گونگے ،بہرے اور اندھے!!!

0
2
شبیر گُل

اللہ رب العزت کا احسانِ عظیم ہے کہ اس نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا، ایمان کی دولت نصیب فرمائی، رسولِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بنایا اور پاکستان جیسی نظریاتی مملکتِ خداداد عطا فرمائی۔ لیکن ہم بحیثیت قوم ناشکرے ثابت ہوئے ہیں۔ ہم نے نہ بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی قدر کی اور نہ ہی واحد نظریاتی جماعت، جماعتِ اسلامی پاکستان کی قدر کی، جو امانت و دیانت کے اہل لوگوں پر مشتمل ایک ایسی جماعت ہے جس کی زندگی کا مشن خدمتِ خلق ہے اور جو اپنے کردار و افکار میں سیاسی تماشا بینیوں سے بالکل الگ ہے۔
بحیثیت قوم ہمارا المیہ رہا ہے کہ ستر سال سے ہم غیر نظریاتی، جابر اور ظالم حکمرانوں کے ساتھ کھڑے رہے۔ ہم منافقوں، ڈاکوؤں، وطن فروشوں، فرقہ پرستوں اور جاہلوں کا ساتھ دیتے رہے اور بے دین، بے لگام اور بے حیا عناصر کو سپورٹ فراہم کرتے رہے۔ ہماری مثال ایسی ہے کہ ہم پہلے گاجریں کھاتے ہیں اور پھر پیٹ کے درد کا رونا روتے ہیں۔ ہم نالائق سیاسی گماشتوں کی شخصیت پرستی اور پوجا کرتے ہیں جو پہلے جرنیلوں کے بوٹ پالش کرتے ہیں، ان کے کاندھوں پر بیٹھ کر اقتدار میں پہنچتے ہیں اور پھر اختیارات کا رونا روتے ہیں۔ جن کے طفیل انہیں اقتدار کا نشہ چڑھتا ہے، ان ہی کی سختی سے ان کا نشہ ہرن ہوتا ہے۔ اقتدار کا نشہ شراب کے نشے سے ذرا مختلف ہوتا ہے۔ شراب کے نشے میں مخمور انسان بہکی بہکی حالت میں رہتا ہے، مگر اقتدار کے نشہ میں انسان تکبر اور بد دماغی میں اپنے جیالوں، یوتھیوں اور پٹواریوں کو بھول جاتا ہے۔ اقتدار سے اترتے ہی وہ جمہوریت کی باتیں کرنا شروع کر دیتا ہے اور جن کارکنوں کو بھول چکا ہوتا ہے، اچانک ان کی یاد ستانے لگتی ہے۔ جرنیلوں کے ان اتحادیوں کو ووٹ کو عزت دو، مجھے کیوں نکالا، ابسولیٹلی ناٹ، جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کی سیاست یاد آ جاتی ہے۔ یہ وہ مسخرے ہیں جو عوام کے سینے پر مونگ بھی دلتے ہیں اور ان سے جھوٹے وعدے و ہمدردی بھی جتاتے ہیں۔
یہ وہی بدعنوان کردار ہیں جنہوں نے ملک کو پچاس سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اس اشرافیہ کا شرم، حیا اور غیرت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں اور یہ وہ کرپٹ ترین افراد ہیں جو روزِ اول سے ملک پر مسلط ہیں۔ اندھوں میں کانا راجہ کے مصداق ایسی لیڈرشپ عوام پر حکمرانی کر رہی ہے۔ جب قوم اندھی اور لوگ گونگے، بہرے اور نابینا ہو جائیں تو ایک آنکھ والا کانا ہی راجہ ہوا کرتا ہے۔ جب لوگ جاہل ہوں تو تعلیم کی کوئی اہمیت نہیں رہا کرتی کیونکہ جہالت انسان کو ذہنی طور پر مفلوج کر دیتی ہے۔ ہمارے ملک کا نظامِ تعلیم ایسا ہے جہاں سوچوں پر تالے، عقل پر پردہ اور ذہن پر قفل لگ چکے ہیں۔ اسی اشرافیہ کے چیلے چانٹوں اور معاشی دہشت گردوں نے پورے نظام کو یرغمال بنا رکھا ہے اور غیروں کے ایجنٹ اس نظریاتی مملکت پر قابض ہیں۔ امریکہ اور یورپ کے یہ حواری یورپ میں لگی آگ سے پریشان ہیں کیونکہ امریکہ اور ایران کے کشیدہ حالات نے پوری دنیا میں تیل کے بحران کی وجہ سے کساد بازاری برپا کر رکھی ہے۔ یورپ میں مہنگائی کے خلاف مظاہروں میں شدت آ چکی ہے، لوٹ مار عام ہو چکی ہے اور بڑے اسٹورز لوٹ لیے گئے ہیں۔ یورپ اور امریکہ کی سرپرستی میں قائم اسرائیل کا گریٹر اسرائیل کا ایجنڈا ناکام ہو چکا ہے اور اس کی اتحادی عرب ریاستوں کی بادشاہتیں خطرے میں ہیں۔ سرمائے دارانہ نظام تیزی سے لرزہ براندام ہے اور مغرب کے ایجنٹ مسلم حکمرانوں پر مشکل وقت آنے والا ہے۔
ریاستِ پاکستان اس وقت دہشت گردی، قبضہ مافیا اور سیاسی بلیک میلنگ کے حصار میں ہے۔ ریاست سے یہ سوال ہے کہ عسکری قیادت کے پاس اربوں کی جائیدادیں، اسٹیبلشمنٹ کے حامی علماء کے پاس اربوں کے اثاثے اور سیاسی گماشتوں کے پاس اربوں کھربوں کی جائیدادیں کہاں سے آئیں؟ لینڈ کروزر مافیا کے ساتھ چلنے والے درجنوں مسلح محافظوں اور گاڑیوں کے بل اور تنخواہیں کہاں سے ادا کی جاتی ہیں؟ نہ کوئی احتساب ہے اور نہ ہی حکومت کی کوئی قلمرو ہے۔ طاقتور طبقہ آئین و قانون کو پاؤں تلے روندتا ہے۔ سیاست دانوں نے فوجی وردی اور فوج نے سیاسی چادر اوڑھ رکھی ہے۔ ملک میں نہ کوئی مؤثر نظام ہے، نہ قانون اور نہ ہی آئین پر عمل داری ہے۔ بڑا لٹیرا بڑے عہدے پر فائز ہے اور بڑا آئین شکن سب سے بڑا طاقتور بنا ہوا ہے۔ سابق عسکری عہدیداروں، بینکرز، ججز، بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کی بیرونِ ملک جائیدادوں کا جائزہ لینا چاہیے کہ ان کے پاس یہ دولت کیسے آئی اور ان کا احتساب کون کرے گا؟
یہ لازمی ہونا چاہیے کہ سیاست دانوں، بیوروکریٹس اور حکومتی افسران کے بچے پاکستان کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کریں اور پاکستان کے ہسپتالوں سے علاج کروائیں۔ دورانِ ملازمت انہیں ملک سے باہر کوئی جائیداد خریدنے کی اجازت نہ ہو اور سرکاری افسران و بیوروکریٹس کو دوہری شہریت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ دوہری شہریت رکھنے والوں کو سرکاری ملازمت نہیں ملنی چاہیے اور اس پر سخت قانون سازی ہونی چاہیے۔ موجودہ نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ ہر ادارے میں نااہل اور بدعنوان عناصر بیٹھے ہیں، سیاست پر قبضہ مافیا کا راج ہے، عسکری و انتظامی بابو مراعات اور پلاٹوں کے حصول میں مصروف ہیں اور بیوروکریٹس و ججز بیرونِ ملک شہریت حاصل کر رہے ہیں۔ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں اقتدار سے باہر ہوں تو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بولتی ہیں اور اقتدار میں ہوں تو ریاست کے گن گاتی ہیں۔ عوام کو ان کی اس روش کو سمجھنا چاہیے اور اقتدار میں ان کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے۔
مختلف سیاسی جماعتیں گزشتہ 40 سال سے مسلسل اقتدار میں شریک رہی ہیں اور دیگر جماعتیں بھی 13 سال سے اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہیں۔ عوام نے ان کی کارکردگی کو کئی سال سے دیکھا ہے، ان کی بدعنوانی، پروٹوکولز، بلٹ پروف قافلوں اور اللے تللوں کو بار بار دیکھا ہے۔ اس کے باوجود اگر عوام اپنے ووٹ کا درست استعمال کرنے سے قاصر ہیں تو یہ نہایت افسوسناک ہے۔ ان مفاد پرست عناصر کی حمایت کرنے والے مہنگائی، بے روزگاری اور بدعنوانی کا رونا تو روتے ہیں لیکن فیصلے کے وقت غلط انتخاب کرتے ہیں۔
پاکستان میں ایماندار اور دیانت دار قیادت جماعتِ اسلامی کی شکل میں موجود ہے، جو اخلاق و کردار میں ان سیاست دانوں سے بدرجہا بہتر ہے۔ خدمتِ خلق میں ان کا کوئی ثانی نہیں اور انہیں آخرت کی جواب دہی کا احساس، فکرِ آخرت اور خوفِ خدا ہے۔ اسی لیے وہ تعلیم، صحت اور خدمتِ خلق کے میدان میں عملی طور پر متحرک ہے۔ کراچی کی شہری حکومت میں جماعتِ اسلامی کی کارکردگی ان لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے جنہوں نے کراچی کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا تھا۔ کراچی کے 9 ماڈل ٹاؤنز پورے پاکستان کے لیے امید کی کرن ہیں۔ اگر جماعتِ اسلامی کو ملک کا اختیار ملا تو پاکستان کی تقدیر کیسے بدلے گی، اس کا عملی ثبوت کراچی کے 9 ٹاؤنز کی بے مثال کارکردگی ہے۔
محدود وسائل اور انتظامی رکاوٹوں کے باوجود جماعتِ اسلامی کے ٹاؤن چیئرمینز نے امانت، دیانت اور اپنے اختیار سے بڑھ کر عوام کی خدمت کر کے دکھائی ہے۔ ان شائ اللہ، اکتوبر، نومبر، دسمبر اور جنوری کے دوران کراچی کے 9 ٹاؤنز میں روزانہ کی بنیاد پر ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کیے جائیں گے اور ساڑھے تین سال کی کارکردگی عوام کے سامنے رکھی جائے گی۔ بڑے اور مرکزی منصوبوں کا افتتاح امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن خود فرمائیں گے۔ جماعتِ اسلامی کا یہ پیغام پورے پاکستان کے لیے ہے۔ اگر جماعتِ اسلامی صرف 9 ٹاؤنز کے محدود وسائل میں کراچی کی تقدیر بدل سکتی ہے، تو سوچیے کہ اگر اس باصلاحیت اور ایماندار قیادت کو پورے پاکستان کا اختیار ملے تو یہ ملک کتنا خوشحال اور ترقی یافتہ بن سکتا ہے۔
آئیے، کراچی کی اس مثال کو پورے پاکستان تک پہنچانے کے مشن کا حصہ بنیں اور جماعتِ اسلامی کی اس عوامی خدمت اور تعمیری جدوجہد میں ساتھ دیں۔ ملک میں بے روزگاری کے خاتمے، بدعنوانی اور لینڈ مافیا کے قلع قمع اور عوام کی مشکلات میں کمی کے لیے حل صرف جماعتِ اسلامی ہے۔ بحیثیت قوم اگر ہم نے اپنی بے حسی اور غلط ترجیحات کو ختم نہ کیا تو انہی لٹیروں کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہوتے رہیں گے۔ اللہتبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں شعور عطا فرمائے تاکہ ہم فیصلہ سازی میں اندھے، بہرے اور گونگے نہ بنیں اور اللہ رب العزت اس مملکتِ خداداد کی حفاظت فرمائے اور ظالم و بدعنوان عناصر سے قوم کی جان چھڑائے، آمین۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here