نیویارک (پاکستان نیوز) مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے ٹکراؤ اور مفادات کی جنگ کا ایندھن بن رہی ہے جہاں امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں سفارت کاری کے تمام راستے مسدود نظر آتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنی سخت ترین پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی تجارت کے لیے کھلا رکھنے کی خاطر فریڈم پراجیکٹ کی وسیع پیمانے پر بحالی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس منصوبے کا دائرہ کار محض تجارتی بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے ذریعے تہران پر دباؤ میں اس وقت تک اضافہ کیا جائے گا جب تک وہ ہتھیار نہیں ڈال دیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس ایٹمی فضلے کو ٹھکانے لگانے کی مطلوبہ ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے اور اس مقصد کے لیے ایرانی مذاکرات کاروں نے امریکی مدد کی ضرورت کا اعتراف کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کردہ امریکی منصوبے پر ایرانی جواب کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ سابقہ امریکی حکومتوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باراک اوباما اور جو بائیڈن کی کمزور پالیسیوں کی وجہ سے ایران دہائیوں سے امریکہ کے ساتھ تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے باراک اوباما کو ایران کے لیے بہترین تحفہ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سابقہ انتظامیہ نے اسرائیل اور دیگر اتحادیوں کے مفادات کو پس پشت ڈال کر تہران کو 1.7 بلین ڈالر کی خطیر نقد رقم فراہم کی جس نے ایرانی معیشت کو نئی زندگی دی۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کو نیا معاہدہ کرنے پر مجبور کرنے کے لیے اقتصادی اور عسکری دباؤ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔حالیہ ہفتوں میں اس تنازع کی نوعیت میں آنے والی تبدیلی محض عسکری نہیں بلکہ ایک گہری معاشی ناکہ بندی کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے جس نے خطے کو ایک طویل مدتی تعطل کا شکار کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایوانوں سے آنے والی آوازیں زمینی حقائق سے یکسر مختلف ہیں کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل اس زعم میں مبتلا ہیں کہ انہوں نے تہران کی عسکری اور معاشی کمر توڑ دی ہے۔ صدر کا بیانیہ اس مفروضے پر قائم ہے کہ ایرانی دفاعی نظام اب ماضی کا قصہ بن چکا ہے اور وہاں کی قیادت اب کسی بھی کڑی شرط پر سمجھوتے کے لیے بے تاب ہے مگر سیاسی مبصرین ان دعووں کو محض ایک انتخابی حکمت عملی اور عوامی اجتماعات میں داد سمیٹنے کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس سنگین مسلح تصادم کو ایک عارضی مہم سے تشبیہ دے کر عوامی غم و غصے کو کم کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کانگریس کی توثیق کے بغیر شروع ہونے والی یہ مہم اب ایک باقاعدہ جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔ امریکی صدر کی جانب سے سابقہ دور کے جوہری معاہدے کی تنقید اور ایک نئے جامع سمجھوتے کا خواب دراصل ان کی اس خواہش کا آئینہ دار ہے جس میں وہ خود کو ایک فاتح کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس جنگ کو عالمی امن کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں لیکن عوامی جائزوں میں ان کی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے گرا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کے لیے جو خطرات پیدا کیے ہیں ان کا جواب واشنگٹن کے پاس موجود نہیں۔ تہران نے اپنی تزویراتی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تیل کی عالمی ترسیل کو جس طرح متاثر کیا ہے اس نے امریکی معیشت اور توانائی کے شعبے میں تلاطم پیدا کر دیا ہے۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ کے لیے سب سے بڑی مشکل چین کا آئندہ دورہ ہے جہاں وہ اپنی برتری ثابت کرنے کے خواہشمند ہیں مگر ایران کے ساتھ جاری یہ تعطل انہیں ایک کمزور پوزیشن پر لاکھڑا کرے گا۔ بیجنگ روانگی سے قبل کسی بھی قسم کے سمجھوتے کی تڑپ انہیں بند گلی میں لے گئی ہے جہاں ایران ان کی یکطرفہ شرائط ماننے سے صاف انکاری ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران کی حکمت عملی اب صدر ٹرمپ کو کسی بھی رعایت کے بغیر بیجنگ بھیجنے کی ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر ایک ناکام مذاکرات کار کے طور پر ابھریں۔ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی فریم ورک کی باتیں کی جا رہی ہیں لیکن امریکی لہجے میں چھپی دھمکیاں اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بالواسطہ اشارے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس کی اپنی دستاویزات یہ اعتراف کر رہی ہیں کہ ایران کی میزائل قوت کا بڑا حصہ اب بھی محفوظ ہے اور اس کی بغیر پائلٹ کے طیارے بنانے کی صلاحیت کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکا ہے۔ ایرانی قیادت نے نہایت صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی عجلت میں کوئی ایسا معاہدہ نہیں کریں گے جو ان کی قومی خود مختاری کے خلاف ہو۔ ان کا مطالبہ ہے کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر ان کے حقوق تسلیم کیے جائیں اور مالی نقصانات کا ازالہ کیا جائے جبکہ امریکہ ان شرائط کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔ اسی سفارتی رسہ کشی کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ بیان کہ وہ امریکہ سے ملنے والی اربوں ڈالر کی سالانہ فوجی امداد کو ختم کرنا چاہتے ہیں ایک نیا موڑ ثابت ہوا ہے۔ اس بیان کے پیچھے چھپی تزویراتی سوچ اور امریکی صدر کے ساتھ حالیہ رابطوں نے خطے میں نئے اتحادوں اور دفاعی ترجیحات کی نشاندہی کی ہے۔ ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والا ہوش ربا اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو عالمی معیشت ایک بڑے بحران کی زد میں آ جائے گی۔ برینٹ کروڈ اور امریکی تیل کی قیمتیں اس سطح پر پہنچ چکی ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ صرف ایک پائیدار امن معاہدے سے ہی ممکن ہے۔ چین اس تمام صورتحال کو گہری نظر سے دیکھ رہا ہے اور وہ امریکی عسکری و سفارتی حکمت عملی کی کمزوریوں کا ادراک کر کے اپنی مستقبل کی پالیسی مرتب کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے بھی دباؤ بڑھ رہا ہے اور نوبل انعام یافتہ سماجی کارکن کی گرتی ہوئی صحت نے عالمی برادری کی توجہ ایران کے داخلی معاملات کی جانب مبذول کروا دی ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو صدر ٹرمپ ایک ایسی جنگ میں الجھ گئے ہیں جس کا کوئی واضح انجام ان کے پاس نہیں اور ان کا غرور انہیں ایک ایسی سیاسی شکست کی جانب لے جا رہا ہے جس کا فائدہ براہ راست ان کے عالمی حریفوں کو پہنچے گا۔ تہران کی استقامت اور واشنگٹن کی بے چینی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ طاقت کے زور پر کسی قدیم تہذیب کو جھکانا اتنا آسان نہیں جتنا کہ وائٹ ہاؤس کے بیانات میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اب تمام تر نظریں ان 24 گھنٹوں پر لگی ہیں جو شاید اس خطے اور صدر ٹرمپ کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔













