ڈاکٹر سید تقی عابدی ایک ایسی دوآتشہ شخصیت ہیں جو بیک وقت جسمانی مریضوں کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہیں تو فزیشن ہوتے ہیں اور جب ادب پر قلم اٹھاتے ہیں تو تنقیدی ادب کے مجددِ عصر دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں سفیرِ اردو، محسنِ اردو اور عاشقِ اردو جیسے القابات سے یاد کیا جاتا ہے جو قریہ قریہ اور دیس دیس اردو کا پرچم اٹھائے گھوم رہے ہیں۔ ان کے والد گرامی دہلی میں جج تھے اور ان کی اپنی پیدائش میر و غالب کے شہر دہلی میں ہوئی تھی، تاہم بعد میں خاندان دکن منتقل ہو گیا جس کی وجہ سے ان کی شخصیت میں دہلی اور دکن کا ایک خوبصورت آمیزہ نظر آتا ہے۔ انہوں نے حیدرآباد، برطانیہ اور امریکہ سے میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ایران و امریکہ میں قیام کے بعد اب مستقل طور پر کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ایران میں ملازمت کے دوران انہوں نے فارسی زبان سیکھی اور فارسی ادبیات کا گہرا مطالعہ کیا۔ وہ پیدائشی شاعر اور محقق ہیں جن کی اردو ادب سے وابستگی اور شیفتگی رگوں میں اس خون کی طرح دوڑتی ہے جس کا ذکر مرزا غالب نے یوں کیا تھا:
رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
وہ انیس شناسی، دبیر شناسی، اقبال شناسی اور فیض شناسی میں عالمی شہرت یافتہ ادبی دانشور، نامور محقق، نقاد، ادیب، شاعر اور مترجم ہیں۔ ان کا اندازِ تحقیق روایتی طرز سے بالکل جداگانہ ہے کیونکہ انہوں نے روایتی نقادوں کی روش سے ہٹ کر تنقیدی اور تحقیقی دنیا میں ایک نئی تخلیقی اور فکری روش اختیار کی ہے جو ان کے وسیع مطالعہ اور فلسفیانہ تخلیقی ذہنی ساخت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے تحقیق اور تنقید کو ایک نئی طرزِ فکر دے کر گویا اسے تخلیقی تحقیق بنا دیا ہے، اسی لیے انہیں اردو ادبی تحقیق کا مجددِ عصر کہا جاتا ہے۔ وہ ایک سچے عاشقِ اردو ہیں جو اپنی جان و مال کی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔ اگرچہ اردو زبان کے پیشہ ور شاعروں اور تنقید نگاروں نے اردو کی خدمت کی ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ نوابینِ لکھنؤ، نظام آف دکن اور نوابینِ اودھ نے شاعروں کے دامن دام و درہم سے بھر دیئے اور پاک و ہند کے حکومتی ادبی ادارے آج بھی ان کی سرپرستی کر رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اردو نے بھی ان کی خدمت میں کمی نہیں کی۔ آج بھی امریکہ، انگلستان، کینیڈا، دبئی، قطر اور ابوظہبی میں مشاعرے پڑھے جا رہے ہیں جہاں پیشہ ور شعرا ڈالر، پونڈ اور ریال سمیٹ رہے ہیں، لیکن ایسے ماحول میں ڈاکٹر تقی عابدی ایک ایسے مجاہد ہیں جو اپنی حلال کی کمائی اردو ادب کی ترویج پر خرچ کر رہے ہیں اور طب سے جو کچھ کمایا اسے ادب پر نچھاور کر دیا، جس پر میر تقی میر کا یہ شعر صادق آتا ہے:
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
