واشنگٹن (پاکستان نیوز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت موقف اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران کو اپنی یورینیم افزودگی 100 فیصد روکنا ہوگی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران سے تمام نیوکلیئر ڈسٹ حاصل کریں گے اور انہیں یقین ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی ہر قسم کی کوشش ترک کر دیگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ کسی بھی نئے معاہدے کے لیے جلدی کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ امریکہ کے پاس بحری ناکہ بندی کا موثر ہتھیار موجود ہے جس کے ذریعے دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے رواں ہفتے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کا بھی اعلان کیا ہے جس میں تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت کا اہم معاملہ زیر بحث آئے گا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اگرچہ چین اس فروخت کا مخالف ہے لیکن وہ اس پر براہ راست بات چیت کریں گے۔ اسی دوران امریکی وزیر جنگ نے سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف ہر محاذ پر کامیابی حاصل کر رہا ہے اور ایران اپنے عسکری نقصان کی وجہ سے ہی مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازع کا حل صرف صدر ٹرمپ کی شرائط پر ہی ممکن ہوگا۔ اس کے برعکس ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی شرائط کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے جنگ بندی اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ پہلی شرط ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ امریکہ حقیقی بات چیت کے بجائے اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے، جبکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت بحری ناکہ بندی اعلان جنگ کے مترادف ہے جس کی تمام تر ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔









