ایک ارب ڈالر کا میڈیکیڈ فراڈ بے نقاب

0
2

نیویارک (پاکستان نیوز)وفاقی عدالت نے میڈیکل انٹرنیٹ پلیٹ فارم کے ذریعے جعلی طبی نسخے بنا کر وفاعی صحت کے پروگراموں سے ایک ارب ڈالر سے زائد کا فراڈ کرنیوالے مرکزی ملزم اور ہیلتھ اسپلش کمپنی کے مالک بریڈ بلیک مین کو 19 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ امریکی وزارتِ انصاف کے مطابق ملزم اور اس کے ساتھیوں نے ملک بھر میں لاکھوں مریضوں کو غیر ضروری طبی آلات لینے پر آمادہ کیا اور نام نہاد ڈاکٹروں سے جعلی نسخوں پر دستخط کرا کر وفاعی صحت کے ادارے کو بِل بھیجے۔ اس نظام کے تحت مختلف دواخانوں، طبی آلات کی کمپنیوں اور مارکیٹنگ کرنے والوں کو ایسی کمپنیوں سے ملایا جاتا تھا جو رشوت کے بدلے جعلی ارڈر تیار کرتی تھیں، اور ملزم ہر ارڈر پر اپنا حصہ وصول کرتا تھا۔ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ڈاکٹروں نے کبھی مریضوں سے بات تک نہیں کی لیکن پھر بھی ایسے ٹیسٹ اور آلات کے بِل بھیجے گئے جو غیر قانونی تھے۔ اس فراڈ سے متاثرہ افراد کی تعداد 346000 سے زائد تھی، جبکہ 1200 سے زائد افراد کے نام پر درجنوں جعلی ارڈر جاری کیے گئے۔ مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر سے زائد کے بِل بھیجے گئے جن میں سے 450 ملین ڈالر سے زائد کی رقم ادا کی جا چکی تھی۔ طویل سماعت کے بعد عدالت نے ملزم کو صحت کے شعبے میں دھوکہ دہی اور رشوت خوری کی سازش میں مجرم قرار دیا۔ اس سے قبل اس کیس میں شامل ایک اور شریکِ جرم گیری کاکس کو 15 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here