ایران امریکہ جنگ اورہمارا کردار!!!

0
3
شبیر گُل

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کی معیشت شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے۔ تمام خلیجی ممالک کی سیکورٹی امریکہ کے رحم وکرم پر دکھائی دیتی ہے، جسے ایران نے تار تار کر دیا ہے۔ یہ جنگ امریکہ اور اسرائیل کی پیشگی منصوبہ بندی کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ تاہم امریکی صدر اور نائب صدر کے درمیان خلیجی جنگ پر مکمل اتفاقِ رائے نظر نہیں آتا، اور نائب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر حملوں کی دھمکیاں تواتر سے دیتے آ رہے تھے، اور مذاکرات کے دوران بھی ایرانی تہذیب، پلوں، ریلوے اسٹیشنوں، بجلی گھروں اور ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی باتیں کرتے رہے۔ امریکی طیارے کئی روز سے ایرانی بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہے ہیں، جو ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف حملوں کی صورت میں امریکی پالیسی کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔
امریکی اقدامات کے بعد ایران نے اسلام آباد معاہدے کی یادداشت کو ختم کر دیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے معاہدوں کی پاسداری نہ کرنے اور خود ان کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے ان پر اعتماد مجروح ہوا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف خلیج میں امن کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایرانی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز اور حوثیوں کی طرف سے باب المندب کی بندش کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے، جس سے کئی دیگر ممالک کے بھی اس تنازع کا حصہ بننے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ امریکہ پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے تیل کے ذخائر پر اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے ان کی معاشی تباہی چاہتا ہے۔ خلیجی ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈوں سے ایران پر حملے کیے جا رہے ہیں، جس کے جواب میں ایران قطر، بحرین اور کویت میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
ایران کی صورتحال وینیزویلا، لیبیا یا عراق جیسی نہیں ہے، اور ایرانی قوم بیرونی دباؤ کے سامنے مضبوطی سے کھڑی ہے۔ کویت میں پانی کے پلانٹ کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ خلیجی ممالک میں امریکی سفارت خانے، فوجی اڈے اور مالیاتی ادارے ایرانی کارروائیوں کا ہدف بن چکے ہیں۔ ایرانی عوام اور قیادت تمام تر جدید و مہلک ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ قیادت کی تبدیلیوں کے باوجود ایران کا مؤقف برقرار ہے، اور اس نے اپنے تاریخی کردار کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان نے اس جنگ کو روکنے کے لیے موثر سفارتی کردار ادا کیا، لیکن امریکہ اور ایران نے ان کوششوں پر پیشرفت نہیں ہونے دی۔
امریکہ کے ایران میں اقدامات کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر جوابی کارروائیوں میں امریکی فوجیوں کا نقصان بھی ہوا ہے۔ وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق ایران نے حال ہی میں امریکہ کے 5 فیول طیارے تباہ کیے ہیں اور جدید میزائل ٹیکنالوجی کے ذریعے امریکی رڈار سسٹم کو متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث خلیج میں امریکہ کو ایک بڑا چیلنج درپیش ہے۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکہ نے جنگ جیت لی ہے اور ایران کو تباہ کر دیا ہے، لیکن ایران کی طرف سے مسلسل جواب دیا جا رہا ہے اور وہ طویل جنگ کی تیاری کر چکا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق ایرانی میزائلوں کی درستگی کے باعث خلیج میں امریکی دفاعی نظام مشکلات کا شکار ہوا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکی بحریہ کو نشانہ بنانے کے بعد جنگ کے طویل ہونے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے اور خلیجی خطہ متاثر ہوتا ہے تو پاکستان کے لیے بھی اس سے بچنا ممکن نہیں ہوگا، کیونکہ مقدس مقامات کی حفاظت پاکستان کی اولین ترجیح ہے اور اس بنا پر وہ ایک پیچیدہ صورتحال میں پھنس چکا ہے۔ خلیجی کشیدگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے بحر ہند میں پاکستان کے قریب اپنی آبدوزیں متحرک کی ہیں، جس پر پاکستانی سیٹلائٹ کے ذریعے لوکیشنز جاری کر کے بھارت کو خبردار کیا گیا ہے کہ کسی بھی بزدلانہ اقدام کا بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ پاکستان اس وقت افغانستان کے محاذ پر دہشت گردی، اندرونی چیلنجز اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ بھارت ان حالات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز مکمل طور پر چوکس ہیں تاکہ کسی بھی خطرے کا فوری جواب دیا جا سکے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر جوہری اثاثوں کے حوالے سے بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
عالمی سطح پر اس وقت انتہائی انتہا پسندانہ سوچ رکھنے والے رہنما اقتدار میں ہیں، جو امن کی بجائے کشیدگی کو فروغ دے رہے ہیں۔ نیتن یاہو، ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی جیسے حکمرانوں کی پالیسیوں نے عالمی امن کو شدید خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔ پاکستان کے اندر بھی کچھ سیاسی اور مذہبی رہنما ایسے بیانات دیتے ہیں جو ملکی مفاد اور نظریاتی اساس کے منافی ہوتے ہیں۔ اقتدار میں رہتے ہوئے حب الوطنی اور اقتدار سے باہر ہوتے ہی ریاست مخالف لب و لہجہ اختیار کرنا ان کا معمول بن چکا ہے۔ مختلف سیاسی و مذہبی شخصیات اپنے رویوں سے قومی سلامتی اور اداروں کے وقار کو نقصان پہنچاتی ہیں، اور حالیہ دنوں میں آئے تضاد پر مبنی بیانات سے قومی وقار مجروح ہوا ہے۔
پاکستان میں جمہوریت کا دعویٰ کرنے والی اکثر جماعتوں میں اندرونی جمہوریت کا فقدان ہے اور وہ خاندانی و موروثی بنیادوں پر چلائی جا رہی ہیں۔ عوام کی ایک بڑی تعداد ان رہنماؤں کے پرکشش نعروں سے دھوکہ کھا جاتی ہے، حالانکہ اقتدار ان کے لیے صرف ایک کاروبار کی حیثیت رکھتا ہے۔ زیادہ تر سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کی شاہانہ طرز زندگی، قیمتی گاڑیاں اور اربوں کے اثاثے ان کے عوام سے کٹے ہونے کا واضح ثبوت ہیں۔ ایسی صورتحال میں جماعت اسلامی کا طرز زندگی اور اس کی قیادت بظاہر سادگی کی حامل دکھائی دیتی ہے اور وہ عوامی مسائل کی بات کرتی ہے، جبکہ دیگر قیادتیں عام آدمی کے مسائل سے دور ہو چکی ہیں۔ پاکستان کے تمام مسائل کا حل ایماندار اور مخلص قیادت میں مضمر ہے، اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ پاکستان کی حفاظت فرمائے اور قوم کو سچے و محبِ وطن رہنما عطا فرمائے۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here