بلا وجہ کی محاذ آرائیاں اورپالیسیوں کا انتشار: ایران جنگ چین کیلئے تحفہ ثابت ہوا۔۔!

0
3

بلا وجہ کی محاذ آرائیاں اورپالیسیوں کا انتشار:
ایران جنگ چین
کیلئے تحفہ ثابت ہوا۔۔!

عالمی سیاست کا دائرہ کار اس وقت ایک انتہائی حساس اور تاریخ ساز موڑ سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ میں جلتی ہوئی آگ کے شعلے عالمی معیشت، امن و امان اور بین الاقوامی استوار کاری کو نگل رہے ہیں تو دوسری طرف دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے اندرونی اور بیرونی فیصلوں میں بکھراؤ واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ اس تمام تر بحران، ہیجان اور شش و پنج کے درمیان جو خاموش اور سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والی قوت ابھر کر سامنے آئی ہے، وہ چین ہے۔ دنیا بھر کے باخبر مشاہدین اور سیاسی ماہرین اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ایران کے ساتھ الجھن اور معرکہ آرائی کا نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلے، اس کشمکش کا اصل پھل بیجنگ کی جھولی میں گر رہا ہے۔ امریکہ کی غیر متوقع اور غیر متوازن حکمتِ عملی نے چین کے تین اہم ترین اور طویل المدتی اہداف کی حاصل یابی کو بے حد تیز کر دیا ہے۔ ان اہداف میں مشرقِ وسطیٰ کو امریکہ کے اثر و رسوخ سے آزاد کرانا، عالمی برادری کو جدید چینی صنعت و فنی وسائل کا محتاج بنانا، اور بین الاقوامی سطح پر چین کو ایک سنجیدہ، پائیدار اور متوازن عالمگیر طاقت کے طور پر منوانا شامل ہے۔
خلیجی عرب ممالک جو دہائیوں سے واشنگٹن کی دفاعی چھتری کے نیچے زندگی گزار رہے تھے، اب اس بے یقینی کے عالم میں اپنے دفاع اور معاشی مستقبل کے لیے بیجنگ کی طرف دیکھنے لگے ہیں۔ امریکہ کا ایک قابلِ اعتماد اور قائم رہنے والا اتحادی نہ رہنا ان تمام ممالک کو اپنی خارجہ پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی پر مجبور کر رہا ہے۔ دوسری جانب اگر جغرافیائی معیشت کے نقطہ نظر سے جائزہ لیا جائے تو بظاہر ایک ایسا ملک جو اپنے ضرورت کے 70فیصد تیل کی در آمدات پر انحصار کرتا ہو، اسے توانائی کے اس عالمی بحران میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا چاہیے تھا، لیکن بیجنگ نے اس خطرے کا مقابلہ غیر معمولی تدبر، دور اندیشی اور حکمت سے کیا۔ چین نے سالوں پہلے سے ہی اپنے فراہم کنندگان کو متنوع بنایا، دنیا کے سب سے بڑے زاپتہ تیل کے ذخائر قائم کیے، کوئلے اور ایٹمی توانائیاں بڑھائیں اور اپنی معیشت کو برقی توانائی کے سانچے میں ڈھال لیا۔ جس کے نتیجے میں وہ اس شدید معاشی جھٹکے کو برداشت کرنے میں پوری طرح کامیاب رہا۔ اس کے برعکس امریکہ نہ صرف بھاری مالی وسائل اور فوجی ذخائر ضائع کر رہا ہے بلکہ اس کی اخلاقی اور سفارتی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ طاقت ہمیشہ نسبتی ہوتی ہے اور اگر امریکہ کے مقاصد، اتحاد اور اعتبار کو پہنچنے والے نقصان سے موازنہ کیا جائے تو چین بغیر کسی راست معرکے میں کودے اس جنگ کو جیت رہا ہے۔
