی بلوچوں کا فٹ بال کھیل کھیلنا باعث فخر تھا کہ جو ہیڈ بال کے مشہور ترین کھلاڑی تھے۔ جن کا فٹ بال کھیلنا ہی اوڑھنا بچھونا تھا۔ جن کو دیکھ کر رشک آیا کرتا تھا۔
یہاں پاکستان کے مشہور ترین سیاستدان غوث بخش بزنجو بھی فٹ بال کھیلا کرتے تھے۔ کاش پاکستان اس عوامی کھیل کر پروموٹ کرتا اور کرکٹ جیسے فرنگی کھیل کی بجائے اس عوامی کھیل پر انویسٹ کرتا تو آج میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان فیفا کے کھیلوں کا حصہ دار ہوتا۔ مگر ایسا نہ ہوا کہ فرنگیوں کا عیش وعشرت والا کھیل کرکٹ ملک پر چھا گیا۔ جو ماضی میں عیاش اڈوں کا تماشہ ہوا کرتا تھا۔ جس طرح بادشاہ لوگ شیر کے سامنے کسی شخص کو ڈال کر خوش ہوتے تھے اسی طرح فرنگی لارڈز کرکٹ سارا اور ساتوں دن کھلوا کر لڑکیاں لیے بیٹھے شراب وکباب کی عیش وعشرت کیا کرتے تھے۔ اسی لئے کرکٹ فرنگی اور ان کی نوآبادیاتی کالونیوں تک محدود رہا ہے۔ جس کی تعداد آج بھی دس ملکوں سے زیادہ نہیں ہے جس میں بعض ممالک مانگے تانگے کے ہیں۔
جس کی نسبت فٹ بال میں 100 کے قریب ملکوں نے حصہ لیا جو فائنل تک دو ٹیموں کے درمیان مقابلہ ہوا جس کو تقریباً پوری دنیا دیکھ کر انجوائے ہو رہی تھی۔ جبکہ کرکٹ آج برطانیہ کے بعد بھارت کا جوا خانہ بن چکا ہے جس سے بھارتی عوام آدھا تیتر اور آدھا بیٹر بن کر رہ گئی ہے جو بولنے میں فرنگی اور دیکھنے میں بھنگی نظر آتے ہیں۔ اگر ہندوستان نے بھی امریکہ کی طرح آزادی حاصل کی ہوتی تو آج امریکہ کی طرح بھارت، پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش کرکٹ جیسی لعنتوں سے پاک ہوتے۔
بہرحال پاکستان میں عوامی کھیل فٹ بال، علاقائی کھیل کبڈی، کشتی مالا کھڑا اور دوسرے ناپید کھیل اور قومی کھیل ہاکی کو جان بوجھ کر ختم کیا گیا ہے جن کی وجہ سے کبھی گاما پہلوان، بھولو برداران کی پہلوانی کا دنیا بھر میں راج تھا۔ کبڈی پنجاب کی گلی کوچوں میں کھیلی جاتی تھی ملاکھڑ سندھ میں بہت بڑا مقابلے والا کھیل تھا۔ پھر ہاکی کا کھیل بھی دنیا کا مشہور ترین کھیل ہوا کرتا تھا جس کے کھلاڑیوں نے ورلڈ اور اولمپک تک جیتے اور جس سے پاکستان کا نام دنیا بھر میں بلند ہوا ۔ان تمام کھیلوں کو فرنگیوں کا سازشی عیش وعشرت والا کھیل کھا گیا کہ آج کھدو سے فٹ بال کھیلنے والا کھلاڑی آج کرکٹ کھیلتا پھرتا ہے جو کرکٹ کے بلوں سے ہر آنے جانے والوں کو گلی ڈنڈے جیسے کھیل کی طرح زخمی کر رہا ہے۔ جو اداس کمتری اور عہد غلامی کی مستقل نشانی ہے۔
٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here