اسپین کی جیت اور سیالکوٹ کے ہنر کی گونج!!!

0
5

فٹ بال محض ایک کھیل نہیں بلکہ جذبوں، خوابوں اور قوموں کی شناخت کا استعارہ ہے۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 کا فائنل بھی دنیا کو ایک ایسی ہی یادگار شام دے گیا، جب امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہونے والے اس عالمی میلے کا اختتام اسپین کی شاندار فتح پر ہوا۔ اسپین نے ارجنٹینا کو شکست دے کر عالمی چیمپئن کا تاج اپنے سر سجایا، مگر اس کامیابی کی گونج کے ساتھ ایک اور نام بھی دنیا بھر میں فخر سے لیا گیا اور وہ تھا پاکستان کا شہر سیالکوٹ۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 کی سرکاری گیند TRIONDA جدید ٹیکنالوجی اور اعلیٰ معیار کی علامت تھی، جس کا نام تین میزبان ممالک یعنی امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس گیند کی تیاری میں پاکستان کے شہر سیالکوٹ کے ہنرمندوں کی مہارت شامل تھی، اور یہ حقیقت ہر پاکستانی کے لیے باعثِ افتخار ہے کہ اگرچہ قومی ٹیم اس عالمی مقابلے میں شریک نہیں تھی، لیکن دنیا کے سب سے بڑے فٹ بال مقابلے کے ہر پاس، ہر شاٹ اور ہر گول کے ساتھ پاکستان کا نام ضرور موجود تھا۔
سیالکوٹ کئی دہائیوں سے دنیا کا ممتاز ترین فٹ بال ساز شہر رہا ہے اور فیفا ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والی متعدد یادگار گیندیں پاکستان کی فٹ بال صنعت کی عالمی شہرت کی گواہی دیتی ہیں، جن میں 1982 کی Tango Espana، 1986 کی Azteca، 1990 کی Etrusco Unico، 1994 کی Questra، 1998 کی Tricolore، 2002 کی Fevernova، 2006 کی Teamgeist، 2010 کی Jabulani، 2014 کی Brazuca، 2018 کی Telstar 18، 2022 کی Al Rihla اور اب 2026 کی TRIONDA شامل ہیں۔ یہ صرف گیندیں نہیں بلکہ پاکستانی ہنرمندی، معیار اور محنت کی علامتیں ہیں۔
اس ورلڈ کپ نے ایک ذاتی اور جذباتی یاد بھی رقم کی، کیونکہ امریکہ میں رہائش پذیر ہونے کے ناطے فائنل کا انعقاد اسی ریاست میں ہوا جہاں میری رہائش ہے۔ اس دوران جہاں دنیا کی نظریں میدان پر جمیں تھیں، وہیں میری نظریں اس گیند پر تھیں جو میرے وطن کے شہر سیالکوٹ کی مہارت کی نمائندہ تھی۔ اس لمحے یہ احساس ہوا کہ فاصلے خواہ کتنے ہی طویل ہوں، اپنے وطن کی خوشبو دل کے بہت قریب رہتی ہے۔
بطور نثر نگار، براڈکاسٹر اور کالم نگار یہ یقین ہمیشہ قائم رہا ہے کہ قوموں کی اصل پہچان صرف ان کی سیاسی یا عسکری طاقت سے نہیں ہوتی، بلکہ ان کے علم، ہنر، صنعت اور تخلیقی صلاحیتوں سے ہوتی ہے۔ اسی جذبے کے تحت سیالکوٹ کے کاریگروں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ خاموش محنت بھی عالمی شہرت حاصل کر سکتی ہے۔
اگرچہ ورلڈ کپ کی ٹرافی اسپین کے حصے میں آئی، مگر اس عالمی جشن میں پاکستان بھی برابر کا شریک تھا۔ جب بھی TRIONDA فضا میں بلند ہوتی یا کھلاڑیوں کے قدموں سے ہم آہنگ ہوتی، یوں محسوس ہوتا کہ اس کے ساتھ سیالکوٹ کے محنت کش ہاتھ، پاکستان کا وقار اور ایک قوم کی پہچان بھی دنیا کے سامنے گردش کر رہی ہے۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 نے یہ سبق دیا کہ کبھی کبھی عالمی اعزاز صرف فاتح ٹیم ہی کا نہیں ہوتا، بلکہ ان گمنام ہاتھوں کا بھی ہوتا ہے جو خاموشی سے تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس بار تاج یقیناً اسپین کے سر تھا، مگر فخر سیالکوٹ کا بھی کم نہ تھا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here