اس تمام تر تنازع میں یہ سوال بھی نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ آخر کار ایران اور امریکہ کے درمیان یہ جنگ دوبارہ کیوں شروع ہوئی؟ اگرچہ اس لڑائی کا دوبارہ بھڑک اٹھنا تمام فریقین اور عالمی معیشت کو شدید نقصان اور خوف کی طرف دھکیل رہا ہے، لیکن اس کی اصل وجہ تہران کے وہ اندیشے ہیں جو واشنگٹن کی پالیسیوں سے جنم لے رہے تھے۔ ایرانی حکمرانوں کا پختہ خیال تھا کہ امریکہ جنگ بندی کے معاہدے اور ہرمز کی آبنائے کے ارد گرد قائم ہونیوالے اس توازن کو آہستہ آہستہ کمزور کر رہا ہے جس پر ان کی بقا اور تجارتی طاقت کا انحصار تھا۔ ایران کے لیے خاموشی سے اپنے اثر و رسوخ کا خاتمہ دیکھنا جنگ کے دوبارہ آغاز سے زیادہ خطرناک تھا۔ 14 نکات پر مشتمل سابقہ معاشی و دفاعی معاہدے کو قائم رکھنے اور امن کی طرف واپس لوٹنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ فریقین ایک دوسرے کی شرائط کو تسلیم کریں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مضبوط رابطہ کاری کا نظام وضع کریں۔ اگر اس باہمی احترام کو قائم نہ رکھا گیا تو جنگ اور بدامنی کا یہ سلسلہ بار بار دہرایا جاتا رہے گا۔
اس بیرونی کشمکش کے ساتھ ساتھ امریکہ کا داخلی سیاسی منظر نامہ بھی شدید انتشار کا شکار ہے۔ حال ہی میں ٹرمپ نے عوام سے اپنے تفصیلی خطاب کے دوران ملک کے انتخابی نظام کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے اور دعویٰ کیا کہ نظام میں شدید خامیوں کے باعث دھاندلی کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔ اگرچہ بعض مبصرین کا خیال تھا کہ یہ خطاب انتخابات کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے ایک شدید سیاسی حملہ ہوگا، لیکن حقیقت میں یہ محض ایک قانون ساز مسودے کی منظوری کی التجا تک محدود رہا۔ اس مجوزہ ووٹنگ قانون کو پاس کرانے کی دہائی دیتے ہوئے صدارتی خطاب میں یہ تاثر دیا گیا کہ مخالفین صرف اس لیے اس کی مخالفت کر رہے ہیں تاکہ وہ انتخابات میں دھوکہ دہی کر سکیں۔ تاہم قانون ساز ایوانوں میں اس قانون کی پیشرفت پوری طرح رک چکی ہے۔
اطلاعاتی اداروں اور تجزیہ کاروں کے ابتدائی جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ صدارتی خطاب کے دوران جاری کردہ دستاویزات میں کوئی نئی بات نہیں تھی بلکہ یہ وہی پرانی خامیوں کی نشان دہی تھی جو 2021 کی رپورٹوں میں پہلے ہی عام کی جا چکی تھیں۔ ان تمام دعووں میں کوئی ایسا ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا جس سے یہ ثابت ہو کہ کسی غیر ملکی طاقت نے ووٹوں کی تعداد میں تبدیلی کی ہے۔ اس کے باوجود انتخاب میں دھاندلی کا بیانیہ پھیلا کر عوام میں خوف و ہراس پیدا کیا جا رہا ہے اور بعض حلقے یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ آئندہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں فوج کو پولنگ اسٹیشنوں پر تعینات کرنے کے لیے ہنگامی قوانین کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ فوج کی قانونی صلاحیتوں کی حد بندی غیر واضح ہے، لیکن اس طرح کی بیانیے بازی سے جمہوریت کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو واشنگٹن کی یہ دوہری الجھن—بیرونی محاذ پر بلاوجہ کی معرکہ آرائیاں اور داخلی محاذ پر جمہوری اداروں سے عدم اعتماد—امریکہ کو عالمی سیادت کے مقام سے نیچے دھکیل رہی ہے۔ ان تمام خود ساختہ غلطیوں اور بے ترتیبیوں نے چین جیسی متوازن اور صبر آزما قوت کے لیے عالمی میدان کو بالکل صاف کر دیا ہے، جہاں وہ بغیر کوئی گولی چلائے ایک نئے عالمی نظام کا معمار بن کر ابھر رہا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here