911ملزمان کے اعتراف جرم معاہدے منسوخ

0
4

نیویارک (پاکستان نیوز)سپریم کورٹ نے 911کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور ان کے دو ساتھیوں کے ساتھ طے پانیوالے اعتراف جرم کے معاہدوں کو منسوخ کرنے کے پینٹاگون کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلیں خارج کر دیں۔دہشت گردانہ حملوں کے اہم ملزم خالد شیخ محمد اور ان کے دو دیگر ساتھیوں مصطفیٰ الہوساوی اور ولید بن عطاش کے ساتھ کیے گئے پلی بارگین معاہدوں کو منسوخ کرنے کا سابق وزیر دفاع للوئڈ آسٹن کا فیصلہ بحال رکھا ہے۔ اعلیٰ ترین عدالت کے اس حکم کے بعد مقدمے کی سماعت ایک بار پھر ملٹری کمیشن کے سپرد کر دی گئی ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے اس اہم ترین کیس کا فیصلہ کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ ان معاہدوں کی منسوخی کا بنیادی مقصد ملزمان کے لیے سزائے موت کے آپشن کو باقی رکھنا ہے، جس کی مخالفت میں متاثرین کے خاندانوں نے بھی شدید احتجاج کیا تھا۔ یہ پلی بارگین معاہدے سال 2024 میں طویل مذاکرات کے بعد طے پائے تھے، جن کے تحت ملزمان کو تمام الزامات قبول کرتے ہوئے عوامی سماعت کے دوران متاثرین کے سوالات کے جوابات دینا تھے، اور اس کے عوض انہیں سزائے موت سے استثنیٰ ملنا تھا۔ تاہم اس وقت کے وزیر دفاع للوئڈ آسٹن نے فیصلے کے اختیار کو اپنے پاس رکھتے ہوئے اچانک ان معاہدوں کو منسوخ کر دیا تھا۔ اگرچہ ایک ملٹری جج نے ان معاہدوں کو قانونی قرار دیا تھا، لیکن بعد میں اپیلٹ کورٹ اور اب سپریم کورٹ نے انتظامیہ کے موقف کو درست تسلیم کر لیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد مقدمے کے حتمی منطقی انجام تک پہنچنے میں مزید کئی سال تاخیر ہو سکتی ہے کیونکہ سی آئی اے کی تحویل میں ملزمان پر کیے جانے والے تشدد اور اس دوران حاصل کردہ ثبوتوں کی قانونی حیثیت جیسے پیچیدہ مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here