دفاعی معاہدوں کے بعد اسلحے اور مواصلاتی نظام کی تجارت میں پاکستان کا بڑھتا کردار

0
2

دفاعی معاہدوں کے بعد اسلحے اور مواصلاتی نظام کی تجارت میں پاکستان کا بڑھتا کردار

عصری بین الاقوامی تعلقات اور دفاعی منڈیوں میں ایک بالکل نئی اور غیر معمولی تبدیلی رونما ہو رہی ہے جہاں علاقائی طاقتیں اپنی عسکری صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے باہم جڑ رہی ہیں۔ اس پس منظر میں افریقی اور مشرق وسطی کے ممالک کی جانب سے دفاعی ساز و سامان کی خریداری میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے جو دنیا بھر کے سٹریٹجک تجزیہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایک نمایاں پیش رفت کے تحت یہ طے پا چکا ہے کہ صومالیہ پاکستان سے جدید فضائی جہاز خریدے گا جن کی مالیت نو سو ملین ڈالر کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ یہ معاہدہ دونوں خطوں کے مابین دفاعی تعاون کے ایک نئے دور کا غماز ہے جس سے بحر ہند اور مشرقی افریقہ کے سکیورٹی ڈھانچے میں گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ صومالیہ کے علاوہ سوڈان بھی پاکستان کے فضائی ادارے سے تربیت یافتہ طیارے، جدید دفاعی نظام اور بغیر پائلٹ کے اڑنے والے طیارے حاصل کرنے کا خواہاں ہے اور اس پورے دفاعی پیکیج کی مالیت ڈیڑھ ارب ڈالر کے قریب خیال کی جا رہی ہے۔ افریقی خطے میں دفاعی تعاون کا یہ سلسلہ یہیں نہیں رکتا بلکہ حبشہ بھی یہ چاہتا ہے کہ پاکستانی فضائیہ اس کی فضائی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرے اور جنگی تیاریوں کے اعتبار سے اسے مزید مستحکم بنائے۔ اس کے ساتھ ساتھ لیبیا کی فوج بھی یہ چاہتی ہے کہ پاکستان کی زمینی اور فضائی افواج اس کے افسران اور جوانوں کی تربیت میں بھرپور معاونت فراہم کریں اور ساتھ ہی وہ پاکستان سے دفاعی ساز و سامان اور جنگی ہتھیار بھی خریدنے کی خواہش مند ہے۔
یہ تمام پیش رفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شمالی افریقہ اور قرن افریقہ کے ممالک اپنی عسکری خود کفالت اور دفاعی بہتری کے لیے اب روایتی مغربی مراکز کے بجائے پاکستان کی عسکری صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ دفاعی اور عسکری شعبے میں اس دو طرفہ تعاون کا دائرہ کار صرف فضائی اور زمینی ساز و سامان تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مواصلاتی رابطوں کی دنیا میں بھی ایک انقلابی قدم اٹھایا گیا ہے جس سے بہت سے لوگ تاحال ناواقف ہیں۔ پاکستان سے لے کر مشرقی افریقہ تک سمندر کی تہہ میں ایک انتہائی طویل اور جدید سمندر کے نیچے کی کیبل بچھا دی گئی ہے جسے مواصلاتی اور ابلاغی زبان میں زیر سمندر کیبلز کہا جاتا ہے۔ یہ کیبلز پانی کی تہوں میں سمندر کے اندر بچھائی جاتی ہیں جو کہ تیز رفتار مواصلات اور بین الاقوامی رابطوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں تاکہ دونوں خطوں کے مابین رابطے، معلومات کا تبادلہ اور باہمی گفت و شنید انتہائی محفوظ اور تیز ترین انداز میں ممکن ہو سکے۔ اس سلسلے میں ایک اہم ترین کیبل پہلے ہی بچھائی جا چکی ہے جسے پیس کیبل کا نام دیا گیا ہے اور اس کا مخفف پاکستان ایسٹ افریقہ کنیکٹنگ یورپ کیبل ہے۔ یہ طویل ترین کیبل اس طرح سے ڈیزائن کی گئی ہے کہ اس کے سمندری کنارے کے اترنے کے مقامات یعنی لینڈنگ سٹیشنز پاکستان میں گوادر اور کراچی کے اہم ساحلی علاقوں میں قائم کیے گئے ہیں۔ یہاں سے یہ کیبل سمندر کی گہرائیوں میں طویل سفر طے کرتی ہوئی خلیجی اور بحری گزرگاہوں سے گزرتی ہوئی افریقی ملک جبوتی کے ساحلوں پر جا کر ابھرتی ہے جہاں اس کا اگلا مواصلاتی نیٹ ورک جڑتا ہے۔
اس زیر سمندر مواصلاتی منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف پاکستان اور مشرقی افریقہ کے درمیان ڈیجیٹل اور مواصلاتی فاصلے سمٹ گئے ہیں بلکہ دونوں خطوں کے درمیان تجارتی، معاشی اور سٹریٹجک شراکت داری کو بھی ایک نیا اور مضبوط سہارا ملا ہے۔ اس پورے منظر نامے کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ پاکستان دفاعی پیداوار اور جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر سامنے آ رہا ہے جس پر افریقی اور ایشیائی ممالک کا اعتماد روز بروز بڑھ رہا ہے۔ یہ بڑھتا ہوا تعاون آنے والے دنوں میں خطے کے سیاسی اور عسکری توازن پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرے گا اور دو طرفہ تعلقات کی ایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here