سڑک بند ہوتی ہے تو صرف گاڑیوں کے پہیے نہیں رکتے، کسی کی روزی، کسی کی امید اور کسی کی ضرورت بھی ٹھہر جاتی ہے مگر اختیار کی گاڑی میں بیٹھ کر شاید انتظار کی طوالت محسوس نہیں ہوتی۔ شیشے کے اس پار راستہ صاف ہے اور اس پار کھڑا انسان سوچتا ہے کہ ریاست کی نگاہ میں اس کے وقت، زندگی اور وقار کی کیا قیمت ہے؟ پاکستان میں اہم شخصیات کی نقل و حرکت کے دوران راستوں کی بندش عوامی مشکلات کا بڑا موضوع ہے۔ روزنامہ دی نیشن نے 5 اکتوبر 2026 کے اداریے میں قافلوں اور ٹریفک کی بندش سے شہریوں کے وقت، کاروبار اور ضروری خدمات تک رسائی پر پڑنے والے بوجھ کی نشان دہی کی، لیکن مسئلہ محض گاڑیوں کی قطار نہیں بلکہ ان کے اندر بیٹھی زندگیوں کی بے بسی بھی ہے۔ تصور کیجیے، رکی ہوئی ایمبولینس میں زخمی درد سے تڑپ رہا ہے، ماں کی گود میں بیمار بچہ نڈھال ہے اور وہ کبھی بچے کا چہرہ دیکھتی ہے تو کبھی بند راستے کو دیکھتی ہے۔ دوسری طرف ایک بیٹا اپنے بزرگ باپ کا ہاتھ تھامے بیٹھا ہے جس کی اکھڑتی سانسیں اس کا خوف بڑھا رہی ہیں۔ یہ کسی مخصوص سانحے کی روداد نہیں بلکہ بند راستے کی ممکنہ انسانی قیمت کا ایک تصور ہے۔ ایسے لمحے میں انتظار کریں اور ہٹو بچو محض ہدایت نہیں رہتی بلکہ بے بسی کا امتحان بن جاتی ہے۔ آخری سانسیں لیتے بزرگ کے اہل خانہ کو قافلے کی اہمیت کیسے سمجھائی جائے؟ زخمی کی کراہٹ اور ماں کی فریاد کے سامنے انتظام کی کامیابی کا معیار صرف صاحب کی بحفاظت روانگی کیسے ہو سکتا ہے؟
پروٹوکول جب تحفظ سے بڑھ کر طاقت کی نمائش بن جائے تو حفاظت سے زیادہ دہشت اور تفریق کا تاثر دیتا ہے۔ رکاوٹیں تب صرف ٹریفک نہیں روکتیں بلکہ انسانوں کے درمیان ایک واضح لکیر بھی کھینچ دیتی ہیں۔ ایک طرف وہ ہیں جن کے لیے راستے خالی ہوتے ہیں اور دوسری طرف وہ جن کی ضرورتیں انتظار کرتی ہیں۔ کالے شیشوں کے اس پار منظر کچھ اور ہوتا ہے، وہاں صاف راستہ، رواں قافلہ اور منزل تک پہنچنے کا اطمینان ہے، جبکہ اس پار شدید دھوپ، گاڑیوں کی لمبی قطار اور بڑھتی بے چینی ہے۔ کیا اختیار انسان کو خطرے سے بچاتے بچاتے دوسروں کی تکلیف دیکھنے سے بھی محفوظ کر دیتا ہے؟
دوسری طرف 23 ستمبر 2026 کو نیویارک کے میئر ظہران ممدانی اور آئرلینڈ کے وزیراعظم میہول مارٹن نے سب وے میں سفر کیا۔ اگرچہ دونوں جگہوں کے حفاظتی حالات یکساں نہیں ہیں، مگر یہ منظر بتاتا ہے کہ اعلیٰ منصب اور عام شہریوں کے درمیان موجودگی ایک دوسرے کی ضد نہیں ہے۔ سوال حفاظت ختم کرنے کا نہیں بلکہ اسے عوام سے غیر ضروری فاصلے کا جواز نہ بنانے کا ہے۔
آئین پاکستان کا آرٹیکل 25(1) کہتا ہے کہ تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہیں اور قانون کے مساوی تحفظ کے حق دار ہیں۔ اس برابری کا عملی تقاضا یہ ہے کہ شہری کی ہنگامی ضرورت بھی انتظامی ترجیح بنے۔ ایمبولینس کے لیے فوری گزرگاہ، اہلکاروں کو ہنگامی فیصلے کا اختیار، کم دورانیے کی بندش اور واضح متبادل راستے انتظام کا لازمی حصہ ہونے چاہئیں۔ ماں کی گود میں بیمار بچے کا کوئی عہدہ نہیں ہوتا، زخمی کے پاس سفارش نہیں ہوتی اور آخری سانس لیتا بزرگ اپنا تعارف نہیں کروا سکتا، ان کی ضرورت ہی ان کا تعارف ہے۔ مگر جہاں راستہ کھلوانے کے لیے بیماری سے زیادہ حیثیت درکار ہو، وہاں عام آدمی کس دروازے پر دستک دے؟ اگر قافلہ گزر جائے اور کسی کی سانسوں کی مہلت ختم ہو جائے تو اسے کس کھاتے میں لکھا جائے گا اور کیا یہ انتظام کی کامیابی ہے یا انسانیت کی شکست؟














