نیویارک (پاکستان نیوز)نیویارک کے سابق میئر ایرک ایڈمز کے قریبی ساتھی اور چیف آف اسٹاف فرینک کیرون سمیت کئی افراد کو وفاقی رشوت ستانی کے ایک بڑے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی شہر کے ایک سرکاری ٹھیکے میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کے سلسلے میں عمل میں لائی گئی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق اس کیس میں فرینک کیرون کے بھائی اور دو دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔تحقیقاتی اداروں نے اس معاملے پر تاحال زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں، تاہم توقع ہے کہ فرد جرم کی تفصیلات جلد ہی منظر عام پر آ جائیں گی۔ گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب شہر میں انتظامی امور اور سرکاری ٹھیکوں کے عمل پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، فرینک کیرون کے وکیل آرتھر ایڈالا نے اس کارروائی کو مسترد کرتے ہوئے اسے کمزور قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فرد جرم محض قیاس آرائیوں پر مبنی ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے پہلے ایک ہدف کا انتخاب کیا اور پھر تین برس تک وسائل ضائع کر کے اس کے خلاف کوئی نہ کوئی جرم گھڑنے کی کوشش کی۔ ادھر سابق میئر ایرک ایڈمز کے ترجمان ٹوڈ شاپیرو نے اپنے ایک بیان میں فرینک کیرون کی برسوں پر محیط عوامی خدمات کی تعریف کی اور اسے ایک افسوسناک معاملہ قرار دیا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ یہ معاملہ قانونی عمل کے تحت ہے اور ان کی ہمدردیاں کیرون کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ وفاقی حکام کی جانب سے اس کیس کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے شہر کی سیاست میں بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔












