فرانس میں احتجاج پر تشدد ہنگاموں میں تبدیل ؛ ہزاروں گرفتار

0
4

نیویارک (پاکستان نیوز)فرانس بھر میں طالب علموں اور مزدور یونینوں کی جانب سے جاری شدید احتجاجی لہر نے ملک گیر بے چینی اور پرتشدد ہنگاموں کی شکل اختیار کر لی ہے۔ تعلیم کے شعبے میں فنڈز کی کمی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی ابتری کیخلاف شروع ہونیوالے ان مظاہروں میں اب تک 2400 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد زخمی ہوئی ہے۔ فرانس کے مختلف شہروں میں صورتحال اس حد تک کشیدہ ہو چکی ہے کہ لیموڑ اور مارسیے میں تاریخی بلدیاتی عمارتوں کو آگ لگا دی گئی جبکہ بوردو، رین اور تولوڑ میں بھی سرکاری دفاتر کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ فرانسیسی حکومت نے بگاڑ کو روکنے کے لیے پیرس، نائس اور لیون کے مخصوص حصوں میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ اندرونِ ملک شدید دباؤ کے بعد وزیرِ داخلہ نے ناقص انتظامی حکمتِ عملی اور امن و امان پر سے کنٹرول چھوٹنے کا اعتراف کرتے ہوئے استعفے کی پیشکش کی جسے ملک کے صدر نے رد کرتے ہوئے سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مظاہرین کی جانب سے بین الاقوامی سیاحتی مراکز اور عجائب گھروں کے راستے بند کیے جانے سے معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ لیبر یونینز نے 5 نومبر کو مزید وسیع ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے جس سے حالات مزید سنگین ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ بیرونِ ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے سفارتی سطح پر معلوماتی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ وہ متاثرہ علاقوں میں سفر سے گریز کریں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here