ورجینیا کی عدالت نے حلقہ بندیوں سے متعلق عوامی ریفرنڈم کو غیر آئینی قرار دیدیا

0
10

ورجینیا (پاکستان نیوز)سپریم کورٹ نے ریاست میں امریکی ایوان نمائندگان کے نقشے کو دوبارہ ترتیب دینے کی ڈیموکریٹس کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے اپریل میں ہونیوالے ریفرنڈم کو باطل قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے ان قومی انتخابی کوششوں کے تناظر میں ایک بڑا نقصان ثابت ہوا ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے وسط مدتی انتخابات سے قبل شروع کی گئی تھیں۔ عدالتی حکم کے چند گھنٹوں بعد ہی ریاستی ڈیموکریٹس نے ایک قانونی دستاویز جمع کرائی جس میں انہوں نے امریکی سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔ یہ عدالتی فیصلہ ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کی امید رکھنے والے ڈیموکریٹس کے لیے ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔ اگرچہ تاریخی رجحانات اور موجودہ سیاسی صورتحال کی بنا پر وہ اب بھی ایوان میں جیت کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہیں لیکن ان کا مقصد ورجینیا میں نئی حلقہ بندیوں کے ذریعے ان فوائد کا مقابلہ کرنا تھا جو ریپبلکن پارٹی نے دیگر مقامات پر حاصل کیے تھے۔ ریاستی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ریفرنڈم کی تشکیل کا عمل ریاست کے دستور کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ جسٹس ڈی آرتھر کیلسے نے اکثریتی رائے میں تحریر کیا کہ دولت مشترکہ نے ورجینیا کے ووٹروں کے سامنے آئینی ترمیم کے لیے ایک ایسا طریقہ اپنایا جو درمیانی انتخابات کی قانونی ضرورت کے منافی تھا۔ عدالت کے مطابق اس خلاف ورزی نے ریفرنڈم کے ووٹ کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے اسے کالعدم تصور کیا جائے گا۔ ورجینیا میں حلقہ بندیوں کی اس تبدیلی سے ڈیموکریٹس کو 4 مزید نشستیں جیتنے کا موقع مل سکتا تھا جس سے ریاست میں ریپبلکن نمائندگی کم ہو کر صرف ایک ضلع تک محدود ہو سکتی تھی۔ اس ریفرنڈم سے قبل ریپبلکن نیشنل کمیٹی اور دیگر ریپبلکن رہنماؤں نے اس کی منصوبہ بندی کے خلاف متعدد مقدمات دائر کیے تھے جس پر اب عدالت کا قطعی فیصلہ سامنے آ گیا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here