پچھلے اتوار عالمی فٹ بال ورلڈ کپ کا فائنل نیوجرسی کے بڑے اور کھلے اسی ہزار شائقین کی گنجائش والے اسٹیڈیم میں اسپین اور ارجنٹائن کے درمیان شروع ہوا۔ اسپین کے کھلاڑیوں نے نظم و ضبط اور بہترین حکمت عملی کے ساتھ کھیل کو آگے بڑھایا اور ارجنٹائن پر آخر تک حاوی رہے۔ دنیا بھر کی ہمدردیاں اور توقعات اسپین کے ساتھ تھیں، اور اس اہم مقابلے میں مشہور کھلاڑی میسی کا جادو بھی چلتا دکھائی نہ دیا۔ وہ میدان میں موجود تو تھے مگر ان کی ٹیم کوئی خاص حکمت عملی پیش کرنے میں ناکام رہی۔ اسپین کے کھلاڑی بار بار گیند کو ارجنٹائن کے گول کی طرف لاتے رہے، لیکن حریف گول کیپر ایمیلیانو مارٹنیز ہر بار گیند کو روکنے میں کامیاب ہوتے رہے۔ بالآخر اضافی وقت میں فرین ٹوریس کے شاندار گول کی بدولت اسپین نے کامیابی حاصل کر لی۔ یہ کہنا کہ مقابلہ سخت تھا شاید مناسب نہ ہو، کیونکہ اسٹیڈیم میں موجود اسی ہزار شائقین اور دنیا بھر کے گھروں اور ریستورانوں میں بیٹھے لاکھوں افراد اس یکطرفہ غلبے کے گواہ تھے۔ اسپین کی اس فتح کے ساتھ یہ عالمی ٹورنامنٹ اختتام پذیر ہوا۔ ایک اندازے کے مطابق اس میچ سے حاصل ہونے والی آمدنی 5 بلین ڈالرز تھی، جبکہ مزید ساڑھے تین بلین ڈالرز مختلف اشتہارات اور اسپانسرشپ کی مد میں حاصل ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ جس مقام پر یہ میچ منعقد ہوا، وہاں نیوجرسی کی انتظامیہ کو ٹیکسوں کی مد میں بڑا مالی فائدہ ہوا جس کی باضابطہ تفصیلات کا انتظار ہے۔ یہ ٹورنامنٹ میکسیکو، کینیڈا اور امریکہ کے مختلف شہروں میں کھیلا گیا تھا، جس سے ان شہروں کی معیشت کو بھی نمایاں تحرک ملا۔ جن افراد نے پہلے سے ٹکٹیں خرید رکھی تھیں، وہ انٹرنیٹ پر انہیں منہ مانگے داموں فروخت کر رہے تھے، جس کے مالی حجم کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ان تمام حالات کو دیکھ کر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بیان یاد آتا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ مہنگائی ختم اور گیس سستی ہو گئی ہے۔
ٹورنامنٹ کے اختتام پر ٹرافی کی تقسیم اور کھلاڑیوں کو میڈلز پہنانے کی تقریب انعقاد پذیر ہوئی جہاں انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار تقریب کے آخر تک موجود رہے۔ امریکی قیادت اس وقت بین الاقوامی سفارت کاری میں بے حد مصروف ہے، بالخصوص ایران کے ساتھ معاشی و سیاسی تعلقات کی کشمکش جاری ہے۔ صدر اکثر ایسے معاہدے کرتے اور ختم کرتے ہیں جس سے ان کے فیصلوں میں عدم استحکام کا تاثر ملتا ہے۔ امریکی عوام اب اس مزاج کے عادی ہو چکے ہیں اور وہ اس الجھن کا شکار رہتے ہیں کہ کس بات کو حتمی سمجھا جائے۔ امریکی قیادت بیک وقت صدر، پریس سیکرٹری اور دفاعی امور کے ترجمان کے طور پر سامنے آتی ہے اور امریکی قوم کو مستقل بنیادوں پر نئے مسائل کی فہرست سے متعارف کراتی رہتی ہے۔ جنوبی ریاستوں کے گورنر اور کسان اس بات پر مطمئن ہیں کہ نیویارک جیسے بڑے شہروں میں ان کی مصنوعات اور زرعی پیداوار کی فروخت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔حکومت نے صرف 25 فیصد کی اجازت دی تھی، جس کا مقصد ایتھنول تیار کر کے گیسولین میں 10 فیصد تک آمیزش کرنا تھا، تاہم موجودہ صورتحال میں مارکیٹ کی مانیٹرنگ کا مؤثر نظام دکھائی نہیں دیتا۔ اگر فصلیں متاثر ہوں تو فیڈرل انتظامیہ مالی امداد فراہم کرتی ہے، جبکہ مارکیٹ میں مصنوعات کو گراں قدر قیمتوں پر فروخت کیا جاتا ہے۔ اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو 1950 کی دہائی میں جو گیلن 2.50 ڈالر کا تھا، وہی آئل اب 30 ڈالر سے زیادہ کی قیمت تک پہنچ چکا ہے۔ گیس کی قیمت 4 ڈالر تک پہنچنے کے باعث عام استعمال کی اشیاء فراہم کرنے والے اسٹورز، بالخصوص سکھ، پاکستانی اور بھارتی تاجروں کے کاروبار متاثر ہوئے ہیں اور میکسیکو سے آنے والے فروٹ و دیگر اشیائے خور و نوش بھی مہنگی فروخت ہو رہی ہیں۔ اسی طرح گائے اور بھینس کے گوشت کی قیمتیں بھی بنگلہ دیشی اور پاکستانی اسٹورز پر 8 ڈالر فی پاؤنڈ سے تجاوز کر چکی ہیں اور حلال ذبیحہ کے نام پر صارفین سے زائد قیمتیں وصول کی جا رہی ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران منافع خوری کے اس رجحان نے عام صارفین کی معاشی حالت کو متاثر کیا ہے۔
ریستوران کی صنعت میں بھی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں، جہاں روایتی روٹی بنانے والے ہنر مندوں کی کمی کے باعث اب پہلے سے تیار شدہ اور پیک شدہ میدے کی روٹیاں اور نان استعمال کیے جا رہے ہیں۔ امریکہ میں مسلمان برادری، جس میں بنگلہ دیشی اور پاکستانی تارکین وطن شامل ہیں، مختلف علاقوں میں مساجد اور مذہبی مراکز قائم کر کے دینی تعلیمات کے فروغ میں مصروف ہیں۔ بچوں کو حافظِ قرآن بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور معاشرتی سطح پر مذہبی و روایتی امور کو اہمیت دی جاتی ہے۔ لوگ ہر سال حج اور عمرہ کی ادائیگی کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل رکھتے ہیں۔ تاہم، ان مثبت دینی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بعض انتظامی اور سماجی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ نیویارک اور دیگر بڑے شہروں میں مساجد کی انتظامی کمیٹیوں اور گروہوں کے درمیان اختلافات کے باعث مقدمات عدالتوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان تنازعات کی بنیادی وجہ اکثر مساجد کی بنیاد رکھنے اور انتظامی امور پر کنٹرول کا دعویٰ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، باجماعت نماز اور خطبات کے دوران موبائل فون کے غیر ضروری استعمال کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے جس پر انتظامیہ خاطر خواہ توجہ نہیں دے پا رہی، کیونکہ چندہ اور مالی معاونت متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ ان تمام حالات کا تقاضا ہے کہ ریاستی اور سماجی محکمے اپنے نظام کو بہتر بنائیں اور نچلی سطح پر ہونے والی انتظامی بے قاعدگیوں کا سدِباب کریں۔