ان کی تصانیف اور تالیفات کی تعداد 70 ہے جن میں تدوین، تراجم، تجزیات اور تنقیدی کتب شامل ہیں۔ ان کی شخصیت پر 6 کے قریب کتب شائع ہو چکی ہیں اور مختلف یونیورسٹیوں میں ان کی علمی اور ادبی خدمات پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر مقالے لکھے گئے ہیں۔ ان کی چند اہم تصانیف میں رباعیاتِ دبیر، امجد فہمی، فیض فہمی، مطالعہ دبیر کی روایت، یادگارِ انیس، اقبال کے عرفانی زاویے، رباعیاتِ رشید لکھنوی، فراق گورکھپوری اور انشاء اللہ خان انشاء شامل ہیں۔ جب بھی وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ کسی بڑے شاعر کے ساتھ ادبی انصاف نہیں ہوا تو وہ تیغِ بے نیام کی طرح لہراتے ہیں۔ ان کی رائے میں شبلی نعمانی نے موازنہ انیس و دبیر میں مرزا دبیر کی شاعری کے ساتھ انصاف نہیں کیا تھا، چنانچہ انہوں نے مرزا دبیر کی شاعرانہ عظمت، قادر الکلامی، فکری بالیدگی، کردار نگاری اور حکیمانہ افکار پر قلم اٹھایا اور مرزا دبیر پر سات کتابیں تدوین و تصنیف کیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے میر انیس کے مراثی کے محاسن کو بھی ایسے اچھوتے محققانہ انداز میں بیان کیا جو اس سے پہلے کہیں نظر نہیں آتا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ فرید لکھنوی جیسے عظیم رباعی گو گوشہ گمنامی میں چلے گئے ہیں تو ان کی غیرتِ ادبی نے جوش مارا اور انہوں نے فرید لکھنوی پر ایک لاجواب تنقیدی کتاب لکھ کر انہیں گمنامی کے اندھیروں سے باہر نکالا۔
ڈاکٹر سید تقی عابدی نے بہت لکھا ہے اور ابھی مزید لکھ رہے ہیں جس کی وجہ سے انہیں ایک انتہائی کثیر التصانیف مصنف مانا جاتا ہے۔ یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ ان کی شخصیت اور فن پر ان کی زندگی میں ہی بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔ ان کے معاصرین فخریہ احساس کے ساتھ ان کی ادبی و علمی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔ ان سے ہونے والی چند یادگار ملاقاتوں کا احوال ادب کی تاریخ کا حصہ ہے، جن میں پہلی ملاقات چند سال قبل نیویارک میں علامہ اقبال کی شاعری پر منعقدہ ایک ادبی سیمینار میں ہوئی تھی جہاں ڈاکٹر تقی عابدی صدارت فرما رہے تھے اور وہ کینیڈا سے تشریف لائے تھے، اس موقع پر انہوں نے اپنی تازہ تصانیف انشاء اللہ خان انشاء اور دبیر رباعیات تحفتاً پیش کیں۔ دوسری ملاقات فاطمہ جناح خواتین یونیورسٹی راولپنڈی میں شعبہ اردو کی صدر نشین ڈاکٹر فرحت جبین ورک کی جانب سے ان کی تازہ تصنیف باقیاتِ اقبال کی تقریبِ رونمائی کے موقع پر ہوئی جہاں تقریب کے مہمانِ خصوصی لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم تھے اور صدارت کا اعزاز راقم الحروف کو حاصل ہوا۔ تیسری تقریب الحمد اسلامک یونیورسٹی راولپنڈی کے شعبہ اردو کے صدر نشین ڈاکٹر شیر علی نے منعقد کی تھی جہاں ان کی زیرِ نگرانی سیدہ صاعقہ نقوی نے ایم فل کا مقالہ بعنوان رثائی ادب میں ڈاکٹر سید تقی عابدی کی تحقیقی اور تنقیدی خدمات کا جائزہ لکھا، جسے کتابی صورت میں شائع کر کے حاضرین میں تقسیم کیا گیا اور اس اجلاس کی صدارت بھی راقم کے حصے میں آئی۔ اس صدارتی خطاب میں کتاب پر روشنی ڈالتے ہوئے میر انیس، مرزا دبیر، جوش ملیح آبادی اور دیگر جدید مرثیہ نگاروں کے فن کا ذکر کیا گیا اور یہ واضح کیا گیا کہ عصرِ حاضر میں مرثیہ نگاری کے محققین اور نقادوں میں ڈاکٹر سید تقی عابدی کا نام سرِ فہرست ہے۔ انہوں نے فنِ تنقید و تحقیق کو جدید علمی اور تخلیقی انداز میں پیش کر کے ادبی تنقید میں ایک ایسے نئے باب کا اضافہ کیا ہے جو آنے والے محققین کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہو گا۔ ان کی یہ تحقیقی، تنقیدی، ادبی اور علمی خدمات خدا داد ہیں جن پر شیخ سعدی کا یہ شعر بالکل موزوں بیٹھتا ہے:
این سعادت بزورِ بازو نیست
تو نبخشد خدائے بخشندہ











