نیویارک (پاکستان نیوز)وفاقی عدالت میں داعش کی تاریخ میں پہلی بار کسی امریکی خاتون خلیمہ سلمان کیخلاف دہشت گرد تنظیم سے ملٹری تربیت حاصل کرنے کے مقدمے کی حتمی سماعت مکمل ہو گئی ہے۔27 سالہ خلیمہ سلمان پر الزام ہے کہ انہوں نے شام میں قیام کے دوران خواتین کے مسلح دستے سے رائفلیں چلانے اور عسکری تربیت حاصل کی۔سرکاری وکلاء نے جیوری کے سامنے ثبوت کے طور پر ایک دستخط شدہ دستاویز پیش کی جس کے تحت خلیمہ کو اے کے 47 رائفل اور کارتوس فراہم کیے گئے تھے، جبکہ ان کے شوہر کے فون سے ملنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں بھی انہیں ہتھیار سنبھالتے دیکھا گیا۔ دوسری جانب دفاعی وکلا کا موقف ہے کہ حکومت کے پاس ایسا کوئی عینی شاہد یا مستقیم ثبوت موجود نہیں جو یہ ثابت کر سکے کہ ملزمہ نے باقاعدہ کسی عسکری کیمپ میں تربیت حاصل کی تھی۔ خلیمہ سلمان نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے بتایا کہ وہ 17 برس کی عمر میں اپنے والد کے ساتھ ناواقفیت کی بنا پر شام گئیں، جہاں بعد میں ان کی شادی ایک داعشی جنگجو سے کروا دی گئی۔ انہوں نے ملٹری تربیت کے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔ اگر عدالت میں جرم ثابت ہو جاتا ہے تو ملزمہ کو 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ بریت کی صورت میں تمام الزامات ختم کر دیے جائیں گے۔ جیوری کے فیصلے کے بعد جج کی جانب سے حتمی سزا کا اعلان کیا جائے گا۔










