حیران کن واقعات اور حادثات دنیا بھر میں جنم لیتے رہتے ہیں۔ یہ بات عام معلومات میں شامل ہے کہ سعودی عرب اور اس کے پڑوسی ممالک اپنے سخت قوانین کے تحت نظام چلاتے ہیں، مثلاً چوری، قتل اور دیگر سنگین جرائم پر سخت شرعی سزائیں دی جاتی ہیں اور ان پر جمعہ کی نماز کے بعد عمل درآمد کیا جاتا ہے۔
البتہ ایسا واقعہ یا بے حرمتی کا معاملہ پہلے شاید کبھی سامنے نہیں آیا۔ اس واقعے اور اس کے نتیجے میں دی جانے والی سزا کی تفصیلات کے حوالے سے کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل تفصیلات سعودی حکام کی طرف سے مکمل طور پر منظرِ عام پر نہیں لائی گئیں۔ بس اتنا بتایا گیا کہ ایک بنگلہ دیشی میاں بیوی کو جمعہ کی نماز کے بعد میدان میں لے جا کر ان کے سر قلم کر دئیے گئے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے عمرہ ادا کرنے کے بعد ایک دوسرے سے گلے مل کر شکر ادا کیا یا مبارکباد دی۔ اگر خانہ کعبہ کے اندر وہ میاں بیوی ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے تھے تو انہیں گرفتار کر کے ان پر مقدمہ چلایا جاتا اور بنگلہ دیشی قونصلیٹ کو بروقت اطلاع دی جاتی، مگر یہ تمام معلومات سزا پر عمل درآمد کے بعد سامنے آئیں۔ اگر بات صرف میاں بیوی کے گلے ملنے تک کی تھی تو اس کی سزا کسی بھی طور پر سر قلم کرنا نہیں ہو سکتی۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ واقعی میاں بیوی تھے تو گمان یہی ہے کہ معاملہ کچھ اور تھا جس کی وجہ سے سعودی حکومت کو یہ سخت قدم اٹھانا پڑا۔
یہ خبر پڑھ کر اور سن کر تکلیف تو ہوتی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ سبق بھی ملتا ہے کہ اگر آپ سعودی عرب میں موجود ہوں تو جذبات سے زیادہ سمجھ داری سے کام لیں، کیونکہ وہاں مقدمے کے دوران طویل قانونی سہولیات کے بجائے قاضی کے سامنے گواہوں اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے جلد ہو جاتے ہیں۔ ان کے ناموں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شوہر کا نام نذر الاسلام عبد البشر تھا اور بیوی کا نام سیتی اختر تھا، اور انہیں 14 اکتوبر کو یہ سزا دی گئی۔ بعد میں اخبارات میں شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق دونوں پر مسجد الحرام کے اندر غیر مہذب یا جنسی فعل کا مرتکب ہونے کا الزام لگایا گیا۔ شاید وہ دونوں جذبات کی رو میں بہہ گئے تھے، بے حد خوش تھے اور نو بیاہتا ہونے کے باعث جوشِ جوانی میں یہ بھول گئے کہ وہاں کی انتظامیہ کا ردِعمل کیا ہو سکتا ہے۔ کسی بھی مقام پر موجود ہوں، انسان کو اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہیے۔
انسان کو اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات بنایا ہے، اس لیے غصہ آئے یا جذبات ابھریں، اپنے احساسات کو کنٹرول میں رکھنا ضروری ہے۔ اسی طرح کسی بھی دوسرے ملک کا سفر کرنے سے پہلے وہاں کے قوانین و قواعد کے بارے میں آگاہی حاصل کر لینی چاہیے۔ اسپین میں واقع مسجدِ قرطبہ کو دیکھنے کی خواہش کئی لوگوں کو ہوتی ہے، لیکن وہاں کے مقامی گائیڈ پہلے ہی آگاہ کر دیتے ہیں کہ کوئی بھی مسلمان مسجدِ قرطبہ کے اندر نماز پڑھنے کی کوشش نہ کرے۔ مسجدِ قرطبہ میں نماز پڑھنے کے لیے قالین نہیں بچھے ہوئے بلکہ ننگا فرش ہے جہاں سیاح جوتے پہنے مسجد سے کیتھڈرل اور کیتھڈرل سے مسجد میں آتے جاتے ہیں اور 128 ستونوں پر کھڑی یہ تاریخی عمارت الگ ہی منظر پیش کرتی ہے۔ ایک واقعے میں قمر امروہوی عباسی نے وہاں نفل ادا کیے تو فوراً ہی پولیس نے انہیں تحویل میں لے لیا اور اندر لے جا کر پوچھ گچھ اور ہدایات کے بعد چھوڑ دیا۔ تاہم ایک اور سفرنامے میں قمر بشیر صاحب کی طرف سے نماز کی ادائیگی کا ذکر ملتا ہے جو وہاں کے حالات کے مطابق ممکن نہیں معلوم ہوتا کیونکہ وہاں اس کی بالکل اجازت نہیں۔
سعودی عرب اور بالخصوص مکہ مکرمہ میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کا انجام انتہائی دردناک ہو سکتا ہے، کیونکہ ویانا کنونشن کی ہدایات کے باوجود میزبان ملک اپنے ملکی قوانین کی پاسداری کو ترجیح دیتا ہے۔ اس بنگلہ دیشی جوڑے کا اس طرح دنیا سے رخصت ہو جانا بلاشبہ ایک انتہائی افسوس ناک اور غم ناک واقعہ ہے۔














